انسانی شعور کا ارتقا، منٹو کا نفسیاتی تـجزیہ

یہ دو کتابیں یعنی ڈاکٹر خالد سہیل کی انسانی شعور کا ارتقا اور ڈاکٹر سید محمد حسن کی سعادت حسن منٹو (ایک نفسیاتی تجزیہ) ادب اور نفسیات کی مشترک قدر رکھتی ہیں۔ ڈاکٹر حسن کی کتاب منٹو کے باطن تک رسائی حاصل کرنے اور اظہار کو نئے رُخ سے دیکھنے کی کوشش ہے جب کہ ڈاکٹر سہیل اکیسویں صدی کے انسان کو ان عوامل اور محرکات کے بارے میں بتاتے ہیں جو اسے ایک دوراہا بنا چکے ہیں وہ اسے فیصلے کی گھڑی قرار دیتے ہیں۔

انسان کو سوچنے پر آمادہ کرنے کی کوشش

نام کتاب: انسانی شعور کا ارتقا

مصنف: ڈاکٹر خالد سہیل

صفحات: 158

قیمت: 250 روپے

ناشر: ناشر: سٹی بُک پوائنٹ۔ نوید سکوائر، اردو بازار، کراچی

E=mail:citybookurdubazaar@gmail.com

اگر میں غلط نہیں، تو ڈاکٹر خالد سہیل ان لوگوں میں سے ایک ہیں، جو معاشرے کو ایک ایسی شکل میں دیکھنا چاہتے ہیں جس میں ہر انسان کسی امتیاز کے بغیر انسان کے طور پر اور انسانی سطح پر زندہ رہے اور اس مقصد کی ایک ضروری شرط کے طور پر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انسان کو اپنے گرد وپیش کو سمجھنا چاہیے، ماضی و حال کے بارے میں جاننا چاہیے اور اس حوالے سے جو کچھ سوچا، کہا اور لکھا گیا ہے، انھیں اس کا علم ہونا چاہیے۔

میں نے اس سے پہلے ان کی دو کتابیں دیکھی ہیں۔ پہلی: ایک باپ کی اولاد، تھی اور دوسری شیزو یا شائزو فرینیا۔ ان کی دوسرے کتابوں کے بارے میں علم مجھے اب ہوا ہے۔ اس کتاب کے بیک ٹائیٹل پر ان کے نام ہیں لیکن یہ نہیں پتا چلتا کہ کتابیں کب کب اور کہاں سے شائع ہوئیں۔

موجودہ کتاب سمیت کُل بائیس کتابیں ہیں جن میں شاعری اور افسانوں کے تین تین مجموعے اور دو ناولٹ اور چھ مجموعے مختلف ملکوں اور زبانوں کے ادب کے تراجم کے ہیں اور موجودہ مجموعے سمیت آٹھ مجموعے فلسفے، نفسیات، سماجیات اور سیاسیات کے تعلق رکھنے والے مضامین کے ہیں۔

ان کے عنوانات دیکھ کر ہی اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی فکر کا دائرہ کن مسائل کو آج کے انسان کے علم میں ہونا ضروری سمجھتا ہے۔ 1:بھگوان، ایمان، انسان- فلسفیانہ مضامین کے تراجم، 2: انفرادی اور معاشرتی نفسیات، 3: مغربی عورت، ادب اور زندگی، 4: کالے جسموں کی ریاضت- افریقی ادب کے تراجم، 5: ایک باپ کی اولاد- فلسطینی اور اسرائیلی ادب کے تراجم، 6: ہر دور میں مصلوب اور لیبین ادب کے تراجم، 7: خدا، مذہب اور ہیومن ازم، فلسفیانہ مضامین کے تراجم اور 8: ورثہ- عالمی لوک کہانیوں کے تراجم۔ ذرا سوچیے اور بتائیے کہ آپ کے ذہن میں، اس آدمی کی کیا تصویر بنتی ہے جو اتنی جہتوں میں سوچتا ہے؟

سیاسی مضامین کے دو انتخاب اس کے علاوہ ہیں جو ’سماجی تبدیلی- ارتقا یا انقلاب‘ اور ’القاعدہ، امریکہ، پاکستان‘ کے ناموں سے شائع ہوئے ہیں۔

اب آپ کسی حد تک خالد سہیل کو ضرور جان گئے ہوں گے۔ ان کی موجودہ کتاب میں کچھ مضامین تو تراجم ہیں اور کچھ خود ان کے اپنے ہیں۔

سائنس اور مذہب:آئن سٹائن، سراب کا مستقبل: سگمنڈ فرائڈ، جدید انسان کا روحانی مسئلہ: کارل ینگ اور ایمان- شخصیت کا ایک رُخ: ایرک فرام، وہ مضامین ہیں جو ڈاکٹر سہیل نے خود ترجمہ کیے ہیں۔

انسانی نفس (سائیکی) روح یا ذہن / نوع انسانی کے مصائب کے سات اسباب / سیکولر اخلاقیات اور سات انسان دوست مفکرین / امن کے معمار / انسانی ارتقا میں صوفیوں، فنکاروں اور سائنسدانوں کا کردار / انسانی ارتقا کا اگلا قدم / روایتی اکثریت اور تخلیقی اقلیت اور تاریخی ملاقات، غالبًا ڈاکٹر سہیل کے انگریزی میں لکھے گئے مضامین ہیں جن کے تراجم باترتیب ڈاکٹر بلند اقبال، امیر حسین جعفری، ڈاکٹر منصور حسین، عبدالغفور چودھری، عظمٰی محمود، رفیق سلطان اور گوہر تاج نے کیے ہیں۔

اس کے علاوہ ’چارلز ڈارون اور انسانی ذہن کا ارتقا‘، ’مذہب اور سائنس‘، ’مذہب اور روحانیات‘، ’روحانی تجربات- سائنس اور نفسیات کے آئینے میں‘ اور ’سیکولر ہیومن ازم‘ ایسے مضامین ہیں جو ڈاکٹر سہیل نے اردو میں ہی لکھے ہیں۔

ان مضامین کے ابتدائیے میں ان کا کہنا ہے کہ انسانوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر فیصلہ کرنا ہے کہ تباہی و بردبادی اور امن و آشتی کے دوراہے پر کھڑی اکیسویں صدی میں وہ کس راستے کا انتخاب کرتے ہیں۔

کیا مشرق و مغرب میں انفرادی اور اجتماعی طور پر انسان انتخاب کرنے کو پوزیشن میں ہے؟ کیا دنیا کے تقدیر کے سیاسی فیصلے کرنے والوں کے آلۂ کار ذرائع ابلاغ انھیں حقیقی صورتِ حال کو سمجھنے اور پھر انتخاب اور فیصلہ کرنے کا موقع دے سکتے ہیں؟

ہم صرف یہ کر سکتے ہیں کہ علم اور دانش کے فروغ میں حصہ لیں اور اسی راستے پر چلیں جس پر چلنے کی خواہش نے اس کتاب کو جنم دیا ہے۔ لیکن کتاب تک رسائی اور اس کی مسلسل دستیابی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ گو اردو ابھی اس طرح ویب بیسڈ نہیں ہے لیکن ڈاکٹر سہیل کو چاہیے کہ وہ اپنی تمام کتابیں انٹرنیٹ پر دستیاب کرانے کی کوشش کریں۔

یہ کہنا غیر ضروری ہے کہ مذکورہ کتاب میں خالد سہیل نے یا ان کے ساتھیوں نے جن مضامین کے ترجمے کیے گئے ہیں وہ کس قدر رواں ہیں۔ مجھے ان کے طبع زاد مضامین، ان کے تراجم اور خود ان کے مضامین کے تراجم میں کوئی زیادہ فرق محسوس نہیں ہوا۔

اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ بظاہر یہ چھوٹی سی کتاب انتہائی اہم ہے۔ جوسٹین گارڈر کی کتاب کا ترجمہ پڑھتے ہوئے مجھے خیال آیا تھا کہ تراجم پر مشتمل اور کچھ دیگر ایسی کتابوں کی ایک اردو ویب سائٹ بنائی جانی چاہیے جو اردو پڑھ سیکھنے اور انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنے والوں کو آزاد ذہن کی تشکیل میں مدد دے سکے۔

اگر اس خیال نے کبھی عملی شکل اختیار کی تو یقینی طور پرڈاکٹر خالد سہیل کی یہ ’انسانی شعور کا ارتقا‘ ان کتابوں میں لازمًا شامل ہو گی جو اس مقصد کے لیے منتخب ہونی چاہیں۔

کتاب کی پروڈکشن عمدہ ہے۔ ٹائٹل بھی موضوع سے ہم آہنگ اور اکُسانے والا ہے۔ پروفینگ کی غلطیاں انتہائی کم ہیں۔ میرے خیال میں قیمت کچھ کم ہو سکتی تھی۔

تو کیا منٹو بھی ذہنی مریض تھا؟

نام کتاب: سعادت حسن منٹو (ایک نفسیاتی جائزہ)

مصنف: ڈاکٹر سید محمد حسن

صفحات: 144

قیمت: 200 روپے

ناشر: ناشر: سٹی بُک پوائنٹ۔ نوید سکوائر، اردو بازار، کراچی

E=mail:citybookurdubazaar@gmail.com

فرہاد زیدی نہ صرف ایک سینئر صحافی ہیں، بلکہ ہمارے ان بزرگوں میں سے جن کا وجود اب تک ہمارے لیے ایک مدرسے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگرچہ مجھے کبھی ان کے ساتھ کام کرنے کا اتفاق نہیں ہوا لیکن گاہے بگاہے ان سے مختصر ملاقاتوں اور مختلف مجلسوں میں ان کی تقریروں اور گفتگوؤں سے فیضیابی کا موقع ملتا رہتا ہے۔

ایک ایسی ہی تقریب میں ، جو کراچی آڑٹس کونسل میں سعادت حسن منٹو کی صد سالہ تقریبات کے حوالے سے تھی، انھوں نے منٹو سے اپنی ملاقات کا ذکر کیا۔ ان کی یہ ملاقات لاہور سے ایک زمانے میں باقاعدگی سے شائع ہونے والے اور خاص نمبروں کی اشاعت سے شہرت پانے والے ’نقوش‘ کے دفتر میں ان دنوں ہوئی تھی جب منٹو صاحب نقوش کے منٹو نمبر کے لیے کہانیاں لکھ رہے تھے۔

زیدی صاحب کے مطابق منٹو صاحب نقوش کے دفتر میں آتے، طفیل صاحب سے 25 روپے لیتے، کہانی دیتے اور چلے جاتے۔ ایسے ہی ایک دن وہ آئے تو کہنے لگے کہ پورے ہندوستان میں ان سے بڑا کوئی افسانہ نگار نہیں ہے، وہاں موجود سب لوگوں نے ان کی تائید کی، اس پر انھوں نے اس وقت کے نام ور افسانوں کے نام لیے اور کہا کہ ان سب کو ان کے ساتھ بٹھا کر کہانی لکھوائی جائے ، تب صحیح فیصلہ ہو گا۔ اس پر ظاہر ہے خاموشی طاری رہی۔

اس پر منٹو صاحب نے اپنا رائٹنگ پیڈ زیدی صاحب کی طرف بڑھایا اور ان سے کہا کہ وہ اس پر کوئی بھی جملہ لکھیں وہ اس پر کہانی لکھیں گے۔ زیدی صاحب نے کچھ تکلف کے بعد لکھ دیا ’اس لڑکی کے جسم میں مجھے اس کی آنکھیں سب سے زیادہ پسند تھیں‘۔ منٹو صاحب نے ’اچھا‘ کہا۔ اور وہیں بیٹھ کر 35 یا 40 منٹ میں افسانہ لکھ دیا۔ اس کہانی کا نام ’آنکھیں‘ رکھا گیا۔

منٹو صاحب نے جانے سے پہلے وضاحت کی کہ زیدی صاحب نے انھیں مشکل میں ڈال دیا تھا کیونکہ وہ افسانے فرسٹ پرسن میں نہیں لکھتے۔ غالبًا زیدی صاحب کا یہ خطاب آصف فرخی کے ’دنیا زاد‘ کے کسی شمارے میں شائع ہوا ہے۔

زیر تبصرہ کتاب میں منٹو صاحب کی افسانہ نگاری کے اس پہلو کی بھی نشاندہی کی گئی ہے اور اس کی نفسیاتی توجیح بھی کی گئی ہے۔

ویسے تو اس کتاب میں: منٹو کے خاندانی حالات، منٹو کی ابتدائی زندگی، فلمی دنیا سے وابستگی، زندگی کا آخری دور، کتبہ، ازدواجی زندگی، عادات و خصائل، مزاج اور افتادِ طبع، ذہنی کشمکش اور اور داخلی انتشار، جنسی رجحانات، فحش نگاری، افسانوں میں کلیدی کردار عورتیں- مرد، شخصیت کا تضاد اور بے ربطی، چند نفسیاتی حقائق، بیسواؤں اور معاشرے میں بدنام عورتوں سے ہمدردی، جنسی پاک بازی، عورتوں کے سینے کی اشتعال انگیز تصویر کشی، شراب نوشی کا ڈھنڈورہ، افسانوں کے بعض کرداروں سے مماثلت اور منٹو کے ترقی پسندانہ افسانے کے عنوانات سے باب قائم کیے گئے ہیں جن سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ منٹو اور ان کے افسانوں کو کیسے کیسے دیکھا گیا ہے۔

اس کتاب میں منٹو کے ڈراموں اور مضامین کو موضوع نہیں بنایا گیا۔ ڈراموں کے بارے میں یقینًا کچھ دشواری ہوتی کیوں کہ ان میں سے بیشتر ریڈیو کے لیے لکھے گئے تھے اور ان میں سے بعض میں رد و بدل بھی کیا گیا تھا، لیکن ایسے ڈرامے چند ایک ہی ہوں گے۔ لیکن مضامین کو چھوڑ دینا ناقابلِ فہم ہے۔ خیر اب تو کچھ نہیں ہو سکتا۔

کتاب کے شروع ہی میں مصنف نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ ’منٹو کی شخصیت پرجب ہم نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں حیرت انگیز تضاد الجھاؤ اور بے ربطی کا مشاہدہ ہوتا ہے‘۔

ان کا کہنا ہے کہ اسی بات نے انھیں منٹو کی شخصیت کے تجزیے کی ترغیب دی۔ تا کہ ان کی شخصیت کی گتھی کو سلجھا سکیں۔

ڈاکٹر محمد حسن نے وضاحت کے ساتھ امید ظاہر کی ہے کہ قاری اس غلط فہمی کے شکار نہیں ہو جائیں گے کہ منٹو کی شخصیت کے تجزیے سے ’اس کی عظمت پر کسی طرح کی آنچ آئے گی‘۔ ان کا خیال ہے کہ اس سے منٹو کی انفرادیت اور انوکھا پن اور زیادہ اجاگر ہو گا اور انہیں کہیں زیادہ اونچے مقام پر پہنچا دے گا۔

اس کے حق میں وہ لیونارڈو اونچی کی شخصیت کے بارے میں سگمنڈ فرائڈ کے تجزیے کا حوالے دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ فرائڈ کو بھی یہی اندیشہ تھا کہ کہیں اس کا تجزیہ قاری کو ڈاؤاونچی کے بارے میں غلط فہمی کا شکار نہ بنا دے۔ ظاہر ہے دونوں باتیں محض اندیشے تک ہی رہی ہیں۔

ڈاکٹر محمد حسن 1910 میں پیدا ہوئے 1948 میں انھوں نے ایڈنبرا یونیورسٹی سے نفسیات میں ڈاکٹریٹ کی۔ انھوں نے نفسیات پر انگریزی میں کئی کتابیں لکھیں۔ وہ خود بھی افسانہ نگار تھے، انھوں نے کل سات افسانے لکھے جو ’انوکھی مسکراہٹ‘ کے نام سے کتابی شکل میں شائع ہوئے۔

اس کتاب کے مندرجات سے علم ہوتا ہے کہ جب اس کتاب کا پہلا ایڈیشن ان کی زندگی شائع ہوا، غالبًا ہندوستان سے، لیکن کتاب کے اس ایڈیشن میں، جو غالبًا پاکستان سے شائع ہونے والا پہلا ایڈیشن ہے اس کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

کتاب کے اس ایڈیشن کا ایک تعارف اے خیام نے لکھا ہے، جو خود بھی افسانہ نگار ہیں۔ خود مصنف نے بھی پیش لفظ میں کتاب کی اشاعت اور پیش لفظ کا سنہ نہیں دیا۔ جس کا سبب سمجھ میں نہیں آتا۔

حد تو یہ ہے کہ مصنف کا جو خاکہ اس کتاب میں شامل کیا گیا ہے اس میں بھی یہ نہیں بتایا گیا کہ مصنف کا انتقال ہو چکا ہے۔ اس صورت میں تحقیق کے لیے جو بھی اس کتاب پر انحصار کرے گا اُسے یقینًا دشواری پیش آئے گی۔ لیکن جہاں تک عام پڑھنے والے کا تعلق وہ یقینًا متن سے منٹو کے کئی افسانوں کو نئے رخ سے دیکھنے کا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

اس کتاب کو بنیاد بنا کر اس کام کو یقینی طور پر مزید آگے بڑھانے کی بہت گنجائش اور ضرورت ہے۔

اسی بارے میں