تخلیقی امکانات کی موت کس شمار میں؟

گزشتہ بدھ کو پاکستان آرٹس کونسل کراچی میں مرحوم شاعر شمیم نعمانی کے کتاب ’نکہت زار‘ کی تقریب اجرا ہوئی۔ ان کی شاعری کو کتابی شکل میں زیادہ سے زیادہ 1960 کے اردگرد شائع ہو جانا چاہیے لیکن وہ ان کے انتقال کے بھی 38 سال بعد شائع ہوئی ہے۔

شمیم نعمانی کا اصل نام چشتی احمد خان شمیم تھا۔ وہ 31 مارچ 1912 کو اجمیر، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ جس سکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی بعد میں اُسی میں پہلے مدرس اور پھر صدر مدرس یا ہیڈ ماسٹر بنے۔

جب پاکستان بنا تو وہ جبل پور آرڈیننس فیکڑی سے وابستہ تھے۔ پاکستان آ کر بھی انھوں نے سرکاری ملازمت کی، راولپنڈی، پشاور، ایبٹ آبار اور لاہور کے بعد کراچی ٹرانسفر ہوا، 1971 میں سبک دوش ہوے اور 1975 میں انتقال کر گئے۔

انھوں نے اپنے شعری سفر کی ابتدا 1935 میں، یعنی ترقی پسند ادب کی تحریک شروع ہونے سے ایک سال پہلے، نیاز فتح پوری کے مشہور رسالے ’نگار‘ میں شائع ہونے سے کی۔ آج یہ بات بالکل بھی اہم نہیں لگتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس زمانے میں بنیاد پرستی کے بارے میں باتیں کرنے والے اکثر دانشوروں تک کو یہ معلوم نہیں کہ برِصغیر میں بنیاد پرستی کو ایک مسئلے کے طور پر پیش کرنے اور اس کے خطرات سے آگاہ کرنے والا پہلا ادیب اور دانش ور کون تھا۔

اس زمانے میں اگر کوئی نیاز فتح پوری کے جریدے میں شائع ہوتا تھا تو اس کے بارے میں تمام پڑھنے والوں کو علم ہو جاتا تھا کہ اس کا قبلہ کس طرف ہے۔

’نگار‘ میں شائع ہونے کے ساتھ ساتھ شمیم نعمانی کا کلام ’نیرنگِ خیال‘، ’ساقی‘، ’عالمگیر‘، ’استقلال‘، ’رحجان‘ اور دیگر ادبی جرائد میں بھی شائع ہونے لگا اور اسی سے عبدالحمید عدم اور اختر شیرانی ان کے قریبی دوست بنے۔

لیکن ان سب باتوں کے باوجود شمیم نعمانی کی شاعری کتابی شکل میں کیوں شائع نہیں ہوئی یا ان کا تشخص ایک شاعر کو کیوں نہ بنا؟

جب کہ پروفیسر سحر انصاری کا کہنا ہے کہ شمیم نعمانی کی شاعری ایک ایسے بیدار شخص کی شاعری ہے جو اپنے عہد کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ مستقبل پر نظر ڈالنے کے بھی صلاحیت رکھتا ہے۔

نقاد اور ادیب علی حیدر ملک کا کہنا تھا کہ شبنم نعمانی کی شاعری ایک ایسا دریچہ ہے جس کے ذریعے ہم ایک پورے عہد کو چلتا پھرتا دیکھ سکتے ہیں۔ ان کے لہجے میں اساتذہ کا رنگ بھی ہے اورروشن خیالی بھی۔

Image caption عالیہ لودھی نے نکہت زار کا نسخہ پروفیسر سحر انصاری کو پیش کیا

اس دور معروف اور نئی نسل کے شاعر خالد معین کا کہنا تھا کہ شاعری کی طاقت کو جانچنے کا پیمانہ یہ ہے کہ وہ وقت گذرنے کے باوجود بھی پرانی نہ لگے اور شمیم نعمانی کی شاعری پچاس سال گزرنے کے بعد بھی اس کسوٹی پر پوری اترتی ہے۔

نقاد اوجِ کمال کا کہنا تھا کہ شمیم نعمانی کی شاعری کو پڑھتے ہوئے تازگی کا احساس ہوتا ہے جو ان کی نظموں اورغزلوں میں کسی چلمن کی اوٹ سے جھانکتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔

شمیم نعمانی نے ایسی شاعری بھی کی اور پسماندگان میں تین بیٹے بھی چھوڑے۔ بڑے اقبال احمد جو ریڈیو کے ڈرامہ نگار ہونے کے ساتھ ڈائجسٹوں کے لیے کہانیاں لکھنے والے سرفہرست لوگوں میں شامل ہیں اور سنا ہے کہ منھ مانگے معاوضے پر کہانیاں لکھتے ہیں۔

منجھلے انوار احمد لکھنے لکھانے کی طرف تو نہیں گئے لیکن کسی نوع کے افسر وغیرہ ہیں۔ چھوٹے اخلاق احمد ہیں جو روزناموں سےہوتے ہوئے ہفتہ وار ’اخبار جہاں‘ کی ادارت تک پہنچے اور اب ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی کے نگراں ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ افسانے لکھتے ہیں اور ان کے افسانوں کے دو مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ یعنی والد کی ادبی وراثت کے امین ہیں۔

میرے خیال میں یہی وجہ تھی، جس نے چشتی احمد خان شمیم کو شمیم نعمانی نہیں بننے دیا۔

جب تک کوئی شاعر یا ادیب کُل وقتی شاعر اور ادیب نہیں ہوتا تب تک بالعموم اس کا تشخص شاعر اور ادیب کا نہیں ہو پاتا اور جتنی جس شاعر ادیب میں نرگسیت، خودپسندی اور خود غرضی ہوتی ہے اتنا ہی اس کا شعری اور ادبی تشخص بنتا ہے۔

اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اگر آپ میں صرف یہ نرگسیت، خود پسندی اور خود غرضی ہے تو آپ ضرور ادیب یا شاعر بن جائیں گے لیکن اگر آپ میں شعری اور ادبی میلان کے ساتھ بظاہر منفی سمجھی جانے والی خود غرضی کی خصوصیت نہیں ہے تو میلان کے باعث شعر و ادب میں آئیں گے تو ضرور لیکن اس میں رہ نہیں پائیں گے۔

ادب کا کوئی کلیہ یا مفروضہ ریاضیاتی نہیں ہو سکتا، اس لیے اس کے برخلاف مثالیں بھی یقینًا مل جائیں گی۔ لیکن شمیم نعمانی نے جس طرح ابتدا کی تھی اگر ان کی شخصیت میں دوسرا میلان بھی ہوتا تو وہ اپنی زندگی ہی میں کئی شعری مجموعے دیکھ سکتے تھے جس کے نتیجے میں کم از کم انھیں اپنے بارے میں خود کوئی فیصلہ کرنے کا موقع مل سکتا تھا۔ ایک ذمہ دار انسان چشتی احمد خان نے شمیم نعمانی کو جکڑے رکھا۔

انوار احمد نے کیا پتے کی بات کی ہے: ’ہمارے گھر میں مفلسی نہیں تھی لیکن وہ تنگ دستی ضرور تھی جو رزقِ حلال کمانے والے نادان خاندانوں میں ہوتی ہے۔ والد صاحب اپنی قلیل آمدن سے کلام کی اشاعت کو ترجیح نہیں دیتے تھے بلکہ اولاد کی بہتر تربیت پر خرچ کرنا مناسب سمجھتے تھے۔ اولاد انھیں اپنی شہرت سے زیادہ عزیز تھی‘۔

آرٹس کونسل کے نائب صدر محمود احمد خان نے تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ کتاب کی اشاعت پر شبنم نعمانی کے صاحبزادگان کے علاوہ اس داد کی مستحق ان کی سب سے چھوٹی بہو عالیہ لودھی ہیں جنھوں نے نصف صدی بعد پرانے مسودات اور دستاویزات جمع کر کے اس مجموعے کو ترتیب دیا۔

میں نہیں جان سکا کہ عالیہ نے وہ کام کیوں کر ڈالا جس کی ذمے داری ان سے زیادہ ان دوسروں پر تھی اور وہ نشر و اشاعت میں بھی ہیں۔

شمیم نعمانی کی شاعری کی اشاعت کی اگر اب کوئی اہمیت ہو گی تو صرف سماجی نوعیت ہی کی ہو گی لیکن اس کتاب کی اشاعت یہ سوال ضرور پیدا کرتی ہے کہ وہ شمیم نعمانی جو چشتی احمد خان کے شکنجے نہیں نکل پائیں گے، جو اچھے انسان، اچھے شوہر، اچھے باپ بھی ہونا چاہیں گے اور جنھیں عالیہ لودھی بھی میسر نہیں آئیں یا نہیں آئیں گی ان کے تخلیقی وجود کے امکانات کی موت کس شمار میں آئے گا؟

اس تقریب کی ایک اور اہم بات یہ تھی کہ اس کی نظامت کے فرائض ہمارے اور آپ کے وسعت اللہ خان نے انجام دیے۔

اسی بارے میں