چی گویرا کی ڈائری، بدھا کی کتھائیں

چی گویرا کے آخری گیارہ ماہ کی یادداشتیں اور مہاتما بدھ کی کہانیاں ایک مشترک قدر رکھتی ہیں یہ قدر تصورِ حقیقت کی ہے۔ مہاتما بدھ کی دنیا میں تمام انسان ہی نہیں جانور بھی ایک ہیں۔ چی کا ان لوگوں سے دنیا کو واپس لینا چاہتا ہے جو اپنی غرض میں انسان کو انسان بھی رہنے دیتے۔ بدھ اور چی میں سب کچھ تجنے کی قدر بھی مشترک ہے۔

اس نے چو سوچا اس پر عمل بھی کیا

نام کتاب: چے گویرا کی ڈائری

ترجمہ: ابن حسن

صفحات: 176

قیمت: 250 روپے

ناشر: ناشر: سٹی بُک پوائنٹ۔ نوید سکوائر، اردو بازار، کراچی

E=mail:citybookurdubazaar@gmail.com

اب تو چے گویرا کو دنیا کا بڑا حصہ جانتا ہے اور اس بڑے حصے میں ایسے لوگوں کی تعداد بھی کچھ کم نہیں جو اس زمانے سے واقف بھی نہیں ہیں جس میں 14 جون 1928 کو ارجنٹینا میں پیدا ہونے والا ارنیسٹو گویرا لاسیرنا چی گویرا بنا۔

دنیا بھر میں نوجوان ایسی ٹی شرٹیں پہنتے ہیں جن پر چی گویرا کی وہ تصویر چھپی ہوتی ہے جس میں وہ اپنے مخصوص انداز کے بال اور داڑھی اور ٹوپی والی تصویر پہنے مسکراتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

اس ٹی شرٹ کو پہننے والے یقینی طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ اس ٹی شرٹ کو پہن کر وہ اس خواب کا حصہ بن جاتے ہیں جو چی نے دیکھا تھا اور جس کے لیے اس نے اپنا سب کچھ چھوڑ دیا۔

چی کے بارے میں یہ ساری تفصیل اس کتاب میں کسی حد تک موجود ہے، جس کا اردو ترجمہ شائع کیا گیا ہے۔

یہ کتاب چی گویرا کی ایک سال کی یادداشتوں پر مشتمل ہے۔ اس میں ایک مضمون فیڈل کاسترو کا ہے، جس میں وہ چی گویرا کا تعارف بھی کراتے ہیں اور اس کی ان ڈائریوں کے بارے میں بھی بتاتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: یہ ثابت ہو چکا ہے کہ چی لڑتے ہوئے مارا گیا۔ اس کی ایم 2 رائفل کی نالی ایک گولے سے بالکل بے کار ہو گئی تھی۔ اس کے پستول میں گولیاں نہیں تھیں۔ اس بے بسی میں اسے زندہ گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے ٹانگوں میں اتنے زخم تھے کہ وہ چل بھی نہیں سکتا تھا۔ اسی حالت میں اسے ہگوراز لے جایا گیا۔ فوجی افسروں نے اُسے قتل کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایک سکول میں اس فیصلے پر عمل درآمد کی تفصیلات سب کو معلوم ہیں۔

بولیویا کے امریکی تربیت یافتہ اس پر گولیں چلانے میں جھجھک رہے تھے۔ چی نے ایک فوجی افسر سے جس کا نام ٹران کہا ’ڈرو مت، گولی چلاؤ‘ لیکن ٹران چی کے سامنے سے ہٹ گیا۔ افسروں نہ پھر حکم دہرایا۔ ٹران کی مشین گن گولیاں اگلنے لگی۔ سب گولیاں چی کو کمر سے نیچے لگیں۔ اس لیے کہ حکم یہی تھا کہ گولیاں سر یا سینے پر ایسے زخم نہ لگائیں کہ موت فورًا ہو جائے۔ چی کی جانکنی کی کیفیت طویل ہو گئی۔ آخر ایک مدہوش سارجنٹ نے چی کو زندگی کے آخری دموں سے نجات دلا دی۔

چی باقاعدگی سے ڈائری لکھتا تھا۔ یہ اس کے آخری سال کے گیارہ مہینوں کے اندراجات پر مشتمل ہے۔ اندراجات 7 نومبر 1967 سے شروع ہوتے ہیں اور 7 اکتوبر 1968 پر ختم ہوتے ہیں۔

چی کو 9 اکتوبر کو گرفتار کیا گیا۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا کہ 8 اکتوبر کیسا گذرا ہو گا، یقینًا اتنا مصروف کہ چی کو کچھ لکھنے کا موقع ہی نہیں ملا ورنہ تو کاسترو کے مطابق چی تمام مہموں کے دوران بھی تمام واقعات اپنی ڈائری میں لکھتا رہتا تھا۔

کاسترو کا کہنا ہے کہ یہ یادداشتیں کہیں چھپنے کے لیے نہیں لکھی گئی تھیں۔ لیکن ان سے واقعات، حالات اور انسانوں کو پرکھنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ نوٹ بہت سنبھل کر لکھے گئے ہیں اور شروع سے آخر تک ان میں مسلسل ربط ہے۔

کاسترو اس ڈائری کے بارے میں بتاتے ہیں کہ یہ بیری انیٹو کی حکومت کے ہاتھ لگی، جس نے اس کاپیاں سی آئی اے اور امریکی فوجی ہیڈ کوارٹر وک دیں۔ سی آئی اے سے وابستہ جو اخبار نویس بولیویا میں تھے انھیں اس دستاویز تک رسائی اس شرط پر تھی کہ وہ اسے شائع نہیں کریں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ ڈائری ان کے پاس کیسے پہنچی اس کا انکشاف ابھی نہیں کیا جاسکتا لیکن یہ کہنا کافی ہو گا کہ اسے خریدا نہیں گیا اور اگرچہ اس ڈائری کے مستند ہونے میں کوئی شبہ نہیں تھا پھر بھی اس تمام فوٹو کاپیوں کا سخت تجزیے کیا گیا۔ اس کا ایک اور ڈائری سے موازنہ کیا گیا۔ دوسرے واقعات کے چشم دید زبانی بیانات سے بھی تصدیق کی گئی‘۔

کاسترو کے مطابق اس مہین اور مشکل تحریر کو پڑھنا بہت محنت طلب تھا، اس میں چی کی اہلیہ اور چی کے ایک رفیق الیدامارچ ڈیگویرا نے بہت مدد کی۔

یادداشتوں کے علاوہ اس کتاب میں چی گویرا کے دو خط بھی ہیں۔ ایک خط کاسترو کے نام ہے اور دوسرا اپنے بچوں کے نام۔

کاسترو کے نام خط میں چی لکھتے ہیں: مجھے لگتا ہے کہ میں نے اپنے فرض کا وہ حصہ ادا کر دیا ہے جس نے مجھے کیوبا کی سرزمین اور انقلاب سے منسلک رکھا۔ سو میں تم سے، ساتھیوں سے اور تمھارے عوام سے جو کبھی کے میرے ہو چکے ہیں، رخصت ہوتا ہوں۔ کوئی قانونی بندھن مجھے اب کیوبا کے ساتھ نہیں باندھے ہے، جو بندھن ہیں وہ ایک اور نوعیت کے ہیں ایسے بندھن جنھیں اپنی مرضی سے توڑا نہیں جا سکتا۔

اور آگے وہ کہتے ہیں: مجھے افسوس ہے کہ میں اپنے بچوں اور بیوی کے لیے کچھ چھوڑ کر نہیں جا رہا۔ میں ان کے لیے کچھ نہیں چاہتا، میں جانتا ہوں کہ ریاست ان کے اخراجات اور تعلیم کے لیے انھیں خاطر خواہ رقم دے دیا کرے گی۔

بچوں کے نام خط میں چی کا کہنا ہے: کسی دن تم میرا خط پڑھو گے، تم مجھے تقریبًا بھول چکے ہو گے اور وہ جو ننھے منے ہیں انہیں تو میں بالکل یاد نہیں رہوں گا۔ تمھارا باپ ایک ایسا آدمی تھا جس نے جو سوچا اُس پر عمل کیا۔ یقین رکھو وہ اپنے نظریات سے مکمل طور پر وفادار رہا۔

یاد رکھو اگر کوئی چیز اہم ہے تو انقلاب، اس کے مقابلے میں ہماری ذات، ہمارا وجود کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔

یہ کتاب، اس کا ایک ایک لفظ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اگرچہ اب انقلاب کا وہ زمانہ نہیں ہے۔ اس کے باوجود کہ تضادات ختم نہیں ہوئے ہیں اور ایک نئی شکل اختیار کر گئے ہیں۔ شاید تاریخ کی جدلیات کے نتیجے میں۔ لیکن چی گویرا اور ان جسیے لوگوں کی زندگیاں ایک ایسا ماڈل ہیں جو ہمیں ایسی حقیقی وابستگی کے بارے میں بتاتی ہیں جس کی ضرورت شاید کبھی ختم نہیں ہوگی۔

کتاب کا ترجمہ خراب نہیں ہے لیکن نظرثانی کی جاتی تو اور بہتر ہونے کی گنجائش تھی لیکن کچھ جلد بازی کے آثار ہیں۔ کتاب عمدہ اور خوبصورت چھپی ہے۔ قیمت بھی نامناسب نہیں ہے۔

جاتک کہانیاں: گوتم بدھ کی زندگیاں

نام کتاب: جاتک کہانیاں

ترتیب: نور عنایت

ترجمہ: آصف فرخی

صفحات: 152

قیمت: 400 روپے

ناشر: سنگِ میل پبلی کیشنز۔ 25 شاہرہِ پاکستان (لوئر مال) لاہور 54000

E[mail:smp@sang-e-meel.com

چوتھی صدی قبلِ مسیح کے کپل وستو میں پیدا ہونے والے گوتم بدھ کے بارے میں تو کچھ بتانے کی ضرورت نہیں، اردو پڑھنے والوں میں کم ہی لوگ ہوں گے جو ان کے بارے میں نے جانتے ہیں۔ لیکن ان کہانیوں کے بارے میں جو کچھ ممتاز افسانہ نگار انتظار حسین اور مترجم آصف فرخی نے بتایا ہے کم از کم اس کتاب کے حوالے سے اتنا جاننا ہی ضروری ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ ان کہانیوں کے متن کو مہاتما بدھ کے چیلوں نے ان کے کسی اور جنم کے لیے رخصت ہونے کے بعد 483 قبل مسیح میں ہونے والے اجتماع میں جمع کرنے کا فیصلہ کیا۔

آصف کے مطابق یہ ’کہانیاں پہلے پہل پالی زبان میں سنائی اور لکھی گئیں‘، پالی اس وقت ہندوستان عوامی زبان تھی۔ اس کے بعد ہی یہ کہانیاں فارسی، عربی، جارجیائی، یونانی، عبرانی، فرانسیسی، ہسپانوی، اور انگریزی میں پہنچیں۔

آصف کا کہنا ہے کہ ان کہانیوں کی تحقیق کرنے والوں کے مطابق 745 کے لگ بھگ ہے۔ ان میں اور غیر مستند کہانیاں بھی شامل ہو چکی ہیں۔

’اردو پڑھنے والوں پر انتظار حسین کا احسان ہے کہ انھوں نے جاتک کتھاؤں اور ایسی پرانی داستانوں کو نئے سرے سے دریافت کر کے ہمارے لیے تخلیقی ماخذ کا درجہ دے دیا‘۔

آصف فرخی نے جس کتاب سے ان کہانیوں کا ترجمہ کیا وہ Jataka Tales retold by Noor Inayat Khan کے نام سے چھپی۔

نام سے ہی ظاہر ہے کہ یہ کہانیاں یا کتھائیں پھر سے لکھی گئی ہیں اور جب بھی کوئی کہانی پھر سے سنائی جاتی ہے تو سنانے والے کے پاس اس کا کوئی سبب ہوتا ہے۔ ٹیپو سلطان کی پڑپوتی اور امریکی ماں سے ماسکو میں پیدا ہونے، اور انگریزی و فرانسیسی کے سوا کوئی اور زبان نہ جاننے والی نور عنایت نے ایسا کیوں کیا؟ اس بارے میں کچھ پتا نہیں چلتا۔

نور عنایت کے بارے میں بہت کچھ اس کتاب میں بتا دیا گیا ہے لیکن ان کی کہانی اپنی جگہ خود ایسی ہے کہ اس پر کئی ناول لکھے گئے ہیں اور فلم بھی بن چکی ہے۔ لیکن یہ ضرور ذہن میں رکھنا چاہیے کہ یہ ان کے لکھنے لکھانے یا ان کتھاؤں کو جمع کرنے کی وجہ سے نہیں، بلکہ جنگ کے دوران فرانس میں ایسی برطانوی خفیہ ایجنٹ کے طور پر کام کرنے کی وجہ سے جو آخر جرمن خفیہ ادارے گسٹاپو کے ہاتھ چڑھ گئی، جس نے انھیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا اور آخر مار بھی دیا۔

یہ کہانیاں گوتم بدھ کے آواگون، یعنی ایک کے بعد ایک جنم لیتے جانے پر انحصار کرتی ہیں، مہاتما بدھ کہہ رہے ہیں:

میں تم لوگوں کا بدھ بن کر پہلی بار نہیں آیا ہوں۔ میں اس سے پہلے بھی کئی بار آیا ہوں۔ کبھی بچوں کے درمیان بچہ بن کر، کبھی جانوروں میں ان جیسا بن کر، اور کبھی دریاؤں، پہاڑوں اور پھولوں میں۔

ان کتھاؤں کو کئی لوگوں نے دیکھا اور پڑھا ہو گا لیکن انھیں اردو میں کرنے کا خیال انتظار حسین کی تحریک پر آصف فرخی کو آیا۔ اب پڑھنے والے چاہیں تو بدھ اور ان کی کتھاؤں اور نور عنایت، انتظار حسین اور آصف فرخی کی درمیانی کڑیوں کو تلاش کرنے کا کام بھی کر سکتے ہیں۔

جو لوگ ایسا کرنا چاہیں ان کے مدد کے لیے انتظار حسین کی وہ تحریر خاصی کام آ سکتی ہے جو انھوں نے اس کتاب کے لیے لکھی ہے اور کتاب میں شامل بھی ہے۔ لیکن اس سے پہلے ان کی یہ بات سُن لیں:

انگریزی میں اکثر انتخاب کرنے والوں نے ایک غضب یہ کیا ہے کہ درمیان میں سے کہانی نکال لی ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ انگریزی ترجمہ والوں کی زیادہ توجہ ’بدھ جی کے اپدیشوں‘ یعنی نصیحتوں پر رہی ہے۔ کہانی کے آگے پیچھے کو فالتو جان کر چھوڑ دیا گیا ہے، یعنی شامل نہیں کیا گیا۔

انتظار حسین نے اس انتخاب میں شامل میں کتھاؤں کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ مجھے ان میں کہانیاں دکھائی دی ہیں، آپ بھی پڑھ کر دیکھ لیں۔ لیکن میرا خیال ہے کہ انتظار حسین نے ان کہانیوں کی وسعت سے شاعری کو جو چیلنج کیا ہے اس کے بارے میں انھیں شمس الرحمٰن سے فاروقی سے معاملہ کرنا پڑے گا کیوں کہ وہ افسانے کو اس قابل نہیں سمجھتے کے شاعری کے سامنے کھڑا بھی ہو سکے۔

جہاں تک ان کہانیوں کے ترجمے کی بات ہے تو ترجمہ آصف فرخی کا ہے اور انھی کے انداز کا ہے۔ وہ افسانہ نگار بھی ہیں اور نقاد بھی اور نثر جس خاص انداز کی لکھتے ہیں، وہی انداز ان کے ترجمے کا بھی ہے۔

کتاب اچھی شائع ہوئی ہے لیکن ایسی بھی نہیں کہ اس کی قیمت چار سو روپے ہوتی۔

اسی بارے میں