بالی وڈ سے آگے سینما اور بھی ہیں

Image caption آسامی زبان کی فلم باندھون کا منظر جو بیک وقت کئی زبانوں میں ریلیز ہو رہی ہے

بھارت کے بڑے سنیما گھروں کے باہر اب ہندی فلموں کے ساتھ ساتھ تمل، تیلگو، پنجابی یا پھر بنگالی فلموں کے پوسٹرز بھی نظر آ رہے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ علاقائی فلموں کا دائرہ دھیرے دھیرے ہی سہی لیکن بڑھ ضرور رہا ہے۔

بی بی سی کے ویبھو دیوان کہتے ہیں کہ ہر جمعہ ہندی فلمیں بھارت کے ہر شہر میں تو دستک دیتی ہی ہیں لیکن گزشتہ کچھ عرصے میں ایک تبدیلی نظر آئی ہے اور وہ یہ کہ اب علاقائی زبان میں بننے والی فلموں کی آہٹ بھی بعض جگہوں پر سنائی دینے لگی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اگر گزشتہ ہفتے کی بات کریں تو جانو بروا کی ہدایت میں بنی اسميا زبان کی فلم ’باندھون‘ یعنی بندھن ملک بھر میں ریلیز کی گئی ہے۔ یہ فلم سب ٹائٹلس کے ساتھ دہلی، ممبئی، بنگلور اور پونے کے سنیما گھروں میں دکھائی جا رہی ہے۔

گیارہ بار قومی ایوارڈ جیت چکے جانو بروا کہتے ہیں کہ اگرچہ وہ کئی بار قومی ایوارڈ جیت چکے ہیں لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ ان کی فلمیں لوگوں نے دیکھی ہی نہیں ہیں۔

Image caption جانو بروا کہتے ہیں: بھلے ہی آج ہماری فلموں کو کم سنیما گھر ملیں ہیں لیکن کل ان کی تعداد بڑھے گی۔ لوگ ہماری فلموں کے بارے میں بھی جاننے لگیں گے

اسی سلسلے میں جانو کہتے ہیں: ’بھئی لوگوں کو میری فلمیں دیکھنے کا موقع ہی نہیں ملا لیکن باندھون کے ساتھ ایک اچھی شروعات ہوئی ہے۔ بھلے ہی آج ہماری فلموں کو کم سنیما گھر ملیں ہیں لیکن کل ان کی تعداد بڑھے گی۔ لوگ ہماری فلموں کے بارے میں بھی جاننے لگیں گے۔‘

جانو نے ’میں نے گاندھی کو نہیں مارا‘، ’ہر پل‘ اور ’ممبئی کٹنگ‘ جیسی ہندی فلمیں بنائی ہیں لیکن باوجود اس کے وہ مانتے ہیں کہ ہندی سنیما کے مقابلے علاقائی زبانوں میں زیادہ اچھی فلمیں بنتی ہیں۔

جانو کہتے ہیں: ’اب ناظرین زیادہ سمجھدار ہو گئے ہیں۔ وہ اچھے اور برے سنیما میں فرق محسوس کر سکتے ہیں۔‘

علاقائی فلموں کو ملک بھر میں ریلیز کرنے کا ذمہ اٹھایا ہے پریا ولیج روڈ شو یعنی پي وي آر نے۔

اپنی اس مہم کے بارے میں پی وی آر کے شلادتیہ بورا کہتے ہیں: ’آج بھارت میں ہر طرح کے سنیما کے لیے ناظرین موجود ہیں۔ پہلے علاقائی یا غیر ملکی فلمیں دیکھنے کا موقع کسی فلم فیسٹیول کے دوران ہی ملا کرتا تھا جو سال میں ایک بار ہوتا تھا۔ ہم نے سوچا کہ کیوں نہ اپنے ناظرین کو ہر ہفتے یہ موقع دیا جائے۔‘

Image caption سنگھم 2 نے تو ریلیز ہونے کے بعد ریکارڈ کمائی بھی کر لی ہے

علاقائی سنیما کو دی جانے والی اہمیت سے صرف جانو بروا ہی نہیں بلکہ جنوبی بھارتی، مراٹھی اور پنجابی فلم ساز بھی خوش ہیں۔

’بادھون‘ کے ساتھ 5 جولائی کو ریلیز ہونے والی تمل فلم ’سنگھم 2‘نے تو ریلیز کے ساتھ ہی ریکارڈ کمائی بھی کر لی۔ بھارت سمیت دنیا بھر کے 2400 سینما گھروں میں یہ فلم تمل اور تیلگو زبان میں ریلیز کی گئی ہے۔ اب اس ہفتے یہ فلم ہندی میں ڈب کرکے ریلیز کی جا رہی ہے۔

اس سے پہلے 28 جون کو پنجابی فلم ’جٹ اور جولیئٹ‘ بھی ہندی فلم ’گھنچكّر‘ کے ساتھ ریلیز ہوئی۔ اس فلم کو بھی اتنے ہی سینما گھروں میں دکھایا گیا جتنے سینما گھروں میں ’گھنچكّر‘ دکھائی گئی۔ اس بات سے پتہ چلتا ہے کہ پنجابی فلمیں شائقین کے درمیان کتنی مقبول ہیں۔

’جٹ اور جولیئٹ‘ کے ہدایت کار انوراگ سنگھ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’گزشتہ تین چار سالوں میں پنجابی سنیما میں تیزی آئی ہے۔ اب تو فلم ساز مفت میں بھی فلم کے پرنٹ دے دیتے ہیں تاکہ پنجابی فلموں کو فروغ ملے۔‘

بھارت کے ساتھ اس فلم کو جرمنی اور اٹلی میں بھی ریلیز کیا گیا۔

مراٹھی فلموں نے بھی گزشتہ دس سالوں میں کئی تبدیلیاں دیکھی ہیں۔ سپر ہٹ مراٹھی فلم ’انومتی‘ یعنی اجازت کے ڈائریکٹر گجندراہیرے نے بی بی سی کو بتایا کہ جہاں کچھ وقت پہلے تک سال میں صرف 14 یا 15 مراٹھی فلمیں بنا کرتی تھی وہیں اب ان کی تعداد بڑھ کر 100 ہو گئی ہے۔

اہیرے کہتے ہیں کہ ان فلموں کو ہندی فلموں کے ساتھ سنیما گھروں میں دکھایا جاتا ہے اور عوام ان فلموں کو پسند بھی کرتے ہیں۔

ویسے بھی جہاں تک فلموں کا سوال ہے عوام فلمیں صرف انٹرٹینمنٹ کے لیے دیکھتے ہیں اور تفریح انہیں ہندی فلموں سے ملے یا پھر علاقائی فلموں سے ان کے لیے ایک ہی بات ہے۔

اسی بارے میں