بالی وڈ اور حقیقی کرداروں کا بڑھتا تعلق

Image caption ’بھاگ ملکھا بھاگ‘ بھارتی ایتھلیٹ ملکھا سنگھ کے حالاتِ زندگی پر مبنی فلم ہے

’بھاگ ملکھا بھاگ‘ ایک زندہ شخص پر بنی ان چنندہ ’بايو پكچرز‘ میں سے ایک ہیں جن کے کچھ فوائد ہیں تو کچھ نقصانات بھی ہیں۔

اس فلم میں اچھی بات یہ ہے کہ ڈائریکٹر حقائق کی غلطی کرنے سے بچے رہے کیونکہ خود ملکھا سنگھ صحیح معلومات دیتے رہے لیکن نقصان یہ رہا کہ فلم میں مرکزی کردار کے کسی بھی منفی پہلو کو نہیں دکھایا گیا جس کی وجہ سے فلم’ایک سنت کی کہانی‘ بن کر رہ گئی۔

ڈائریکٹر راکیش اوم پرکاش مہرا کی اس فلم میں حد سے زیادہ میلو ڈراما ہے لیکن شاید ڈائریکٹر اپنی فلم کے ذریعے بھارتی دنیائے کھیل کے ایک عظیم ’ہیرو‘ کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہتے تھے، بھلے ہی پچاس سال بعد سہی۔

ان دنوں بالی ووڈ کی نظر خاص شخصیات پر بننے والی فلموں یعنی بايو پكچرز پر ہے جو کہ ایسی کہانیاں ہیں جس میں سچ کا تڑکا لگا ہوتا ہے۔

’پان سنگھ تومر‘ بھی ایسی ہی ایک فلم تھی جو ایک سچی کہانی پر مبنی تھی۔ وہیں ’دی ڈرٹي پکچر‘ بھی آئی جس کو مبینہ طور پر اداکارہ سلک سمیتا کی زندگی پر مبنی بتایا جا رہا تھا لیکن سلک کے بھائی نے جب معاوضے اور معافی کا مطالبہ کیا تو فلم سے ایک سچی کہانی کا درجہ واپس لے لیا گیا۔

’بايو پكچر‘ بناتے وقت ایک فلم ساز کو کئی حدود کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ کہانی یا کردار کا دلچسپ ہونا تو سب سے ضروری ہے اس لیے زیادہ کھلاڑی، فلمی ستارے، سیاستدان یا پھولن دیوی جیسے مجرمانہ کرداروں پر ہی فلمسازوں کی توجہ مرکوز ہوتی ہے۔

ماضی میں ’چک دے انڈیا‘ کو ہندوستانی ہاکی کے کوچ میر رنجن نیگی اور ’گرو‘ کو دھيرو بھائي امبانی کی زندگی کے قریب بتایا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں مکے باز میری کوم پر ایک فلم بن رہی ہے جو شمال مشرقی بھارت کی اس خاتون باکسر کی جدوجہد کی کہانی بیان کرے گی۔

بھارت میں بیشتر فلم ساز تنازعات سے بچنے کے لیے اپنی فلم کو سچی کہانی پر مبنی ہونے کا درجہ نہیں دیتے۔ رام گوپال ورما کی فلم ’سرکار‘ اور منی رتنم کی ’کمپنی‘ سمیت کئی ایسی فلمیں ہیں جو انڈر ورلڈ کے کرداروں حاجی مستان، داؤد ابراہیم اور چھوٹا راجن پر بنی ہیں لیکن انہیں سچی کہانی قرار نہیں دیا گیا۔

Image caption ہالی وڈ میں ’لنکن‘ جیسی فلم بنا کسی مخالفت کے بن جاتی ہے

جہاں تک سیاستدانوں پر فلم بنانے کی بات ہے تو بھارت میں ایک ایماندار ’بايو پك‘ بنانا تقریبا ناممکن سا ہے۔

اندرا گاندھی، راجیو گاندھی اور سونیا گاندھی پر فلموں نے مسلسل مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ اس کے علاوہ جب ڈائریکٹر جبار پٹیل نے بابا صاحب امبیڈکر، شیام بینیگل نے نیتا جی بوس اور کیتن مہتا نے سردار پٹیل جیسی فلمیں بنائیں تو اس سے پہلے ان تمام شخصیتوں کے پیروکاروں کو مطمئن کیا گیا، تاکہ فلم پر پابندی لگنے سے بچا جا سکے۔

اس کے برعکس مغرب میں مارگریٹ تھیچر کی زندگی میں ہی ’دی آئرن لیڈی‘ جیسی فلم بنائی گئی۔ ان کے اہلِخانہ نے اس فلم پر پابندی کی بات نہیں کی تاہم انہوں نے میڈیا کے ذریعے فلم پر اپنی ناپسندیدگی ضرور ظاہر کی تھی۔

ہالی وڈ میں ’لنکن‘ جیسی فلم بنا کسی مخالفت کے بن جاتی ہے، وہیں ’جیفرسن ان پیرس‘ بھی آرام سے ریلیز ہوئی جس میں ایک سابق امریکی صدر کے ایک سیاہ فام نوکرانی کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بات کی گئی تھی۔

مغرب میں فیس بک کے بانی مارک زكربرگ پر بھی فلم بنائی گئی جس میں ان کے کچھ منفی پہلو بھی دکھائے گئے تھے، وہیں سابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن پر بھی ایک فلم کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے جس میں خود ہلیری بھی کافی دلچسپی لے رہی ہیں۔

پھر بھی یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ بالی وڈ میں بھی اب تبدیلی کی ہوائیں چل رہی ہیں اور فلمساز کچھ نئی، منفرد اور سچی کہانیاں ڈھونڈ رہے ہیں۔

شاید وقت کے ساتھ کڑوی حقیقت کو دکھانے کا طریقہ بھی آہستہ آہستہ غالب آ جائے گا اور یہ سوچ بھی بدلے گی کہ بھارتی ہیرو کوئی سنت نہیں ہے اور نہ ہی ان کو ایسا کرنے کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں