’شاہد آفریدی کرکٹرز کے امیتابھ بچن ہیں‘

Image caption شاہد آفریدی نے حال ہی میں ون ڈے کرکٹ کی تاریخ کی دوسری بہترین بالنگ پرفارمنس دی ہے

پاکستان کے سٹار کرکٹر شاہد آفریدی کو کرکٹ کے میدان پر چوکے چھکے لگاتے ہوئے تو لوگوں نے بار ہا دیکھا ہے لیکن اب وہ جلد ہی پردۂ سیمیں پر بھی نظر آنے والے ہیں۔

عید کے موقع پر پاکستانی فلم ’میں ہوں شاہد آفریدی‘ ریلیز ہو رہی ہے، جس میں شاہد آفریدی ایک خاص کردار میں دکھائی دے رہے ہیں۔

یہ فلم شاہد آفریدی کی زندگی پر مکمل طور سے مبنی نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کے ایک نوجوان کے کرکٹر بننے کے خواب پر مبنی فلم ہے جو شاہد آفریدی کو اپنا ہیرو اور اپنے لیے تحریک سمجھتا ہے۔

فلم کے اہم اداکار حمزہ علی عباسی نے بی بی سی ایشین نیٹ ورک سے خاص بات چیت کی اور اس فلم کے علاوہ پاکستانی فلم انڈسٹری کے بارے میں بھی کافی باتیں کیں۔ اس کے اقتباس ذیل میں دیے جا رہے ہیں۔

’میں ہوں شاہد آفریدی‘ کیوں؟ اس بات کے جواب میں حمزہ علی عباسی نے کہا: ’عمران خان کے بعد شاید شاہد آفریدی سب سے بڑے پاکستانی اسٹار ہیں۔ ہر نوجوان کرکٹر ان جیسا بننا چاہتا ہے۔ وہ کرکٹروں کے امیتابھ بچن ہیں۔‘

Image caption اطلاعات کے مطابق اس میں شاہد آفریدی بھی مخصوص کردار میں ہونگے

انھوں نے کہا ’یہ فلم ایک نوجوان کے اپنے ہیرو جیسا بننے کے خواب کی کہانی ہے۔‘

حمزہ نے بتایا کہ شاہد خود اس فلم میں ایک خاص کردار میں نظر آئیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ پاکستان کی ’پہلی اسپورٹس فلم‘ ہے۔

کیا پاکستان کے عوام تفریح کے لیے صرف بالی وڈ پر منحصر ہیں؟ اس بات کے جواب میں حمزہ نے کہا ’نہیں، ایسا بالکل نہیں ہے۔ اسلام آباد میں آج سے دو سال پہلے صرف ایک ہی سینما ہال ہوا کرتا تھا، اب تین چار نئے ہال بن گئے ہیں۔ ہماری انڈسٹری اگر بڑھ نہ رہی ہوتی تو ایسا نہیں ہوتا۔‘

لیکن حمزہ مانتے ہیں کہ پاکستانی فلموں کو اپنے طور طریقے میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔

وہ کہتے ہیں ’ہمارا بنیادی مقصد صرف انٹرٹینمنٹ فلمیں بنانا ہونا چاہئے۔ بالی وڈ یا ہالی وڈ آرٹ فلمیں بنا سکتے ہیں، کیونکہ ان کی بہت بڑی انڈسٹری ہے۔ ہماری انڈسٹری کو اگر زندہ رہنا ہے تو تفریح فراہم کرنے والی فلمیں بنانی ہی ہوں گی۔‘

Image caption آفریدی کی لگاتار خراب کارکردگی کے بعد بھی ان کے مداحوں میں کمی نہیں آئی

حمزہ کو آخر آرٹ سنیما سے پریشانی کیوں ہے؟ اس کے جواب میں وہ کہتے ہیں ’دیکھیے پاکستان میں کرپشن ہے، غریبی ہے، حالات خراب ہیں، یہ تو سب کو پتا ہے۔ ہمیں فلموں میں یہ دکھانے کی کیا ضرورت ہے؟‘

’ملک میں 40 سے زیادہ نیوز چینل ہیں۔ اگر اپنے آپ کو ڈپریس کرنا ہو تو نیوز چینل دیکھ لو۔ فلم دیکھنے آنے کی کیا ضرورت ہے؟‘

حمزہ فلموں میں آنے سے پہلے اسٹیج سے بھی منسلک رہے۔ انہوں نے کافی اشتہارات بھی کیے۔ وہ کہتے ہیں کہ فلم میں شاہد آفریدی کی طرح بالنگ سیکھنے کے لیے انہیں کافی محنت کرنی پڑی۔

اخیر میں انھوں نے پرلطف انداز میں کہا ’فلم کی شوٹنگ کے لیے میں نے گیند بازی کی اتنی پریکٹس کی ہے کہ اب تو مجھے پاکستان کرکٹ ٹیم میں بھی جگہ مل جائے گی۔‘

اسی بارے میں