اردو ادب کے مابعد نوآبادیاتی مطالعے

Image caption ناصر عباس نیّر نے مابعد نوآبادیات کے دائرۂ عمل پر اعتراضات کے خاصے تسلی بخش جواب پہلے ہی باب میں دے دیے ہیں

نام کتاب: مابعدِ نوآبادیات اردو کے تناظر میں

مصنف: ناصر عباس نیّر

صفحات: 196

قیمت: 575

ناشر: اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس پاکستان۔ پی او بکس 8214، کراچی۔ 74900

نوآبادیاتی نظام کی اصطلاح سب سے پہلے کب استعمال ہوئی اس کے بارے کوئی حتمی تحریر میں نے اب تک نہیں دیکھی لیکن اس کی ابتدا مصریوں، فونیقیوں اور یونانیوں سے ہوئی۔

ایک وقت ایسا بھی تھا کہ دنیا میں روسی، عثمانی اور آسٹریائی تین بڑی نوآبادیاتی قوتیں تھے۔ پھر برطانیہ سب سے بڑی اور اس کے بعد فرانس، اٹلی اور ڈچ نوآبادیاتی قوتوں کے طور پر ابھرے۔

فی الوقت مقصد مختصرًا پس منظر بیان کرنا ہے۔

نوآبادیاتی نظام شروع تو اس لیے ہوا کہ طاقتوروں کے پاس معاشی وسائل ختم ہو گئے تو انھوں نے آس پاس کے کمزوروں کو فتح کیا اور ان کے وسائل پر قبضہ کر لیا اور ان سے جبری محنت کرائی۔ حاکم و محکوم طبقاتی طور پر الگ ہوئے تو استعمار کی اصطلاح پیدا ہوئی جس کے اولین معنی کسی علاقے میں انسانوں کے درمیان غیر مساوی تعلقات بتائے جاتے ہیں جسے بعد میں ایڈورڈ سیعد نے زیادہ واضح طور پر ’بالا دست اور زیر دست‘ کی تقسیم اور امتیاز قرار دے کر واضح کیا۔

نوآبادیات اور استعماریت لازم و ملزوم ہیں۔ کیونکہ استعماریت وہ تصور ہے جسے نوآبادیاتی نظام کے ذریعے رو بہ عمل لایا جاتا ہے۔

اردو میں نوآبادیات کی خاصی تفصیل اشفاق سلیم مرزا کی کتاب ’فلسفۂ تاریخ نوآبادیات اور جمہوریت‘ میں دیکھی جا سکتی ہے یہ کتاب 2011 میں سانجھ پبلی کیشنز نے شائع کی تھی۔

شاید یہ جاننا مناسب ہو کہ نوآبادیاتی نے بتدریج کئی شکلیں اختیار کی ہیں جن میں اب داخلی نوآبادیاتی نظام بھی شامل ہے۔ اسی طرح استعماریت کو بھی انھی شکلوں اور معنوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ مالی نوآبادیاتی نظام جو اب نئی استعماریت کو رو بہ عمل لا رہا ہے اور سرکش ریاستوں میں اسے بروئے کار لانے کے لیے بظاہر دفاع کے لیے تیار اور جمع کیے جانے والے اسلحے اور افواج کو بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

یہی ماڈل داخلی سطحوں پر بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ کیا نہیں کہا جا سکتا کہ جہاں جہاں مختلف ملکوں میں مختلف قومیتوں کے درمیان عدم مساوات ہے وہاں وہاں استعماریت اور نیا نوآبادیاتی نظام کار فرما ہے؟ جیسے جنوبی افریقہ میں تھا اور کیا اس کا اطلاق مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے اور آج کے پاکستان میں قومیتوں کے مابین شکایات اور تعلقات پر بھی ہوتا ہے؟ ایسی صورتیں بھارت میں بھی ہیں۔

مابعد نوآبادیات، جیسا کے اصطلاح عندیہ دیتی ہے، نوآبادیات کے بعد کے دور یا زمانے کہلائے گا۔ یعنی نوآبادیاتی نظام / استعماریت سے چھٹکارے کے بعد کا دور۔ اس اصطلاح اور سوچ کو ایڈورڈ سعید کی 1978 میں شائع ہونے والی کتاب ’اورینٹل ازم‘ سے منسوب کیا جاتا ہے لیکن ان سے کہیں پہلے ایمی سیزائر (2008-1913) اور فرانز فینن (1961-1925) نے یہ تصور اور اس کے اثرات کو پیش کیا تھا۔

فینن کی کتاب ریچڈ آف ارتھ کا تو اردو ترجمہ افتادگانِ خاک 1978 سے پہلے شائع ہو چکا تھا۔ یہ ترجمہ غالبًا محمد پرویزاور سجاد باقر رضوی نے کیا تھا، جس کا نیا ایڈیشن 1996 میں شائع کیا گیا ہے لیکن اس میں پہلے ایڈیشن کا کوئی حوالہ نہیں ہے۔

یہ ہے کم و بیش وہ پس منظر جو ناصر عباس نیّر کی کتاب پڑھتے ہوئے میرے ذہن میں گھومتا رہا۔

ناصر عباس نیّر نے مابعد نوآبادیات کے دائرۂ عمل پر اعتراضات کے خاصے تسلی بخش جواب پہلے ہی باب میں دے دیے ہیں۔ نیا نوآبادیاتی نظام یا مالیاتی نوآبادیاتی نظام نہ تو ان کا موضوع ہے اور نہ ہی اس پر ان کی کتاب کے حوالے سے بات کی ضرورت ہے۔

اس سے اختلاف کی گنجائش نہیں کہ مابعدِ نو آبادیات تنقید کا ایک نیا طرز ہے جو استعمار کار اور استعمار زدہ کے ثقافتی رشتوں کا مطالعہ کرتا ہے۔ کیونکہ دونوں کے ثقافتی رشتے نوآبادیاتی و استعماری نظام کے تحت قائم ہوتے ہیں۔

اس نظام میں استعمار کار کو کم و بیش ہر سطح پر اجارہ حاصل ہوتا ہے اس لیے مذکورہ ثقافتی رشتے دراصل طاقت کے رشتے ہوتے ہیں۔ استعمار کار طاقت کی اکثر صورتوں (سیاسی، علمی، معاشی، تعلیمی، فنی) کو خلق کرنے اور نو آبادیوں میں سیاسی، آئینی اور تعلیمی اصلاحات کے ذریعے ان کے نفوذ کو ممکن بنانے کی پوزیشن کا حامل ہوتا ہے، جس کے نتیجے اور ردِعمل میں نوآبادیات میں نئی تہذیبی، علمی، فکری اور ادبی روشیں پیدا ہوتی ہیں۔ مابعدِ نوآبادیاتی تنقید، ثقافت/ طاقت کے انھی رشتوں کا تجزیے کرتی ہے جن میں استعمار کار کو بالا دستی حاصل ہوتی ہے۔

انگریزی نوآبادیات نے برِصغیر میں، اپنے قیام اور استحکام کی خاطر متعدد کلامیے (ڈسکورس) اور بیانیے وضع کیے اور انھیں ابلاغِ عامہ اور تعلیمی اور ادبی انجمنوں اور کتب کے ذریعے رائج کیا۔ اردو ادب میں قومیت پرستی، مفاہمت پذیری، احتجاج، مزاحمت، منقسم شعور، دوہری شخصیت، تہذیبی آویزش و آمیزش کے روّیے، انھی کلامیوں اور بیانیوں کا ردِ عمل تھے۔

’مابعدِ نوآبادیات، اردو کے تناظر میں‘ نوآبادیاتی عہد کے اردو ادب کے انھیں چند رویوں کا تحقیقی اور تجزیاتی مطالعہ کرتی ہے۔ کتاب میں اردو زبان و ادب کے بنیادی ماخدکو بنیاد بناتے ہوئے اس تہہ نشیں نظام تک رسائی کی کوشش کی گئی ہے جو نوآبادیاتی عہد کے اردو ادب کے متبائن (جدا جدا) اور یکساں مظاہر کی توجیہ کرتا ہے۔

اردو ادب کے مابعد نوآبادیاتی مطالعے سے متعلق یہ پہلی کتاب ہے اور اس کے لیے محض پہلی کہنا کافی نہیں۔ اس میں تاریخ تو ہے لیکن بلاشبہ تاریخ کی تہہ میں کارفرما عمل کے کو دکھانے کے لیے جن مظاہر کی نشاندہی کی گئی ہے اُن سے چشم پوشی اور فہم سے گریز تاریخ کو حالات و واقعات کی رپورٹنگ تو بنا سکتی ہے تاریخ نہیں۔

اگر ہم کتاب کے ابواب کے عنوانات ہی دیکھی تو ہمیں کتاب کے دائرۂ عمل کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ (1) مابعدِ نوآبادیات: حدود و امتیازات (2) علم اور طاقت (3) یورپ بطور کبیری بیانیہ (4) زبان: نوآبادیاتی سیاق و سباق اور لسانی استعماریت (5) ولیم جونز: ایشیا بطور تحریری زبان (6) ہندوستانی کا ’ضمیمہ‘: گل کرائسٹ کی لسانی خدمات (7) محمد حسین کے لسانی تصورات (8) انجمن اشاعتِ علوم مفیدہ پنجاب: مابعدنوآبادیاتی تناظر۔

اس کتاب کا مطالعہ ہر تعصب کو الگ رکھ کر کیا جانا چاہیے، اور مطالعے کے بعد دیکھنا چاہیے کہ بنے بنائے تصورات کس حد تک درست بنیادوں پر استوار ہیں۔

ایک اور اہم بات اس کتاب کی زبان اور بیان ہے۔ یہ کتاب ان لوگوں کے لیے ایک جواب ہے جو یہ تصور رکھتے ہیں، یہ زبان گہرے مضامین کے بیان سے قاصر ہے۔

بلا شبہ ڈاکٹر ناصر عباس نیّر عہد حاضر میں اردو کے ایسے ذہین نقاد ہیں جو نہ صرف زمانی فاصلہ تیزی سے طے کرتے دکھائی دیتے ہیں بلکہ درجات کے حوالے سے بھی گنتی کے چند ایک میں سے ہیں۔ ان کے بارے میں ضروری تفصیل ہم ان کی کتاب ’ متن سیاق اور تناظر‘ پر تبصرے میں بھی بتا چکے ہیں۔

اسی بارے میں