غالب کی نئی جہتیں، یا فہم کا نیا انداز

نام کتاب: غالب: معنی آفرینی، جدلیاتی وضع، شونیتا اور شعریات

مصنف: گوپی چند نارنگ

صفحات: 678

قیمت: 430 انڈین روپے

ناشر: ساہتیہ اکادمی۔ رویندن بھون، 35 فیروز شاہ روڈ، نئی دہلی 110001

غالب اردو کے ان تین شاعروں میں سے ہیں جن پر سب سے زیادہ لکھا گیا ہے اور وہ پھر بھی معنی سے باہر اور آگے کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔

شاعری ہی کیا فکشن میں بھی بڑائی کے یہی کم سے کم معنی ہوتے ہیں اور جب تک معنی کے یہ امکانات موجود رہتے ہیں بڑائی قائم رہتی ہے۔ انہیں معنوں میں بجنوری کا غالب وہ نہیں ہے جو حالی کا ہے، حالی کا غالب وہ نہیں جو شیخ محمد اکرم کا ہے، اسی طرح نظم طباطبائی، سہا مجدّدی، اور پھر کلاسیکیت پرستوں، رومانویوں، ترقی پسندوں، اور جدیدیت کے حامیوں، یہاں تک کہ مذہب والوں کا بھی اپنا ایک غالب ہے۔

ایک کم ستر برس دنیا میں رہنے والے اس معجزہ کار نے خود اپنے لفظوں میں ’ایک اردو کا دیوان ہزار بارہ سو بیت کا، ایک فارسی کا دیوان دس ہزار کئی سو بیت کا، تین رسالے نثر کے، یہ پانچ مرتب ہو گئے‘۔ چھوڑے اور اس شکایت کے ساتھ رخصت ہوا: اب اور کیا کہوں؟ مدح کا صلہ نہ ملا، غزل کی داد نہ پائی، ہرزہ گوئی میں ساری عمر گنوائی۔ بقول طالب آملی علیہ الرحمتہ:

لب از گفتن چناں بستم کہ گوئی

دہن بر چہرہ زخمے بود، بہ شد

(میں نے ہونٹوں کو کچھ کہنے سے یوں سی لیا ہے۔ کہ دہن، چہرے پر ایک زخم تھا جو بھر گیا)

یہ نہیں کہ اس غیر معمولی شاعر کو اپنی اہمیت کا علم یا یہ نہیں پتا تھا کہ بازار میں کون سا سکّہ چل رہا ہے، باقی سب میں پورا دنیا دار اس راستے پر چلتا تو آج تیرہ میں تو ہوتا تین میں نہ ہوتا۔ لیکن اُسے جو یہ ادراک تھا کہ یہ شراب خریداری کے قحط سے پرانی ہو گی، یہاں تک کہ سخن شناس آئیں گے اور سر مست ہوں گے۔ اور یہ کہ ’شہرتِ شعرم بہ گیتی بعدِ من خواہد شدن‘۔

اپنی اس نئی کتاب میں پروفیسر گوپی چند نارنگ نے کا کہنا ہے ’غالب کی غیر معمولی تخلیقی اپچ کی داد دیتے ہوئے حالی اس کے لاشعوری رشتوں کی طرف اشارہ تو کرتے ہیں، لیکن وہ اس بھید کو زیادہ کھولنا نہیں چاہتے کہ غالب کا ذہن اس طور پر ہی کار گر کیوں ہوتا ہے، یعنی وہ کیا اضطراری کیفیت یا لاشعوری افتادِ ذہنی ہے جو شاعر کے ارادے اور اختیار سے ورا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ غالب اکثر و بیشتر اضطراری یا اختیاری طور پر اپنے تخلیقی عمل کی اُس لازمہ خلقی خصوصیت کو کام میں لاتے ہیں جس کا گہرا تعلق اُس جدلیاتی وضع یا حرکیاتِ نفی سے ہے جس کے سوتے ان کے ذہن کی لاشعوری گہرائیوں میں پیوست ہیں۔

وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ طرفگیِ خیال اور جدت و ندرتِ مضامین وہ عمومی اصطلاحیں ہیں جن کا اطلاق سبکِ ہندی کے دوسرے اساتذہ پر بھی اُسی طرح کیا جا سکتا ہے جس طرح غالب پر تو پھر غالب دوسروں سے الگ کیسے قرار پاتے ہیں۔

اس کا جواب ان کے خیال میں اس میں ہے کہ وہ طرفگیِ خیال اور جدت و ندرت جس پر سب سر دھنے ہیں غالب کی تشکیلِ شعر میں قائم کیسے ہوتی ہے؟ ترکیب، تشبیہ، استعارہ، کنایہ، تمثیل، شوخی اور ظرافت سامنے کے ہیئتی لوازم ہیں، ان کی کارکردگی و حسن کاری ہر اعتبار سے برحق، لیکن اس سب کے پسِ پشت کیا کوئی اور نظام یا حرکیات بھی ہے یا غالب کے شعری قالب یا لسان کی داخلی ساخت میں کوئی تہ نشیں ہم رشتگی یا قدرِ مشترک بھی ہے جو تخلیقی عمل کی کسی خلقی یا شعوری و لاشعوری نہاد پر دلالت کرتی ہو، غالب کی ذہنی افتاد کا لازمی حصہ ہو، کسی باطنی نظام سے انگیز ہوتی ہو۔

یعنی اگر حرکیات یا جدلیاتِ نفی کا تفاعل غالب کے تخلیقی عمل میں جاری و ساری ہے اور غالب کی سرشت و نہاد کا حصہ ہے تو اس کی نوعیت یا راز کیا ہے اور اس کی زیر زمین جڑیں کہاں ہو سکتی ہیں۔

نارنگ غالب کے ہاں دانشِ ہند، سلوک، تصوف، سبکِ ہندی کی روایت، جدلیاتِ نفی، مارکسی جدلیات، متصوفانہ جدلیات، آزادگی، کشادگی، جدیدیت، جدید آدمی، بیدل سے قربت و فیض اور دریدائی ٹریسس اور غالب کی شعریات کے ساتھ ساتھ اور بہت کچھ کی طرف تو لے جاتے ہی ہیں اور نئی طرز سے لے جاتے ہیں اور اپنے غالب کی متاثر کُن وسعتیں دکھاتے ہیں۔

لیکن جو بات اِس کتاب کو بہت الگ کرتی ہے وہ غالب کے ہاں خاموشی بطور زبان اور شعریات، بودھی فکر اور شونیتا، ویدانت اور شونیتا کا فرق، شونیتا اور نراجیت، شونیتا بطور آزادی و آگہی، شونیتا کا دریدہ سے تعلق، / شونیتا، خاموشی اور زبان، زین اور خاموشی کی زبان کا غالب سے تعلق کی دریافت و تجزیہ ہے۔

لیکن شونیتا (شُونیہ تا)؟ بودھوں کے نزدیک شونیتا منتہائے دانش ہے۔ اپنی مطلق حیثیت میں شونیتا انسانی وجود میں عدم وجودیت یا مطلق آزادی کا احساس ہے۔ وجود سے ورا وجود کا احساس ہے، اس کی نفی ہے۔ شونیتا کے تصور کو منفی طور پر ہی سمجھا جا سکتا ہے کیونکہ تمام مثبت پیرایے نہ فقط شونیتا کو محدود کر دیتے ہیں بلکہ اس کی مطلقیت کو خالص نہیں رہنے دیتے۔

شونیاتا کا انحصار تین باتوں پر ہے۔ ایک کہ کسی چیز میں آتما، جوہر یا روح نہیں ہے۔ دوم دنیا میں کچھ مستقل نہیں ہے۔ سوم، دنیا کی سب سے بڑی سچائی دکھ ہے۔

شونیتا کے بارے میں بتایا گیا ہے: بطور اصطلاح شونیتا کا ترجمہ ناممکن ہے۔ یہ شونیہ سے ہے، جس کا لغوی مطلب ہے: صفر۔ چناں چہ شونیتا کا مطلب ہوا، صفر اصل الاصول، یعنی ہر شے کا خالی اور بے اصل ہونا۔ اس صفر اصل الاصول پر مبنی جدلیاتی استردادی فلسفے کی مدد سے کائنات کے قائم بالغیر یعنی غیر اصل ہونے کے جدلیاتی اصل الاصول کو سمجھنا یا اس کی آگہی حاصل کرنا شونیتا ہے۔ یہ بودھی فکر ہے جس کی خاصی تفصیل کتاب میں ہے۔

مقصد اس حوالے کا اتنا ہے کہ گوپی چند نارنگ نے بودھی فکر اور بیدل و غالب کی تخلیقی فکر میں جو نقطۂ اتصال دریافت کیا ہے اور اوپر آنے والے قضیوں کو جیسے کھولا ہے اس کا اندازہ تو کتاب پڑھ کر ہی کیا جا سکتا ہے۔

میں نے کوشش کی ہے کہ نارنگ صاحب نے جو کچھ کہا ہے آپ کو اس کے قریب لے جانے کے لیے کچھ اشارے دے دوں اور بات بھی تبدیل نہ ہو۔ یہ کوشش کتنی کامیاب ہوئی ہے یہ تو نارنگ صاحب بتا سکتے یا آپ، کتاب پڑھ کر۔

اسی بارے میں