پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش کے ہم لوگ

نام کتاب: ہم لوگ

مصنف: فہمیدہ ریاض

صفحات: 333

قیمت: 895 روپے

ناشر: اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس پاکستان۔ پی او بکس 8214، کراچی۔ 74900

فہمیدہ ریاض کے نام کے ساتھ ہی پہلا تصور ایک شاعرہ کا ہی آتا ہے۔ لیکن نہیں کہا جا سکتا کہ وہ نثر نگار بڑی ہیں یا شاعرہ، مترجم کے طور پر ان کام زیادہ ہے یا ایک ایکٹیوسٹ کے طور پر۔ انھوں نے جلاوطنی بھی کاٹی ہے اور سرکاری ملازمتیں بھی کی ہیں۔

انھیں ایک آزاد دانشور لکھتے ہوئے کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوتی بلاشبہ وہ پاکستان میں گنتی کی ان ادبی شخصیتوں میں ہیں جو ’جو فرسودگی اور اس کے نتیجے میں سچی جاندار چیزوں کی موت کے خلاف لڑنے کے تمام ساز و سامان سے آراستہ ہیں‘۔

انھوں نے ایڈورڈ سعید کی اس شرط کو تو پورا کیا ہے کہ ’دانش وروں کا کام ہلچل پیدا کرنا، سوالات اٹھانا اور وہ باتیں کرنا ہے جو کوئی اور نہیں کہے گا۔ ان میں جرات ہونی چاہیے کہ تسلیم شدہ اور جانی بوجھی باتوں سے آگے جائیں‘۔

لیکن اس کے ساتھ ہی ایڈورڈ سعید یہ بھی کہتے ہیں: دانشورانہ جہت رکھنے والے کسی بھی ادیب یا آرٹسٹ کے لیے ناگزیر ہو جاتا ہے کہ وہ طاقت اور اقتدار کے مراکز سے اپنے آپ کو دور رکھے۔ سیاسی مراتب اور مناصب کا طلب گار نہ ہو۔ اس طرح کے مناصب شعور کی آزادی کے حریف ہوتے ہیں۔

ایڈورڈ سعید اس سے آگے آنتونیو گرامچی کے حوالے سے کہتے ہیں: ہر دانشور معاشرے میں اپنی دانش کا رول نبھانے کی اہلیت نہیں رکھتا تاوقتیکہ وہ سوال پوچھنے پر قادر نہ ہو، مسلمات سے انکار کا حوصلہ نہ رکھتا ہو، اپنی دنیا میں ایک بیگانے، ایک outsider کی زندگی گزارنے، اپنے ضمیر کو ہر طرح کے خوف، مصلحت اور ترغیب سے محفوظ رکھنے کا عادی نہ ہو‘۔

لیکن میں یہ سب کیوں کہہ رہا ہوں؟ یہ سوال تو فہمیدہ ریاض خود اپنے آپ سے بھی کرتی ہوں گی۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ حکومتی منصب اور اعزامات حاصل کرنے والے دوسرے لوگوں کو ہی غلط سمجھتی ہوں۔ لیکن یہ ایک ضمنی بات ہے۔

کچھ سال پہلے مجھے فہمیدہ ریاض سے ایک انٹرویو کرنے کا اتفاق ہوا تھا جس میں انہوں نے اپنی کہانیوں کا ذکر کرتے ہوے بتایا تھا:

  • میں شروع سے کہانیاں لکھتی رہی ہوں۔ ایک چھوٹا سا مجموعہ چھپا ہے: ’خطِ مرموز‘ اس میں تو فنون میں شائع ہونے والی کالج کے زمانے کی شارٹ سٹوریز بھی ہیں۔ تو میں لکھتی تھی، ایرک فرام کی ایک کتاب تھی ’فئرآف فریڈم‘ جو فاشزم کی سماجی بنیادوں کے بارے میں ہے۔ تو اس کا میں نے ایک ایڈاپٹیشن کیا تھا یعنی اس کے اصولوں سے پاکستانی معاشرے کو دیکھنے کی کوشش کی تھی۔ تو نثر میں لکھتی ہی رہی تھی لیکن اتنی جم کر نہیں لکھی تھی۔ پھر بعض ایسی چیزیں ہوتی ہیں جو اتنی پھیلی ہوئی ہوتی ہیں جن کے ساتھ ایک نظم میں شاید آپ انصاف نہ کر سکیں یا یہ ہے کہ وہ ایک نظم بن کر آپ تک نہیں پہنچتیں۔ تو پاکستان ٹوٹنے کے بعد میں جو لکھا تھا وہ تھا: ’زندہ بہار‘ جو بنگلہ دیش کے ان تجربات پر مشتمل تھے جو بہت متاثر کرنے والے تھے۔ جو نظم میں نہیں آ پا رہے تھے یا نظم بن کرآئے نہیں۔ پھر ’گوداوری‘ جو ہندوستان کے تجربات پر مشتمل تھی اور اس کے بعد پھر’ کراچی‘ کے حالات ہی ایسے تھے۔ تو یہ تین کہانیاں ہیں جو تین حصوں کے بارے میں ہیں۔‘

’ہم لوگ‘ میں یہی تینوں کہانیاں ہیں۔ کس بارے میں ہیں وہ تو انھوں نے خود ہی آپ کو بتا دیا ہے۔ یہ کہانیاں جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، کراچی سے شائع ہونے والے کتابی سلسلوں میں بھی شائع ہو چکی ہیں اور شاید کتابی شکل میں بھی۔ ان انھیں اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا ہے۔

اس ایڈیشن پر ڈاکٹر محمد رضا کاظمی کا لکھا ہوا ایک تعارف بھی ہے۔ اگرچہ خود ڈاکٹر محمد رضا کاظمی کا اپنا تعارف نہیں ہے۔

ان تین تحریروں کو انھوں نے بھی کہانی کہا ہے۔ اگرچہ اصطلاحی معنوں میں اصناف کو الگ کرنے والے انھیں کہانیوں کی بجائے کچھ سفر نامہ، کچھ یادداشتوں اور کچھ مشاہدات کا اظہار بھی کہہ سکتے ہیں۔ لیکن فہمیدہ کے تخلیقی قوت اظہار نے انہیں یقینی طور سفرناموں، یادداشتوں اور مشاہدات کے عمومی بیانیوں سے الگ کر دیا ہے۔

رضا کاظمی کا کہنا ہے:

  • ہم لوگ برصغیر جنوبی ایشیا کی تقریبًا گزشتہ نصف صدی پر محیط، اذیت ناک تاریخ کے پیچ اور خم کے چند اہم مقامات کے عکسوں پر مشتمل کہانی ہے۔ اس کے تین حصے، زندہ بہار، گوداوری اور کراچی۔ بنگلہ دیش، ہندوستان اور پاکستان کے حالات اور چند کلیدی واقعات کے بارے میں ہیں۔
  • یہ اتفاق تھا کہ ہندوستان میں جلاوطنی کے سات سال گزارنے کے بعد فہمیدہ ریاض کو بنگلہ دیش جانے کا موقع ملا اور کراچی کے حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس طرح سہہ رخی تصویر کے تینوں پہلو ان کی نظر سے گزرے۔‘

وہ اس سلسلے میں خود فہمیدہ ریاض ہی کے الفاظ کو دہراتے ہیں:

  • یہ روداد ہے اس بات کی کہ 1947 میں انگریز سے آزادی حاصل کرنے کے بعد ہم نے اپنے ساتھ کیا کیا۔

اسی لیے کتاب کا عنوان خود فہمیدہ ریاض نے ’ہم لوگ‘ تجویز کیا۔

عام طریقہ تو یہ ہے کہ قارئین کو کہانیوں کے خلاصے یا ٹکڑے پیش کیے جائیں لیکن بہت اچھی لکھی اور چھپی ہوئی اس ذرا سی مہنگی کتاب کو پڑھنے کے لیے اتنا ہی جاننا بھی کافی ہے کہ یہ فہمیدہ ریاض کی کتاب ہے۔

اسی بارے میں