منٹو: ایک شریف النفس کے اہم سوال

نام کتاب: منٹو حقیقت سے افسانے تک

مصنف: شمیم حنفی

صفحات: 293

قیمت: 400 روپے

ناشر: شہر زاد، بی 155، بلاک 5، گلشنِ اقبال، کراچی

Email:www.scheherzad.com

’منٹو کے اپنے معاصرین میں کرشن چندر، جنھیں ایشیا کا سب سے بڑا افسانے نگار کہا گیا، اور ان کے علاوہ دوسرے معروف اور بہتر لکھنے والے مثلًا عصمت، بیدی، حیات اللہ انصاری، احمد ندیم قاسمی، غلام عباس اور بلونت سنگھ اپنی انفرادیت اور غیر معمولی تخلیقی طاقت کے باوجود ہمارے عہد کے لیے ایک حوالہ نہیں بن سکے۔ یہ تمام افسانہ نگار منٹو سے زیادہ پڑھے لکھے تھے۔ انھوں نے عام طور پر ایک محفوظ اور عافیت کوش زندگی گزاری اور منٹو سے زیادہ عمریں بھی پائیں مگر آج، ہم ان کی باتیں سرے سے کرتے ہی نہیں، یا کرتے بھی ہیں تو تاریخ کی دھند میں لپٹے ہوے ایک حوالے کے طور پر۔ ہم ان کی چار چھ کہانیوں کو کہانی کے فن کی کچھ پائیدار قدروں اور اصولوں کے واسطے سے بے شک یاد کرتے ہیں اور پریم چند کی طرح ان سب کے رول کو آج بھی تسلیم کرتے ہیں، ایک قیمتی ورثے کے طور پر، لیکن اس عہد کے تخلیقی تقاضوں سے، اس عہد کے عام مسئلوں سے اور تجربوں سے انھیں جوڑ نہیں پاتے۔ ان میں سے کئیوں کی بڑائی اس لیے قائم رہے گی کہ انھیں اب پڑھا نہیں جاتا، مگر منٹو، آج بھی ایک جیتا جاگتا سوال ہے‘۔

اس تبصرے کی گنجائش کے حوالے سے یہ اقتباس یقینًا طویل ہے۔ لیکن اگر اسے ادھر اادھر سے کچھ کم کر دیا جائے تو متن کا تناظر ضرور کچھ نہ کچھ متاثر ہو گا۔ مثلًا معروف کے ساتھ ’بہتر‘ میرے خیال میں، ان معنوں میں ہے کہ انہیں اس دور میں منٹو سے بہتر تصور کیا گیا۔

اس حوالے میں بڑی حد تک وہ سوال آگیا ہے جسے شاید اب تک دیکھنے سے جان بوجھ کر گریز کیا جاتا رہا ہے، پھر اس فہرست میں عسکری، ممتاز شیریں، عزیز احمد اور ایسے ہی بہت سے نام نہیں ہیں۔ شاید حنفی صاحب پورا پٹارا نہیں کھولنا چاہتے۔

اس سوال کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ کیا ادیبوں کو خوش حال نہیں ہونا چاہیے؟ جواب ہے کہ ہونا چاہیے، لیکن یہ بھی کہ کس قیمت پر؟ کم از کم میری ناقص رائے میں اب انگریزی کو چھوڑ کر برِصغیر میں اردو سمیت جتنی بھی زبانیں ہیں ان میں ادب لکھ کر اور ادیب کی وہ شرطیں پوری کر کے جن کی طرف میں فہمیدہ ریاض کی کتاب پر بات کرتے ہوئے ایڈورڈ سعید کے حوالے سے توجہ دلا چکا ہوں، کتنی اور کیسی خوش حالی حاصل کی جا سکتی ہے۔ ویسے تو ان ادیبوں اور دانشوروں کو بھی ہم نے سر پر بٹھایا ہوا ہے جنھوں نے انگریز سے ’سر‘ اور ان کے ہم پلّہ خطابات حاصل کیے۔

زندگی گزارنے کا وہ رستہ جو منٹو نے اختیار کیا، اس دور میں اگر اختیار کیا جائے اور اگر منٹو جیسی صلاحیت بھی ہو تو آج شاید اُتنی تنگی نہیں ہو گی جتنی منٹو نے دیکھی لیکن منٹو جیسی آزادی کو حاصل ضرور کیا جا سکتا ہے۔

خطروں اور قیمت کو سامنے رکھ کر، پہلے سے سوچ کر اور نتائج کی فکر کر کے تو بات کی ہی نہیں جا سکتی۔ اب ذرا منٹو کے ہم عصروں میں زیادہ پڑھے لکھے، زیادہ اچھی زندگیاں گزارنے والے اور زیادہ مرتبہ پانے والے ان لوگوں کو یاد کریں جن میں سے کچھ کے نام شمیم حنفی نے لے ہی دیے ہیں، وہ اور ان جیسے، (جو آج بھی موجود ہیں) اپنی قیمت کن صورتوں میں لیتے تھے۔ پڑھنے پر وقت لگاتے تھے، لکھتے ہوئے سوچتے تھے، سوچتے ہوئے سماج، مقتدر قوتوں، عذاب و ثواب اور ناراضیوں اور خوشیوں کو پیش نظر رکھتے تھے (اور رکھتے ہیں)۔

بے شرمی اور ڈھٹائی سے سرکاری اور حکومتی اعزازات، سرکاری اور حکومتی خرچوں پر دوروں، دعوتوں، کانفرنسوں اور تقریبات میں جاتے ہیں اور ان میں شرکتوں کی تمنا کرتے ہیں اور نہ بلائے جانے پر تردد اور کوششیں کرتے ہیں، انھی میں سے کچھ ان کے کرنے والے کارندے بھی ہیں، انھیں کیسے منٹو کی طرح دیکھا جائے؟

یہ اور ایسے ہی بہت سے سوالوں کو شمیم حنفی کی یہ کتاب اٹھاتی اور تحریک دیتی ہے۔

ایک اور اہم بات جس کی طرف شمیم حنفی اشارہ کیا ہے، ان تمام لوگوں کے سوچنے اور سمجھنے کی ہے اور دل کڑا کر کے اِس کا اطلاق ماضی پر ہی نہیں حال پر بھی کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہر ایسی کہانی (ناول اور شاعری) جو اپنے بل پر زندہ رہنے، اپنی مستقل جگہ بنا لینے، پڑھے جانے کی ضرورت کا احساس پیدا کرنے، اپنی پرکھ کا توڑا نہ جا سکنے والا پیمانہ بنانے اور اپنے پڑھنے والے سے رشتہ قائم کرنے کی صلاحیت نہ رکھتی ہو، صرف اپنے مقصد کی بلندی اور پاکیزگی، اپنے اندر چھپے ہوے علم اور اپنے مصنف کی نیک نیتی کی بنا پر نہیں چل سکتی۔

جی! اس سے میں یہ سمجھا ہوں کہ منٹو کی کہانیاں/ افسانے کسی کی مدد سے منٹو کو منٹو نہیں بناتے۔ انھوں نے ادب میں کسی کی سفارش کی بنا پر جگہ نہیں بنائی۔ ہاں ان کے حوالے سے ضرور مخالفوں تک کو پہچان ملی ہے۔ یہاں تک کہ ان کہانیوں پر مقدمات بنانے والوں اور ان مقدمات میں گواہ بننے والوں اور ان کے فیصلے کرنے والے تک۔

شمیم حنفی کی اس کتاب کے دو حصے کیے جا سکتے ہیں۔ ایک حصہ ’دستاویز‘ اور ’منٹو اپنے دفاع میں‘ پر مبنی ہے، اور دوسرا ’مباحث‘ اور ’اختتامیہ‘ پر۔

یہ مضمون بلراج مینرا کے رسالے ’شعور‘ (جو انتہائی اچھا نکلا اور بہت جلد بند بھی ہو گیا) اور دستاویز میں شائع ہوئے تھے۔ میری شناسائی شمیم حنفی سے انہی مضامین کے حوالے سے ہوئی تھی اور ان سے جو تصور قائم ہوا تھا اُسے تبدیل کرنے کی ضرورت اب تک پیش نہیں آئی۔

مباحث میں، ’تقسیم کا ادب اور تشدد کی شعریات‘ اور’ادب اور انسان دوستی کا تصور: ایک سیاہ حاشیے کے ساتھ‘ شامل ہیں۔ جب کہ اختتامیہ میں ’منٹو کے زمان و مکاں، منٹو حقیقت سے افسانے تک اور منٹو اور نیا افسانہ‘ شامل ہیں۔

یہ مضامین شمیم حنفی کے مطابق ہندوستان، پاکستان اور امریکہ کے بعض تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کی دعوت پر لکھے گئے۔

لیجیے بات باقی ہے اور جگہ ختم ہو گئی۔ لیکن ایک بات میں چلتے چلتے ضرور کہوں گا کہ شمیم حفنی کے یہ مضامین منٹو پر لکھی جانے والی عمومی تنقید نہیں ہیں۔ انھوں نے بڑے اہم سوال اٹھائے ہیں، شمیم حنفی تو شریف النفس آدمی ہیں، یہ سوال تو خود کو منھ پھٹ کہنے والے بھی نہیں اٹھاتے۔

اگر آپ کو یقین نہیں آتا تو پڑھ کر دیکھ لیں۔

اسی بارے میں