سلمان خان پر قتل کے مقدمے میں فردِ جرم عائد

سلمان خان
Image caption اس کیس کی اگلی سماعت 19 اگست کو ہوگی۔

ممبئی کی ایک عدالت نے اداکار سلمان خان پر سال سنہ دو ہزار دو میں سڑک پر سوئے ہوئے ایک شخص کوگاڑی کی ٹکر مار کر ہلاک کرنے کے مقدمے میں فردِ جرم عائد کر دی ہے۔

سلمان خان پر غیر ارادی قتل کا مقدمہ چلے گے اور اگر ان پر جرم ثابت ہوگیا تو انہیں دس برس قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

سلمان خان نے خود اپنے اوپر تمام الزامات سے انکار کیا ہے۔ سلمان خان پر جب فرد جرم عائد کی گئی تو وہ عدالت میں موجود نہیں تھے۔

عدالت نے ان کی طرف سے پیشی سے استثناء کی درخواست مان لی تھی۔

تاہم عدالت نے کہا ہے کہ جب بھی سلمان خان کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے کہا جائے گا تو انہیں آنا پڑے گا۔

اس مقدمے کی اگلی سماعت 19 اگست کو ہوگی۔

سلمان پر غیر ارادتاً قتل کے علاوہ انڈین پینل کوڈ کی دفاع 279، 338، 427 اور 134 اے بی موٹر ویہکل ایکٹ کے تحت بھی مقدمہ چلے گا۔

24 جون کو عدالت نے اس معاملے میں غیر ارادتاً قتل کا مقدمہ چلانے کا حکم دیا تھا۔

سینتالیس سالہ سلمان پر اس سے پہلے لاپرواہی سے گاڑی چلانے کا مقدمہ درج کیا گيا تھا جس میں زیادہ سے زیادہ دو سال کی سزا ہوسکتی تھی۔

لیکن بعد میں مجسٹریٹ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ سلمان پر غیر ارادتاً قتل کا مقدمہ چلانے کے لیے کافی ثبوت ہیں۔

28 ستمبر 2002 کو ایک لینڈ كروذر کار ممبئی کے باندرہ علاقے میں ایک بیکری کے باہر واقع فٹ پاتھ پر سوئے ہوئے لوگوں پر چڑھ گئی تھی۔

اس حادثے میں ایک شخص کی موت ہوگئی تھی اور چار دیگر زخمی ہو گئے تھے۔ اس کار کو مبینہ طور پر سلمان خان چلا رہے تھے۔

اس سے قبل شہر جودھپور کی ایک مقامی عدالت نے اداکار سلمان خان، سیف علی خان، سونالی بیندرے اور تبو کو غیر قانونی شکار کے 14 برس پرانے ایک معاملے میں فروری کو عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

واضح رہے کہ ریاست کی پولیس نے ان کے خلاف 1998 میں مبینہ طور پر دو کالے ہرن مارنے کے سلسلے میں چار مقدمات درج کیے تھے۔ کالا ہرن اس علاقے میں نایاب ہے اور اس کے شکار پر پابندی ہے۔

اس وقت سلمان خان اپنی فلم ’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ کی شوٹنگ کے سلسلے میں جودھپور میں تھے۔

اسی بارے میں