پاکستان اور انڈیا کے لیے مشترکہ خطرہ

نام کتاب: بم کے مقابل

(پاکستانی اور ہندوستانی سائنسدانوں کیا کہتے ہیں)

مصنف و مرتب: پرویز ہوڈبائی

صفحات:392

قیمت: 1395 روپے

ناشر: اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس پاکستان۔ پی او بکس 8214، کراچی۔ 74900

کیا یہ حیران کن بات نہیں کہ پاکستانی اور ہندوستانی ذرائع ابلاغ نے اس کتاب اتنی بھی اہمیت نہیں دی جتنی انھوں نے وینا ملک کی ان نیم ملبوس تصویروں کو دی تھی، جن میں ان کے ایک بازو پر آئی ایس آئی لکھوا کر بنوائی جانے والی تصویر بھی شامل تھی۔

پاکستان کے دو ایک انگریزی اخباروں نے پھر بھی اس کا تذکرہ کیا اور اس کی کچھ تفصیلات بتائیں لیکن اردو ذرائع ابلاغ نے تو اسے بالکل بھی توجہ کے لائق نہیں سمجھا۔

کیا یہ بات دونوں ملکوں کے ذرائع ابلاغ کے بارے میں یہ سوچنے کا اشارہ نہیں دیتی کہ اگر ذرائع ابلاغ پر دونوں ملکوں کی اسٹیبلشمنٹوں کا دباؤ نہیں تو وہ ایک طرح کی سیلف سنسر شپ کو ضرور روا رکھتے ہیں؟

اصولًا تو ذرائع ابلاغ کو اطلاعات تک رسائی اور تحفظ کا جو استحقاق حاصل ہے وہ انھیں ان لوگوں کی بنیاد پر ہی حاصل ہے کہ وہ اُن اطلاعات کو ان تک پہنچائیں گے، جو جلد یا بدیر ان پر اثر انداز ہونے والی ہیں۔

یہ کتاب (Confronting the Bomb-Pakistani and Indian Scientists Speak Out) یا ’بم کے مقابل، پاکستانی اور ہندوستانی سائنسداں کیا کہتے ہیں‘ ڈاکٹر پرویز ہوڈ بائی نے مرتب کی ہے۔

اس میں، 1:سائنسداں اور ہندوستان کا نیوکلیئر بم (این وی رامن) 2:پاکستان میں اٹامک عہد کی آمد (ضیا میاں) 3: پاکستان: نیوکلیئر سیڑھیوں پر، 4: پاکستان: دنیا تیز تر پھیلتے ہتھیاروں کی تفہیم، 5: کشمیر: نیوکلیئر فلیش پوائنٹ سے جنوبی ایشیا میں امن کے پُل تک؟ 6: قوم پرستی اور بم، 7: ایران، سعودی عرب، پاکستان اور اسلامی بم، 8: بن لادن کے بعد: پاکستان کے نیوکلیئر ہتھیاروں کا تحفظ اور سلامتی، 9: کمانڈ اینڈ کنٹرولنگ نیوکلیئر ہتھیار (ضیا میاں)، 10: جلد از جلد انتباہ کا عدم امکان (ضیا میاں، آر راجہ رامن اور ایم وی رامن)، 11: پاکستان کا میدانِ جنگ نیکلیئر ہتھیاروں کا استعما (ضیا میاں، اے ایچ نیّر) 12: ایٹمی جنگ جنوبی ایشیا کے ساتھ کیا کر سکتی ہے (میتھیو میکنزی، ضیا میاں، اے ایچ نیّر، اور ایم وی رامن)، 13: پاکستان کی نیوکلیئر ڈپلومیسی (ضیا میاں، اے ایچ نیّر)، 14: نیوکلیئر ساؤتھ ایشیا کے مستقبل کے بارے میں قیاس آرائیاں، 15: امریکہ کی گلوبل بالا دستی اور گلوبل تحدید اسلحہ (پرویز ہوڈ بائی/ ضیا میاں) 16: نیوکلیئر الیکٹرسٹی پاکستان کا جواب نہیں (پرویز ہوڈ بائی) اور 17: نیوکلئر الیکٹرسٹی ہندوستان کا جواب نہیں (سورت راجو) کے عنوانات سے مضامین ہیں۔

لکھنے والوں کے پورے تعارف ممکن نہیں ہوں گے لیکن یہ سب فزکس کے مختلف شعبوں اور کیمسٹری کے پی ایچ ڈی ہیں۔

نیوکلیئر یا ایٹم بم کے سلسلے میں سب اہم نام رابرٹ جے اوپن ہائمر کا ہے۔ وہ امریکہ میں ہونے والی ایٹمی تحقیق کی ٹیم کے سربراہ تھے۔ جب انھوں ایٹمی قوت دریافت کر لی تو انھیں احساس ہوا کہ انھوں نے کیا کر لیا ہے۔

خود ان کے الفاظ میں: ’I have become death, the destroyer of worlds‘ (میں موت بن گیا ہوں، دنیاؤں کا تباہ کار)۔ تبھی سے انہوں نے بم بنانے کی مخالفت شروع کی اور تبھی سے امریکی اسٹیبلشمنٹ اور سیاستدانوں نے انھیں پہلے امریکہ کا بے وفا قرار دیا، پھر ان کی سکیورٹی کلیئرنس ختم کی اوران دنوں جب امریکہ میں کمیونسٹوں کا جینا حرام کیا جا رہا تھا انھیں کمیونسٹ قرار دے دیا گیا۔ اوپن ہائمر کی پوری روداد پڑھنے کے لائق ہے۔ اس کتاب میں بھی اس کا تھوڑا سا حوالہ ہے۔

جیسا کہ اب تک آپ کو کسی حد تک اندازہ ہو گیا ہو گا کہ کتاب میں شامل سترہ مضامین جنوبی ایشیا کی ایٹمی سیاست کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہیں۔ ایسے پہلوؤں کو جن پر عام بحث ہونی چاہیے۔ کیونکہ ان کا تعلق کسی ایک طبقے نہیں ہے۔ سب سے ہے، ہر ایک سے ہے۔ ان سب سے جنھیں ایسی قوم پرستانہ جذباتیت اور پروپیگنڈے کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جس کے پیچھے عزت، غیرت، نفرت اور موقع ملتے ہی ایک دوسرے کو مٹانے کا جذبہ ہوتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ ایٹمی قوت سے کیا دونوں ملکوں کو مطلوبہ سکیورٹی حاصل ہوئی یا صرف ان کی ہلاکت خیزی میں اضافہ ہوا ہے؟ کتاب کا جواب ہے کہ صرف ہلاکت خیزی میں اضافہ ہوا ہے۔

کتاب میں شامل مضامین ایک تو اپنے اپنے شعبوں میں مہارت رکھنے والوں نے لکھے ہیں اور پھر پوری تحقیق اور احتیاط سے لکھے ہیں، ایک اور اہم بات ان مضامین کے انداز اور زبان کا غیر جذباتی اور غیر جغرافیائی ہونا ہے۔ ان سے ہمیں ان تمام کرداروں کے بارے میں علم ہوتا ہے جو بم کے پیچھے رہے ہیں اور وہ جو سامنے کھڑے ہوئے اور ہیں۔

لیکن اس سے کیا ہوگا جب تک دونوں ملکوں کے سیاست داں، جنرل اور مذہبی رہنما ہی نہیں ذرائع ابلاغ بھی یہ بات محسوس نہیں کریں گے کہ ان ہتھیاروں سے ہونے والی جنگ میں فتح صرف تباہی کو ہو گی۔

ہوڈبائی کو کتاب کے متنازع ہونے کا اندازہ ہے، اس لیے انھوں نے تعارف میں ہی متنبہ کر دیا ہے کہ ’یہ کوئی مقبول کتاب نہیں ہے‘ لیکن انتہائی ضروری ہے۔

اس کا پیش لفظ 1986 میں کیمسٹری کا نوبل انعام حاصل کرنے والے جون پولیانی نے لکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے ’نیوکلیئر بم اس زمین پر ایک ایسا طاعوں ہے جسے انسان نے خود اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے‘۔

اس کتاب کی خصوصیت یہ نہیں کہ اس میں تکنیکی مہارت کو عمدگی سے بروئے کار لایا گیا ہے بلکہ یہ ہے کہ بم کے حوالے سے دونوں ملکوں کی فوجی قیادتوں کی سوچ اور نفسیات کو بھی سمجھنے کو کوشش کی گئی ہے۔

لکھنے والے بم کے تاریخی اور سیاسی پس منظر سے واقف ہیں۔ وہ بم کے بعد لگائی جانے والی اقتصادی پابندیوں، وار آن ٹیرر اور خود کو ایٹمی طاقت سمجھنے والے پاکستان میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے حوالے سے حقیقی اور تلخ سوال اٹھاتے ہیں، مثلًا پاکستان یہ سوچتا ہے کہ سارے پتے اس کے ہاتھ میں ہیں اور اس کے ساتھ یہ سوچ بھی موجود ہے کہ امریکہ عناد رکھتا ہے، پاکستان کو اس کے ایٹمی ہتھیاروں سے محروم کرنا چاہتا ہے۔

اب فرض کریں کے ایسی صورت پیدا ہو جائے اور اپنے ہتھیاروں پر پاکستان کا کنٹرول ختم ہو جائے تو ایسے دونوں ملکوں کا انجام کیا ہوگا جہاں ایک دوسرے کو مٹانے کو خواہش بھی موجود ہو؟

آخر میں ایک اقتباس دیکھ لیں جو کتاب کے صفحہ 181 پر ہے اور میرے خیال میں تو بہت ڈرانے والی صورت حال کے بارے میں متنبہ کرتا ہے:

“Currently, it might perhaps be more accurate to consider the Pakistan Army to be consisting of two armies. The first is headed by Gen. Kayani: let us call it Army-A/ISI-A. This army considers the protection of national borders its primary goal. It also seeks to maintain the status quo, giving the army extraordinary powers in national decision-making and financial privileges. The second, Army-B/ISI-B – is Allah’s army. It is silent, subterranean, currently leaderless but inspired by the philosophy of Abul Ala Maudoodi and Syed Qutb. Possessed by radical dreams, it seeks to turn Pakistan into a state run according to the Sharia”.

اس کتاب میں جو کچھ ہے اُسے دونوں ملکوں کے عام لوگوں تک پہنچنا چاہیے۔ اس کتاب کو صرف اردو اور ہندی ہی میں نہیں دونوں ملکوں کی تمام زبانوں میں ہونا چاہیے۔ لیکن اس سے پہلے انھیں تو ضرور پڑھنا چاہیے جو انگریزی پڑھ سکتے ہیں۔

اسی بارے میں