پنجاب کی تقسیم آج بھی یادوں میں تازہ

Image caption اس کتاب کو پڑھنے والے اسے بے حد پسند کریں گے اور یہی اس کتاب کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے

کتاب کا نام: دی پنجاب بلڈیڈ، پارٹیشینڈ اینڈ کلینزڈ

مصنف: اشتیاق احمد

طباعت: آکسفورڈ یونیورسٹی پریس

سویڈن میں سٹاک ہوم یونیورسٹی کے محقق اور علوم سیاسیات کے پروفیسر ایمارائیٹس، اشتیاق احمد نے تاریخ عالم کے انتہائی پردرد واقعات کو جس غیر جانبدارانہ اور ماورائے جذبات تحقیقاتی اور نظریاتی اساس کے ساتھ پیش کیا ہے، اس کی اس موضوع پر اس طرح لکھنے کی کم ہی مثال ملتی ہے۔ کتاب پڑھنے سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ مصنف نے ہندوستان کی تقسیم کے اسباب کے تجزیے اور اس سے پیدا ہونے والی نفرتوں اور پھر قتل و غارت کے جائزے سے یہ جانے کی بھی کوشش کی ہے کہ آیا یہ نفرتیں کبھی ختم ہو گی بھی۔

جیسا کہ کتاب کے عنوان سے واضح ہے کہ اس کا بنیادی موضوع تقسیم پنجاب ہے جبکہ عموماً 1947 کے واقعات کو تقسیم ہندوستان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

جب ہندوستان تقسیم ہو رہا تھا تو یہاں کے عوام کو ایک روشن مستقبل کی نوید دی گئی تھی۔ مگر جلد ہی جب تقسیم کے منصوبے پر عملدرآمد شروع ہوا تو اس کے نتیجے میں ہندوستان کے اطراف میں مذہب کے نام پر بلوے اور خونریز ہنگامے شروع ہو گئے اور ہندوستان کی بہت بڑی آْبادی کو ایک جبری اور خونی ہجرت کا سامنے کرنا پڑا۔

بعض مورخین کے مطابق، غالباً اتنی بڑی تعداد میں یہ تاریخ عالم کے اپنی نوعیت کی منفرد ترین ہجرت تھی۔کم از کم ایک کروڑ چالیس افراد نئے بننے والے ممالک بھارت سے پاکستان اور پاکستان سے بھارت ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔ مگر ان مہاجرین میں سے ایک کروڑ افراد کا تعلق پنجاب سے تھا۔

اس طرح اس موضوع پر لکھنے والے کہتے ہیں کہ تقسیم ہند دراصل تقسیم پنجاب تھی۔ محتاط اندازوں کے مطابق اس تقسیم اور ہجرت کے دوران پانچ لاکھ سے لے کر آٹھ لاکھ افراد ہلاک ہوئے اور جیسا کہ اس قسم کہ ہنگاموں اور اس قسم کی لاقانونیت میں ہوتا ہے ، لوٹ مار کرنے والوں نے عورتوں کو بھی اپنی حیوانیت کا شکار بنایا۔ تقیسم کے دوران کم از کم نوے ہزار عورتیں اغوا کی گئیں تھیں۔

یہ تقسیم تاریخ کا ایک ایسا واقعہ ہے جس کا ذکر برصغیر کے دو بڑے ممالک، یعنی پاکستان اور ہندوستان کے لوگوں میں آج بھی نفرتوں کی آگ بھڑکا دیتا ہے۔

اگرچہ آج کل پاکستان اور بھارت میں دوستی کی باتیں بڑی شدومد کے ساتھ کی جا رہی ہیں مگر سڑسٹھ برس گزر جانے کے باوجو بھی تقسیم کے دوران ہونے والی خونریزی کا ذکر پنجاب کے مسلمانوں، ہندوؤں اور سکھوں کے فرقہ وارانہ جذبات کو بھڑکا دیتا ہے۔

تقسیم کے دوران خونریزی، لوٹ مار اور جنسی جرائم کا ذکر پاکستان اور بھارت دونوں کے چوٹی کے ادیبوں کی پنجابی، ہندی اور اردو زبان میں لکھی گئی تحریروں میں بھی نظر آتا ہے۔ (امرتا پریتم، سعادت حسن منٹو، خشونت سنگھ اور اشفاق احمد تو تقسیم کے موضوعات پر لکھنے والے اب ان واقعات کے حوالے سے علامتی حیثیت اختیار کر چکے ہیں)۔

پروفیسر اشتیاق احمد کی کتاب اس تقسیم کے واقعات کو نہ صرف جمع کرنے کی ایک کوشش ہے بلکہ ان واقعات کے اسباب کو ایک ترتیب دینے کے ساتھ ساتھ فرقہ وارانہ خونیں ہجرت اور قتل و غارت کو مختلف عمرانی اور سیاسی نظریات زاویوں کے ذریعے سمجھنے کی پہلی کاوش بھی کہی جا سکتی ہے۔

اس ضخیم کتاب کا ماخذ وہ خفیہ خط و کتابت اور دستاویزات ہیں جو پنجاب کے افسران، گورنر اور وائسرائے کے درمیان ہوئیں۔ مزید برآں برطانوی حکومت کا وہ ضخیم ریکارڈ، جسے اب تک خفیہ رکھا گیا تھا، اور اس زمانے کے شائع ہونے والے اخبارات و جرائد بھی اس کتاب کا ماخذ ہیں۔

اس کے علاوہ پروفیسر اشتیاق احمد نے خود دونوں پنجاب میں جا کر ایسے افراد تلاش کیے جن کے پاس تقسیم کے دوران ہونے والے خونی واقعات کی ذاتی کہانیاں موجود تھیں۔

تحقیق کے اس طریقے کو ’اورل ہسٹری‘ یا بیانیہ تاریخ بھی کہا جاتا ہے۔ مصنف نے نہ صرف ان ذخائر کا بھرپور استعفادہ کیا بلکہ اپنی اوریجنل ریسرچ اور دونوں پنجاب کے مسلسل سفر کے ذریعے اسی’اورل ہسٹری‘ کے ذخائر میں نئے ذرائع کا اضافہ بھی کیا اور نئے موضوعات کی نشاندہی بھی کی جن کی بدولت تقسیم سے پہلے اور اس کے بعد کے پنجاب کی ثقافت اور سماجی تعلقات کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کے راستے کھلتے ہیں۔

تین برس قبل شائع ہونے والی طاہر ملک اور تری دیو سنگھ مینی کی کتاب ’ہیومینیٹی امڈسٹ ان سینیٹی‘ کا یہاں ذکر کرنا بے جا نہ ہوگا جس میں دونوں پنجاب (ایک پنجاب جو بعد میں بھارت میں شامل ہوا اور دوسرا وہ جو پاکستان میں) میں تقسیم کے دوران خونریزی کے ساتھ ساتھ ایسے انسان دوست افراد کی بھی نشاندہی بھی کی گئی جنھوں نے دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والوں کی اپنی جان خطرے میں ڈال کر مدد کی۔

کتاب کے مطابق بظاہر لگتا ہے کہ تقسیم کہ دوران پنجاب جس خونریزی کے دور سے گزرا وہ یکدم کسی غیر مرئی طاقت کی کارروائی ہو گی۔ مگر شاید یہ غیرمرئی طاقت ہر فرد کے اندر ایک دوسری کے خلاف چھپی ہوئی نفرت تھی۔ مصنف نے ان افراد کے باطن میں چھپے ہوئے جذبات کے تجزیے کے لیے مختلف عمرانی اور ثقافتی نظریات کا سائنسی انداز میں استعمال کرتے ہوئے نفرتوں کی جڑیں نصف صدی قبل کے واقعات میں تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔

یعنی سنہ اینس سو سے لیکر اینس سو چالیس کے دوران کس طرح پنجاب کی مختلف برادریاں آہستہ آہستہ ایک دوسرے سے دور ہوتی گئیں۔ اس دوران کے واقعات کو جس طرح مصنف نے پیش کیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح برطانوی حکمرانوں نے پنجاب کی برادریوں میں نفرتیں بڑھانے کے لیے کام کیا جبکہ برصغیر کے سیاستدان عموماً اور پنجاب کے لیڈران خصوصاً، اپنی سیاسی رسہ کشی میں اپنے محدود مقاصد کے حصول کے لیے مصروف رہے۔

Image caption مصنف کی کوشش رہی ہے کہ نہ صرف بر صغیر پاک و ہند بلکہ دنیا کے دوسرے کے ان تمام خطوں کے لوگوں کو وہ آگاہ کرسکیں کے کہ سیاسی یا مذہبی وجوہات سے پیدا ہونے والی نفرتوں کے پس پردہ دراصل سٹریٹیجک نوعیت کے مفادات ہوتے ہیں

اس کے باوجود بھی، جیسا کہ اس کتاب میں جمع کیے گئے ’اورل ہسٹری‘ کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے، یہ خیال کرنا غلط ہو گا کہ فرقہ وارانہ نفرتیں پنجاب ہر فرد میں سرایت کر گئی تھیں۔ البتہ فرقہ وارانہ عناصر نے ایک مخصوص انداز سے ان نفرتوں کو اس دور کے خاص پس منظر میں پنجاب کے قریہ قریہ گاؤں گاؤں اور شہر شہر میں پھیلا کر لوٹ مار اور قتل و غارت بازار گرم کیا۔

پروفیسر اشتیاق احمد کا خیال ہے کہ یہ ’خاص پس منظر‘ یا ’کانٹیکسٹ‘دراصل برطانوی حکمرانوں کی تیزی سے ہندوستان کی تقسیم اور یہاں سے انخلا کی کارروائی نے پیدا کیا جس نے ہندوستان کے سیاسی رہناؤں کو بھی حیران کر دیا تھا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پنجاب کی تقسیم کا مطالبہ خود پنجاب کے سیاستدانوں نے کیا تھا مگر پنجاب اس تقسیم کے لیے قطعی طور پر تیار نہ تھا۔ حتٰی کہ پنجاب کی حکومت، اور ضلعی انتظامی افسران بھی اتنی بڑی تقسیم، ہجرت اور خون خرابے کے لیے تیار نہ تھے۔

اسی وجہ سے مصنف کا کہنا ہے کہ اگرچہ پنجاب کے انتظامی افسران نے تقسیم کے منصوبے پر ایمانداری سے عملدرآمد کیا، مگر نہ ان کو صوبائی یا مرکزی حکومت کی مدد حاصل تھی اور نہ ہی فوج کی معاونت موثر تھی۔ نتیجتاً ان حالات میں لٹیروں اور فسادیوں نے وہ سب کچھ کیا جو طوائف الملوکی میں جرائم پیشہ افراد اپنے اپنے مذہب یا فرقوں کے نام پر دوسرے مذہب کے ماننے والوں کے ساتھ کرتے ہی۔

اسی پس منظر میں دکھائی دیتا ہے کہ مصنف کی کوشش رہی ہے کہ نہ صرف بر صغیر پاک و ہند بلکہ دنیا کے دوسرے کے ان تمام خطوں کے لوگوں کو وہ آگاہ کرسکیں کے کہ سیاسی یا مذہبی وجوہات سے پیدا ہونے والی نفرتوں کے پس پردہ دراصل سٹریٹیجک نوعیت کے مفادات ہوتے ہیں۔

لندن میں مقیم دانشور، پروفیسر امین مغل کے خیال میں اس جیسی عالمانہ اور تحقیقی کتاب کا لکھا جانا کوئی آسان کام نہیں ہے اور پھر ایسی عالمانہ کتاب کو ایک عام قاری کی فہم کے مطابق تحریر کرنا اور بھی مشکل ہوتا ہے۔ مگر بقول امین مغل کے، پروفیسر اشتیاق احمد نے اس کتاب کو ہر دو معیار کے مطابق بحسن و خوبی مرتب کیا ہے۔ اس کتاب کو پڑھنے والے اسے بے حد پسند کریں گے اور یہی اس کتاب کی ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔

اسی بارے میں