امجد طفیل کی کلیاتِ منٹو کی اہمیت

Image caption اُن پڑھنے والوں کے لیے جو لکھتے بھی ہیں عثمانی کی کلیات زیادہ کارآمد ہو گی

نام کتاب: کلیاتِ منٹو

مرتب: امجد طفیل

ناشر: نےرےٹیو(Narratives) پرائیویٹ لیمیٹڈ۔

E-mail:info@narratives.pk

سات جلدوں پر مشتمل امجد طفیل کی مرتب کردہ یہ کلیات سعادت حسن منٹو کی یہ پہلی کلیات نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی تین کوششیں ہو چکی ہیں۔ ایک پاکستان سے اور دو ہندوستان سے شائع ہوئیں۔

پاکستان سے پہلی کلیات چھ حصوں اور مخلتف ناموں سے سنگِ میل لاہور نے شائع کی۔ اس کے بعد ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی کے لیے ڈاکٹر ہمایوں اشرف نے چھ جلدوں میں تدوین کی۔ اسے حروف تہجی کی بنیاد پر مرتب کیا گیا۔ اس میں پہلی تین جلدوں میں افسانے ہیں باقی تین میں بالترتیب ڈرامے، خاکے اور مضامین۔

تیسری کلیات قومی کونسل برائے اردو زبان نئی دہلی کے لیے پروفیسر شمس الحق عثمانی نے مرتب کی۔ جسے اب اوکسفورڈ یونیورسٹی پریس پاکستان نے شائع کرنا شروع کیا ہے اور ابھی اس کے پہلی جلد آئی ہے۔

پہلی دو کلیات کے بارے میں امجد طفیل کا کہنا ہے: سنگِ میل لاہور سے شائع ہونے والی کلیات میں کئی فاش غلطیاں ہیں۔ اسی طرح ڈاکٹر ہمایوں اشرف کی مرتب کردہ کلیات میں بھی غلطیاں موجود ہیں۔

کلیات کی تدوین کے مسائل پر امجد طفیل نے اپنی کلیات کی تیسری جلد میں تفصیلی بات کی ہے۔

امجد نے پروفیسر عثمانی کی کلیات پر زیادہ بات نہیں کی، میں نے بھی وہ کلیات پوری نہیں دیکھی لیکن او یو پی پاکستان سے شائع ہونے والی ان کی کلیات کی پہلی جلد دیکھ کر ہی، میرے خیال میں اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ان کا کام کیسا ہے، صحت کیسی ہے اور میری حد تک تو غلطیوں سے پاک ہے۔

امجد نے موجودہ کلیات کو سات جلدوں میں مرتب کیا ہے۔ پہلی تین جلدیں افسانوں پر مشتمل ہیں، چوتھی میں ڈرامے، پانچویں میں خاکے، چھٹی میں مضامین اور ساتویں تراجم پر مشتمل ہے۔ اس اعتبار سے اس کلیات میں سعادت حسن منٹو کا اب تک دریافت ہو سکنے والا تمام کام آ گیا ہے۔

اجمد طفیل کے اس کام کی اہم ترین بات یہ ہے کہ انھوں نے منٹو کے افسانوں کو مرتب کرتے ہوئے زمانی ترتیب کو سامنے رکھا ہے، اس سے پڑھنے والے کو منٹو کے تخلیقی سفر اور فنی اعتبار سے ہونے والی تبدیلیوں کو جاننے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

لیکن میری ناقص رائے میں اگر افسانوں، ڈراموں، خاکوں، تراجم اور مضامین کو زمانی اعتبار سے ترتیب دیا جائے اور پڑھا جائے تو ذہنی اور فکری سفر کو زیادہ بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ یعنی ترجمے، افسانے، ڈرامے اور خاکے سال بہ سال ترتیب دیے جائیں۔ یا کم سے کم موجودہ صورت میں بھی ایک ضمیمہ اس حوالے سے شامل کیا جائے تو تخلیقی اور فنی سفر زیادہ واضح ہو سکتا ہے۔

خیر یہ راستہ کھلا ہے اور اس اعتبار سے کام کرنا کسی کے لیے بھی پروفیسر شمس الحق عثمانی اور اجمد طفیل کی کلیات کے بعد خاصا آسان رہے گا۔

امجد طفیل کی کلیات یوں بھی اہم ہے کہ اس میں انھیں ’بطور خاص محمد سلیم الرحمٰن، ڈاکٹر تحسین فراقی، اور ڈاکٹر ضیا الحسن کی معاونت حاصل رہی ہے‘۔

امجد طفیل نے اس کلیات کی ہر جلد کے شروع میں کچھ نے کچھ تنقیدی مواد فراہم کیا ہے۔ مثلًا پہلی جلد میں عرصِ مرتب کے بعد انتہائی جامع حیات نامہ، منٹو کی خود اپنی مطبوعہ کتب اور ان کے مرتب کردہ رسائل کی تفصیل، منٹو پر لکھی جانے والی اور مرتب کی جانے والی کتب، خطوط اور فلمی کہانیوں کی تفصیل، کلیات، مجموعی کام، تحقیق و تنقید اور رسائل کے خصوصی نمبروں کی تفصیل ہے۔

جلد دوم میں عرضِ مرتب کے بعد ’سعادت حسن منٹو کے افسانے: تکنیکی و موضوعاتی تنوع‘ کے عنوان سے مضمون ہے۔

تیسری جلد میں جیسا کہ پہلے بھی بتایا گیا ہے عرضِ مرتب کے نوٹ کے بعد ’کلیاتِ منٹو اور تدوینِ متن کے مسائل‘ کے عنوان سے بہت سی ایسی باتیں بھی سامنے آ گئی ہیں جو ایسے بکھری ہوئی تھیں کہ کبھی پوری طرح سامنے نہیں آئی تھیں۔

کلیات کی چوتھی جلد ڈراموں پر مشتمل ہے۔ اس میں بقول منٹو کے ’ریڈیائی فیچر‘ بھی ہیں۔ ڈراموں کے بارے میں منٹو کے اس مشاہدے کو دہرانا ضروری ہے ’یہ ڈرامے روٹی کے اس مسئلے کی پیداوار ہیں جو ہندوستان میں ہر اس ادیب کے سامنے اس وقت تک موجود رہتا ہے، جب تک وہ مکمل طور پر ذہنی اپاہج نہ ہو جائے‘۔ اس جلد میں ’منٹو ڈرامے: فنی و فکری تجزیہ‘ کے عنوان سے مضمون شامل ہے۔

خاکوں پر مشتمل پانچویں جلد میں عرض مرتب کے بعد ’سعادت حسن منٹو کی خاکہ نگاری‘ کے عنوان سے مضمون ہے، جس سے خاکوں کے بارے میں اور کسی حد تک شخصیات کے بارے میں بھی معلومات ملتی ہیں۔

چھٹی جلد منٹو کے مضامین پر مشتمل ہے۔ اس میں منٹو کے افسانوں پر بنائے جانے والے مقدمات کے حوالے سے لکھے گئے مضامین کے علاوہ فحاشی کے بارے میں بھی مضامین شامل ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی ان مضامین کے بارے میں ’سعادت حسن منٹو کے مضامین کا تجزیاتی مطالعہ‘ کے عنوان سے خود امجد طفیل کا بھی مضمون شامل ہے۔

ساتویں جلد میں منٹو کے کیے ہوے تمام تراجم یک جا کر دیے گئے ہیں۔ اس میں زیادہ ترجمے تو افسانوں کے ہیں لیکن ڈراموں اور شاعری کے تراجم بھی ہیں اور ان کے ساتھ باری علیگ اور منٹو کے اپنے لکھے ہوئے تعارفی مقدمات بھی۔ عرضِ مرتب میں امجد نے بالکل صحیح کہا ہے کہ ان تراجم نے منٹوکی فنی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔

نئے لکھنے والے ان تراجم سے بھی کچھ سیکھ سکتے ہیں ۔ اگرچہ اصل بات تو ترجمے کرنے کی ضرورت ہے، جس کے ذریعے مترجم زبان اور الفاظ کے اس تجربے سے گزرتا ہے جو ایک زبان کے احساسات، تجربات اور مشاہدات کو دوسری زبان میں لاتے ہوئے ہی حاصل ہوتا ہے۔

اس جلد میں ’منٹو کے تراجم کی تخلیقی حیثیت‘ کے عنوان سے امجد طفیل نے نہ صرف منٹو کے ترجموں کے انتہائی اہم پہلوؤں کی نشاندہی کی ہے بلکہ ترجموں کی مجموعی نوعیتوں کو بھی موضوع بنایا ہے۔

بلاشبہ امجد طفیل کی مرتب کردہ کلیات شاید اب تک منٹو کی عمدہ ترین کلیات ہے۔ شاید میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ مجھے شمس الحق عثمانی کی تدوین اور ترتیب کا انداز زیدہ بہتر محسوس ہوا ہے۔ خاص طور انھوں نے جیسے حواشی میں بہت سی باتوں کی وضاحت کی ہے وہ پڑھنے والے کو ہر بات کا جواز بھی پیش کر دیتی ہے۔

Image caption اجمد طفیل کے اس کام کی اہم ترین بات یہ ہے کہ انھوں نے منٹو کے افسانوں کو مرتب کرتے ہوئے زمانی ترتیب کو سامنے رکھا ہے

اُن پڑھنے والوں کے لیے جو لکھتے بھی ہیں عثمانی کی کلیات زیادہ کارآمد ہو گی، جب کہ عام پڑھنے والے کے لیے امجد طفیل کی مرتب کردہ کلیات دیگر تمام کلیات اور مجموعوں کے مقابل بہترین ہو گی۔ کیونکہ اس میں محض چند ایک غلطیاں ہیں اور وہ بھی ایسی ہیں منٹو کے کام کی اہمیت کو کسی طور کم نہیں کر سکتیں۔

ساتوں جلدوں کے صفحات اور قیمتیوں کی تفصیل درج ذیل ہے۔

جلد اوّل: صفحات: 479، قیمت: 900 روپے۔

جلد دوم: صفحات: 656، قیمت: 1000 روپے۔

جلد سوم: صفحات: 501، قیمت: 900 روپے۔

جلد چہارم: صفحات: 674، قیمت: 900 روپے۔

جلد پنجم: صفحات: 279، قیمت: 575 روپے

جلد ششم: صفحات: 574، قیمت: 850 روپے

جلد ہفتم: 360، قیمت: 675 روپے۔

اگر آئندہ اشاعت میں ہر جلد میں باقی جلدوں کے مشمولات کی تفصیل، ہر جلد کے پشتے پر بھی جلد کا نمبر دینے اور شمس الحق عثمانی کے حواشی کا بھی فائدہ اٹھانے میں قباحت نہ سمجھی جائے تو اس کلیات کی افادیت اور بڑھ سکتی ہے۔

یہ کلیات دیدہ زیب ہے، قیمت کام کی نوعیت کے اعتبار سے اگرچہ مناسب ہے لیکن عام پڑھنے والوں کے لیے ضرور زیادہ ہو گی۔

اسی بارے میں