بارش میں شریک، شاعری اور مصوری

نام کتاب: بارش میں شریک

شاعر: عطا تراب

مصورہ: فائزہ خان

صفحات: 208

قیمت: 500 روپے

ناشر: راستے پبلی کیشنز۔http://www.rastayngo.com

مجھے اس کتاب کا قابلِ مواخذا ایڈیشن بھیجا گیا ہے۔ اب پتا نہیں کہ اس پر بات کرنا، اس کے بارے میں کسی کو بتانا بھی مواخذگی کی حدود میں آتا ہے یا نہیں۔

کتاب میں ایسے ایسے مصوروں کی آرا ہیں کے ان کے بعد مصوری کے بارے میں کچھ کہنے کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔ شاعری کے بارے میں تو کمال یہ ہوا ہے کہ فتح محمد ملک اور فہمیدہ ریاض ایسی انتہائیں یک جا ہیں۔

فہمیدہ ریاض مجنوں صفت آنکھ اور دل کی مالک ہیں۔ اگرچہ یہاں اُن کی رائے قدرے سرپرستانہ ہے۔ دیکھیں:

’بارش میں شریک، جیسے دل رُبا، ذہن میں سوندھے تصور جگانے والے نام کی یہ کتاب جو عطا تراب کی شاعری اور فائزہ خان کی مصوری پر مشتمل ہے، ایک حیرت انگیز کتاب ہے ۔ ۔ ۔ جرات مندانہ اور طاقتور شعری اور صوری تخلیقات جو دل کو چھو لینے والی اور پُر کشش ہیں کسی نادر و نایاب خزانے کی طرح اس کتاب کے اوراق میں چھپی ہیں‘۔

فتح محمد ملک کا کہنا ہے: میں نے عطا تراب کے ان اشعار کو فائزہ خان کی مصوری کی روشنی میں بار بار دیکھا اور بار بار اس سوچ کو دامن گیر پایا کے شعر اچھا ہے یا تصویر پسندیدہ ہے؟ بالآخر تھک ہار کر یہ موازنہ ترک کر دیا اور اشعار اور تصاویر کو وہ دروازہ سمجھا جس سے گزر کر قامتِ حسن میں گُم ہو گیا‘۔

مصوری کے حوالے سے استاد سعید اختر کی آنکھ کا اشارہ بھی اپنی جگہ سند ہے یہاں تو وہ کہتے ہیں: آپ (فائزہ) کا تراب کی شاعری کو تصویروں میں بدل دینا اچھا لگا ۔ ۔ ۔ تراب ایک اچھا شاعر ہے اور آپ ایک اچھی مصورہ‘۔

منصور راہی نے خود کو مصوری تک محدود رکھا ہے: فارمالسٹ اور سینتھیسس پر بنیاد کرتا نپا تُلا اظہار، موضوعات کا انسانی جسم کے خطوط میں گندھے ہوے، احساس کی ایک خاص روش سُجھاتے اور فینٹیسی کی چھاپ چھوڑتے رنگ اور ہئیتیں‘۔

راہی نے رائے انگریزی میں دی ہے جہاں لفظوں کے باہمی استعمال کو کھولنا ان میں اپنی معنی دینے کے مترادف ہے۔ اس لیے انھوں نے اس کی کوشش خود بھی نہیں کی۔

انور حسین جعفری کو کتاب کا عنوان دلچسپ اور کتاب منفرد لگی ہے اور اس کی انفرادیت ان کے نزدیک مصور اور شاعر کے مابین ہم کاری کی نوعیت میں ظاہر ہوتی ہے۔

یہ بہت سی آرا میں سے چند ہیں۔

خود عطا تراب اپنے تئیں میر صاحب کے راستے پر ہیں۔ وہ کہتے ہیں: آخر میں التماس ہے کہ آپ بھی ہمارے ساتھ زندگی، محبت، جمالیات، شعور اور ایمان کی ’بارش میں شریک‘ ہو جائیں۔

وہ اپنا تعارف کراتے ہوئے کہتے ہیں:

تراب تم بھی عجیب مشکل سے آدمی ہو کہ کوئی کتنا ہی خوبصورت ہو

کوئی کتنا ہی دلربا ہو کہ کوئی چاہے ہزار جانیں

تمھارے دل پر کرے نچھاور پر ایک مدت سے بڑھ کے تم نے

کبھی محبت نہیں نبھائی تراب تم بھی عجیب مشکل سے آدمی ہو۔

عطا تراب کی شاعری پڑھنے کی ہے اور سوچنے کی ہے تاکہ داد، تعریف، مطالعے، تربیت اور یادداشت سے پیدا ہونے والی دشواریوں کے بارے میں جانا جا سکے۔ یہ پڑھنے والا کا مسئلہ نہ ہو تو لطف بھی لیا جا سکتا ہے اور سر بھی دُھنا جا سکتا ہے۔

فائزہ خان کی مصوری میں تزئین کاری بھی ہے اور اپنے اظہار کی کوشش بھی۔

خیال آتا ہے کہ منصور راہی کو فارملسٹ کیوں یاد آئے ہیں۔ کیا وہ فائزہ کے کام کو سماجی اور تاریخی تناظر سے آگے جاتا محسوس نہیں کرتے؟ یہ سوال مصوری کا ہے۔ ادب میں فارملسٹ کسی اور جغرافیے اور مخصوص متن کی ساخت سے زیدہ دلچسپی رکھتے ہیں لیکن روس میں فارملسٹوں کے بیس سال بیرونی دخل اندازی سے متن کی آزادی کے سال ہیں۔

اول تو اس طرح تصویروں کی اشاعت کو سامنے رکھ کر مصوری کو سمجھنے، محسوس کرنے اور زیر بحث لانے کی کوئی بھی کوشش منصفانہ نہیں ہو سکتی لیکن یوں ہی رنگوں اور ہئیتوں سے ذہن روس کی پچاس سال پہلے کی مصوری طرف جاتا ہے۔ لیکن اس عہد کی روسی مصوری بالعموم ایک نوع کی ایسی حقیقت پسندی تھی، جو محسوساتی تہ تک رسائی کے لیے ایک مختلف اپروچ کا تقاضا کرتی ہے۔

فائزہ کے ہاں تصویریں زیادہ سے زیادہ معنی کو سمونے اور پھر انہیں ایک نئی شکل دینے کی کوشش کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ معنی کی یہی بالادستی اور اوّلیت تراب کی شاعری کا بھی خاصا اور دونوں کی قدرِ مشترک بھی ہے۔

تراب اور فائزہ، دونوں کے لیے خود ان کی مہارت، متعین مقاصد تخلیقی آزادی کو باندھ کر رکھتے ہیں۔

مصوری اور شاعری کو ایک دوسرے کا مددگار بنانے کے ایک طریقے کی طرف استاد سعید اختر نے اشارہ کیا ہے۔ جس میں دونوں ایک دوسرے سے الگ تخلیق ہوتے تھے۔ شعر کو تصویر سے وابستہ کر کے ایک نیا رخ دینے کی کوشش کی جاتی تھی لیکن یہ طریقہ تلازماتی ہوتا تھا۔

موجودہ کتاب میں غالبًا ایسا نہیں ہے۔ اس میں شاعری کو السٹریٹ کیا گیا ہے لیکن یہ السٹریشن عمومی طرز کی نہیں ہے، مصورہ نے معنی کے ساتھ ساتھ تاثر کو بھی لگتا ہے کہ ترجیح طور رپ شامل رکھنے کو کوشش کی ہے۔

شعر میں معنی و مفاہیم اور خارجی غنایت کو ترجیح دینے والوں کو تراب کی شاعری کا بڑا حصہ بہت پسند آئے گا۔ وہ انھیں ایک استاد بھی محسوس کر سکتے ہیں۔

کتاب آرٹ پیپر پر بہت عمدہ شائع ہوئی ہے، کم و بیش تمام ہی چار رنگی کہی جا سکتی ہے۔ عام طور پر شعری مجموعے ایسے شائع نہیں ہوتے۔ اگر ہوئے بھی ہیں تو شاعر سرکاری افسروں یا بینکار تھے۔ ایسے انداز شعری تاثر کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتے۔

ان تمام باتوں کے باوجود شاعری اور مصوری کا یہ اتصال ایک چیلنج بھی ہے جن وہ تمام مراحل درپیش ہو سکتے ہیں، جو مجھے پیش آئے۔

اسی بارے میں