بڑے ادیب اور افسانہ نگار منٹو کی غلطیاں

نام کتاب: ہمارے لیے منٹو صاحب

مصنف: شمس الرحمٰن فاروقی

صفحات: 113

قیمت: 250 روپے

ناشر: شہر زاد، بی 155، بلاک 5، گلشنِ اقبال، کراچی

www.scheherzad.com

شمس الرحمٰن فاروقی ان نقادوں میں سے ہیں جنھیں اردو ادب کی تاریخ کے سرفہرست نقادوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی یہ کتاب ایک خط پر مبنی ہے جس میں انھوں نے سعادت حسن منٹو کے بارے میں سہ ماہی ’اثبات‘ کے مدیر اشعر نجمی کے سوالوں کے جواب دیے ہیں۔

لگتا ہے کہ اشعر نجمی منٹو کی سوویں سالگرہ کے حوالے سے اثبات کا خصوصی شمارہ یا شمارے میں کوئی گوشہ مرتب کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں انھوں نے یہ سوال صرف فاروقی صاحب کو بلکہ اور کئی لوگوں کو بھی بھیجے ہیں اور غالبًا اثبات کا آئندہ شمارہ یا گوشہ ان سوالوں کے جوابوں پر مشتمل ہوگا۔

ان سوالوں کے بارے میں فاروقی صاحب کا کہنا ہے: ’تم نے جو سوال قائم کیے ہیں وہ ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ ہم فکشن اور منٹو کے فکشن کے بارے میں ذرا مختلف انداز میں سوچنے کی کوشش کریں۔‘

فاروقی پہلی وضاحت یہ کرتے ہیں: ’منٹو کو محض جنسی مضامین اور فحاشی پر مبنی تحریروں تک محدود سمجھنا منٹو کے ساتھ بددیانتی اور ناانصافی ہے۔‘ وہ اسے منٹو کی بد قسمتی ہم عصر تنقید کا شرمناک عجز قرار دیتے ہیں۔

میرے خیال میں تو منٹو کی خوش قسمتی تھی کہ ان کے افسانوں پر فحاشی کے مقدمات بنوانے والوں کو فاروقی صاحب جیسا وکیل میسر نہیں آیا، آتا تو کوئی بھی منصف منٹو کو جیل جانے سے نہ روک پاتا۔ یہ الگ بات ہے کہ اگر منٹو کو یہ موقع بھی میسر آتا تو اردو کی گود قید اور قیدیوں کے بارے میں ایسی خالی نہ ہوتی جیسی ہے۔

اردو میں منٹو، عصمت اور واجدہ تبسم پر جنس نگاری اور فحاشی کے الزام لگانے والے اس معاشرتی ذہنیت کے نمائندے ہیں جو اب اوپر سے نیچے تک بند بٹنوں والی شیروانیوں اور چوڑی دار پائجاموں سے ہی باہر نہیں آ سکی۔ ان کے سگنل تو گاڑی چلنے سے پہلے گر جاتے ہیں تو کیسی جنس اور کہاں کی فحاشی۔ منٹو، عصمت اور واجدہ نے تو صرف اتنا ہی بتانے کی کوشش کی ہے کہ جنس بھی ہوتی ہے وہ بھی اشاروں اور کنایوں میں ورنہ تو اردو ادب نے ابھی اس لسانی آزادی تک میں قدم نہیں رکھا جو شرع کے شارحین کے استعمال میں رہتی ہے۔

اگر فاروقی صاحب کو سلیم احمد کے اس مصرعے پر بات کرنا ہوتی ’گاڑی چلتی نہیں گر جاتا ہے پہلے سگنل‘ تو وہ ضرور یہ غلطی نکالتے کہ گاڑی تو چلتی ہی سگنل گرنے کے بعد ہے اور اس بارے میں کسی ریلوے ماہر کی سند بھی شامل کر دیتے۔ انھوں نے منٹو کی ایسی ہی بہت سی ’غلطیوں اور کم علمیوں‘ کی نشاندہی اس کتاب میں کی ہے اور اور تو اور ڈاکٹر انور سجاد کی رائے تک شامل کی ہے، اس کی وجہ انھوں نے منٹو کی ’حسبِ معمول جلد بازی‘ کو قرار دیا ہے اور پھر اس کا سبب بھی بتایا ہے:

’سچ ہے، پیٹ بڑا بدکار ہے بابا۔ جیسے بھی افسانہ مکمل کرنا ہے اور کالا پانی حلق سے اتارنا اور کچھ روپے بچ رہے تو بال بچوں کی روٹی کا بھی انتظام کرنا ہے اور سب مجبوریاں نہ بھی ہوں تو تیز نویسی کی مجبوری تو ہے ہی۔‘

اس کی تائید میں انھوں نے احمد راہی کا بیان پیش کیا ہے، جس کے ذریعے یہ ثابت ہوتا ہے کہ منٹو صبح اخبار پڑھ کو موضوع چنتے، پھر لکھنے لگتے اور ایک ایک صفحہ احمد راہی کو دیتے جاتے، چار، پانچ چھ صفحے کا افسانہ ہوتا۔ ۔ ۔ وہ افسانے بیس یا پچیس روپے پر بیچ دیا۔ ہو گیا ہو گا ایسا ایک آدھ بار، منٹو اور احمد راہی ہمیشہ تو ساتھ ساتھ نہیں رہے۔

یعنی جلد بازی اور زود نویسی منٹو کی ضرورت بھی تھی اور مزاج کا حصہ بھی، منٹو افسانہ لکھ کر پڑھتے نہیں تھے اس لیے ’طے شدہ انجاموں‘ کے ماحول بنانے میں خامیاں ملتی ہیں۔

یہ فاروقی صاحب کا گرائمرائی طرز عمل ہے اور اس سے اگر اور کچھ نہیں تو یہ قیاس ضرور کیا جا سکتا ہے کہ وہ خود فکشن کیسے لکھتے ہیں۔ ویسے کئی لکھنے والوں نے ایسے انکشافات بھی کیے ہیں کہ وہ لکھنے کے لیے کیسے کیسے تحقیق و تردد کرتے ہیں۔ تو ضرور، یہ بھی ہو سکتا ہے ایک طریقہ، لیکن کیا اسے ہی واحد اور آخری طریقہ کہا جا سکتا ہے اور کیا یہی طریقہ دنیا بھر کے تمام فکشن لکھنے والوں کا ہے؟ ہو بھی، تو کیا یہ ’عدیم انظیر تجربے‘ اور ’عمیق ترین سطح‘ تک رسائی دے سکتا ہے؟

فاروقی صاحب کا طریقہ اس کتاب میں یہ لگتا ہے کہ جیسے سب الزام لگانے اور اعتراض اٹھانے والے اپنی علمی حیثیت کی بنا پر غلط ہیں ویسے ہی سب تعریف کرنے والے بھی، بس ایک وہ ہیں جو بتا سکتے ہیں کہ درست اعتراض کیا ہے اور اصل تعریف کیا ہو سکتی ہے۔

Image caption شمس الرحمٰن فاروقی ان نقادوں میں سے ہیں جنھیں ہمیشہ اردو ادب کی تاریخ کے سرفہرست نقادوں میں شمار کیا جائیگا

یہ تو انھوں نے شروع میں ہی طے کر دیا ہے: ہر چند کہ منٹو کے مقابلے میں میرا جی کے یہاں گہرائی زیادہ ہے، لیکن منٹو کی خوش نصیبی کہیے کہ ان کے یہاں ’سماجی معنویت‘، ’معاصر دنیا کے مسائل کی عکاسی‘ اور ’سماج کے گھناؤنے پہلوؤں کا شعور‘ دریافت کرنا آسان ہے اور یہ چیزیں ہماری تنقید، خاص کر فکشن کی تنقید کا من بھاتا کھاجا ہیں۔ افسانے کے پلاٹ کا خلاصہ، افسانے کے کرداروں کا سرسری بیان، اور افسانے میں مندرج ’سماجی‘ مسائل پر بحث، یہ باتیں بند کر دی جائیں تو فکشن کے ہمارے نقادوں کا دم بند ہو جائے۔

اس کتاب یا خط کا ہر صفحہ سوچنے، اکسانے اور مشتعل کرنے کی بے پناہ قوت رکھتا ہے۔ ہنسنے والے اس پر ہنس سکتے ہیں اور رونے والے رو بھی سکتے ہیں۔ پڑھنے والے تو اس سے جان نہیں چھڑا سکتے ہاں ان کے مزے ہیں جو پڑھتے ہی نہیں۔

مجھے نہیں پتا کہ اس کتاب کے متن کو سرکلر یا دائروی تنقید کہنا کہاں تک مناسب ہوگا کیونکہ یہ نہ تو مسلسل اوپر اٹھ رہا اور نہ ہی نیچے گہرائی میں جاتا دکھتا ہے، نہ آگے جا رہا ہے اور نہ ہی پیچھے ہٹ رہا ہے بلکہ نکتہ بہ نکتہ، جس میں ہر نکتہ خود بھی ایک الگ حیثیت رکھتا ہے، ایک دائرہ بناتا ہو واپس وہیں آ جاتا ہے جہاں سے شروع ہوتا ہے اور فاروقی صاحب خود کو یہ کہنے پر مجبور پاتے ہیں: ہمارے ادب میں منٹو پہلا آدمی ہے جسے کسی نقاد کی ضرورت نہیں، خواہ وہ نقاد شمس الرحمٰن فاروقی ہی کیوں نہ ہو۔

اجمل کمال اس کتاب کو ’رولر کوسٹر‘ قرار دیتے ہیں، یعنی یہ جھولا جب تک چل رہا ہوگا، آپ خود کو کوسوں دنیا جہان کا سفر کرتے اور اوپر نیچے آتا جاتا پائیں گے اور جب رکے گا تو آپ وہیں اتریں گے جہاں سے چلے تھے لیکن اگر آپ سرسری نہ گزریں تو اس رولر کوسٹر میں ہر جا اک جہاں دیگر بھی ہے۔

فاروقی صاحب کے اعتراضات سے منٹو کی حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا دل چاہتا ہے کہ کاش منٹو صاحب نے فاروقی صاحب کے اعتراضات کی گنجائش بھی نہ چھوڑی ہوتی۔

کتاب کے پہلے حصے میں منٹو صاحب کی سیاسی بصیرت اور دوراندیشی پر بھی بات، اس میں اردو کا کوئی بھی فکشن نگار منٹو صاحب کا ہم پلہ نہیں۔ ذرا آپ بھی تو پڑھ کر بتائیں۔

یہ کتاب اچھی شائع ہوئی۔ ٹائپوز ہیں لیکن معمولی۔

اسی بارے میں