مکھی کے خالق احمد ہمیش انتقال کر گئے

Image caption احمد ہمیش کی شخصیت نہایت متنازع رہی

اردو کے اہم افسانے نگار، نثری شاعری کا بانی ہونے کے دعویدار اور نقاد احمد ہمیش، طویل علالت کے بعد اتوار کی شام کراچی میں انتقال کر گئے۔ ان کی 73 سال تھی۔

انھوں نے پسماندگان میں بیوہ شہناز ہمیش، بیٹی انجلا ہمیش اور بیٹا فرید احمد چھوڑے ہیں۔ ان کی نماز جنازہ پیر کو نماز عصر کے بعد مسجد بابا موڑ نارتھ کراچی میں ادا کی جائے گی اور تدفین سخی حسن قبرستان میں ہو گی۔

وہ یکم جولائی 1940 کو ہندوستان کی ریاست اتر پردیش کے ضلع بلیا کے ایک چھوٹے سے گاؤں بانسپار میں پیدا ہوئے۔ وہ دس سال کے تھے کہ ان کی والدہ انتقال کر گئیں۔ جلد ہی ان کے والد نے ایک اور شادی کر لی۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی سوتیلی والدہ کا سلوک ان سے اور ان کے دوسرے دو بھائیوں اور بہن سے ناروا تھا جس کی وجہ سے وہ اٹھارہ سال کی عمر میں گھر چھوڑ کر پاکستان آگئے۔ یہیں آ کر انھوں نے شاعری کی ابتدا کی اور ان کی پہلی نظم ماہنامہ نصرت میں 1962 میں شائع ہوئی۔ جس سے ان کے دعوے کے مطابق اردو میں نثری شاعری کی ابتدا ہوتی ہے۔

1970 کے آس پاس 1970 وہ کراچی منتقل ہو گئے اور اس کے بعد آخر تک کراچی ہی میں رہے۔ وہ کچھ عرصے تک وہ ریڈیو پاکستان کراچی سے نشر ہونے والے ہندی پروگرام کے لیے بھی کام کرتے رہے۔ تاہم انھیں ریڈیو کے باقاعدہ ملازمت نہیں مل سکی۔ جب ریڈیو پاکستان کی یہ سروس کراچی سے اسلام آباد منتقل کر دی گئی تو وہ گزر بسر کے لیے مختلف ملازمتیں کرتے رہے۔

1970 کے دوران ہی جب قمر جمیل کی قیادت میں نثری شاعری نے ایک تحریک کی شکل اختیار کی تو احمد ہمیش اس کے اہم رکن تھے۔

سات افسانوں پر مشتمل ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’مکھی‘ 1968 میں ہندوستان سے شائع ہوا جس کی وجہ سے انھیں ایک اہم افسانہ نگار سمجھا جانے لگا۔ اس مجموعے میں شامل افسانہ ’مکھی‘ خاص طور ان کی شہرت کا باعث ثابت ہوا۔

ان کے افسانوں کا دوسرا مجموعہ ’کہانی مجھے لکھتی ہے‘ 1998 میں شائع ہوا

احمد ہمیش کی شاعری کا مجموعہ ’ہمیش نظمیں‘ کے عننوان سے 2005 میں شائع ہوا تھا۔ اس کے علاوہ ان کی شاعری پاکستان اور ہندوستان کے تمام ہی اہم جریدوں میں شائع ہوتی رہی۔ وہ نثری شاعری میں انتہائی منفرد اسلوب کے مالک تھے۔

وہ نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹ کراچی سے بھی وابستہ رہے۔

گزشتہ کئی سال سے وہ اپنی دختر انجلا ہمیش کے ساتھ مل کر سہہ ماہی ادبی جریدہ ’تشکیل‘ شائع کر رہے تھے۔ اس رسالے کی پیشانی پر وہ فقرہ درج ہوتا تھا جو بے حد مشہور ہوا: ’اردو ادب کا شاک انگیز استعارہ۔‘ اس رسالے میں چھپنے والے اداریے بھی انتہائی شاک انگیز ہوا کرتے تھے اور ان میں مختلف ادبی شخصیات کو دھواں دھار تنقیص کا نشانہ بنایا جاتا تھا جو اکثر اوقات تنقید کی حدوں سے نکل کر ذاتیات میں داخل ہو جایا کرتا تھا۔

اسی بارے میں