سکاٹ لینڈ میں ننھی منی کتابوں کی نمائش

Image caption اولڈ کنگ کول نامی یہ کتابی برطانوی ایک پینس کے سکے کے برابر ہے اور دنیا کی سب سے چھوٹی کتاب ہے

نیشنل لائبریری آف سکاٹ لینڈ نے منی ایچر یعنی ننھی کتابوں کی منفرد نمائش لگائی ہے۔

اس نمائش میں عوام کے لیے 85 منی ایچر کتابیں رکھی گئی ہیں۔ نمائش میں رکھی گئی ایک کتاب صرف چاول کے دانے جتنی ہے۔

چاول کے دانے کے سائز والی 1985 میں شائع شدہ ’اولڈ کنگ کول‘ نامی کتاب کی اونچائی صرف نو ملی میٹر ہے۔ یہ کتاب پیسلی میں واقع گلینیفر پریس سے شائع ہوئی تھی۔

اس کتاب کے پاس بیس سالوں تک کتابوں کی دنیا کی سب سے چھوٹی کتاب ہونے کا اعزاز رہا ہے۔

سکاٹ لینڈ کے دارالحکومت ایڈنبرا میں جاری اس نمائش میں داخلہ مفت ہے اور یہ 17 نومبر تک جاری رہے گی۔

اس نمائش کے منتظم جیمز مائیکل نے کہا ’ان میں سے کئی فن کے بے مثال نمونے ہیں تو کئی تکنیک کا معجزہ۔ یہ کتابیں جمع کیے جانے کے لائق ہیں۔‘

منی ایچر کتابیں ان کتابوں کو کہا جاتا ہے، جن کی اونچائی اور چوڑائی 5.7 سینٹی میٹر سے کم ہو۔

پہلی مستند منی ایچر کتاب کی اشاعت 1475 میں ہوئی تھی جس کا نام ہے ’آفیشم بیٹا مریا‘ اور یہ کتاب 2.5 سینٹی میٹر اونچی اور 4.5 سینٹی میٹر چوڑی تھی۔

سکاٹ لینڈ کا کردار

Image caption روبرٹ برنز کی نظموں کی کتاب گلینفر پریس نے آخری بار 2007 میں شائع کی

سکاٹ لینڈ انیسویں صدی سے ہی منی ایچر کتابوں کا ایک اہم مرکز رہا ہے۔

گلاسگو میں واقع تنظیم ’ڈیوڈ برائس اینڈ سنز‘ 1870 سے پہلی جنگ عظیم کے درمیان منی ایچر کتابوں کے معاملے میں دنیا کے سب سے زیادہ کامیاب پبلشرز میں سے ایک بن گئی تھی۔

برائس نے اشاعت کے آغاز میں رابرٹ برنس کی کتاب روایتی سائز میں شائع کی تھی۔ تین سالوں میں اس قسم کی صرف پانچ ہزار کاپیاں شائع ہوئیں۔ بعد میں انھوں نے اس مجموعے کو دو منی ایچر کتابوں کی شکل میں شائع کیا تو اس کی ایک لاکھ کاپیاں ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو گئیں۔

بیسویں صدی کے آخر میں گلینیفر پریس نے سکاٹ لینڈ میں منی ایچر کتابوں کی اشاعت کی روایت کو آگے بڑھانا شروع کیا۔

اس پریس کا قیام 1967 میں ہیلن اور ایان میکڈ ونلڈ نے شوقیہ ذاتی پریس کے طور پر کیا تھا۔ پہلے وہ صرف گھریلو اور دفتر میں استعمال میں آنے والی سٹیشنری چھاپتے تھے۔

1970 کے شروع تک یہ پریس پوری دنیا میں منی ایچر کتابوں کی اشاعت کے لیے مشہور ہو گیا۔ یہ اشاعت 40 سالوں بعد 2007 میں بند ہو ئی، لیکن اس سے قبل یہ 57 مختلف منی ایچر کتابیں چھاپ چکا تھا۔

مائیکل کہتے ہیں ’یہ نمائش منی ایچر کتابوں کی اشاعت کے سلسلے میں سکاٹ لینڈ کی ہنرمندی کو ظاہر کرنے کے لیے منعقد کی گئی ہے۔‘