کم بجٹ کی فلموں کا دور واپس آ رہا ہے؟

اداکار عرفان خان اور نواز الدين صدیقی کی فلم ’لنچ باکس‘ اس ہفتے ریلیز ہو رہی ہے۔ کرن جوہر کے دھرما پروڈکشن جیسے بڑے بینر کی یہ فلم بالی وڈ کی عام فلموں سے الگ ہے۔

’سٹوڈنٹ آف دی ایئر‘ اور ’یہ جوانی ہے دیوانی‘ جیسی خالص کمرشل فلم بنانے والے کرن جوہر ’لنچ باکس‘ بنانے کی وجہ بتاتے ہوئے کہتے ہیں، "یہ فلم مسالہ فلموں سے ہٹ كے ہے، لیکن پھر بھی ایسی فلم ہے جس پر میں فخر محسوس کر رہا ہوں۔ میں مانتا ہوں کہ مجھ میں ایسی فلم بنانے کی قابلیت نہیں ہے لیکن پھر بھی ایسی فلموں کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے کم سے کم ہم ان سے وابستہ تو ہو سکتے ہیں۔‘

گزشتہ کچھ سالوں میں بالی وڈ میں بڑے اور اہم پروڈکشن ہاؤسز اور سٹوڈیوز کی جانب سے کم بجٹ کی فلموں میں پیسہ لگانے اور ان کی ڈسٹری بیوشن کرنے کا رجحان بڑھا ہے۔ ’شپ آف تھيسيس‘، ’پان سنگھ تومر‘، ’شنگھائی‘ اور ’گینگز آف واسع پور‘ جیسی فلمیں اس کی مثال ہیں۔

تو سوال یہ ہے کیا چھوٹے بجٹ کی اور بڑے ناموں سے مبرا فلموں کے دن واپس آ گئے ہیں؟

بی بی سی ہندی کے پربھات پانڈے سے بات کرتے ہوئے ڈائریکٹر دباكر بنرجی نے کہا ’گزشتہ کچھ سالوں میں بڑے بڑے شہروں میں کئی ملٹی پلیکس کھلے اور اس سے فلمی ناظرین کا نیا طبقہ تیار ہوا۔ اس کے علاوہ بڑے سٹوڈیو اور پروڈکشن ہاؤس بھی اپنا دائرۂ کار بڑھانا چاہتے ہیں۔ ساتھ ہی انہیں ان فلموں میں فائدہ بھی نظر آنے لگا ہے، شاید اسی لیے ایسی فلموں کے تئیں ان کا حوصلہ بڑھ رہا ہے۔‘

Image caption 80 کی دہائی میں نیشنل فلم ڈویلپمنٹ کارپوریشن نے جانے بھی دو یارو جیسی فلموں کے لیے سرمایہ دیا

اداکار منوج واجپئی بھی موجودہ دور کو اچھا دور مانتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’آج سے کچھ سال پہلے تک لوگ ایسی فلموں میں پیسہ لگانے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے، لیکن آج جہاں بڑے بجٹ کی کمرشل فلمیں بن رہی ہیں تو وہیں چھوٹے فلمساز گمبھیر موضوعات پر معنی خیز فلمیں بنانے کی بھی جرات کر پا رہے ہیں۔ اس کی وجہ ہے کہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ کہانی میں دم ہے تو پیسے لگانے کے لیے پروڈیوسر انہیں مل جائے گا۔‘

ابتدائی دور

1980 کی دہائی میں نیشنل فلم ڈویلپمنٹ کارپوریشن نے ’مرچ مسالا‘ ، ’جانے بھی دو یارو‘ اور ’سلام بامبے‘ جیسی فلمیں بنائیں۔ اس وقت شیام بینیگل، گووند نہلاني، کیتن مہتا اور میرا نائر جیسے فلمسازوں کے لیے این ایف ڈی سی ایک سہارا ہوا کرتی تھی۔

1983 کی مشہور فلم ’جانے بھی دو یارو‘ کے ڈائریکٹر کندن شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں اس وقت فلم بنانے میں کتنی مشکلات کا سامنا رہا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’فلم کا بجٹ تقریباً سات لاکھ روپے مقرر کیا گیا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد میں شوٹنگ کرتے کرتے یہ بڑھ گیا لیکن ہمیں انتہائی تنگ دستی میں شوٹنگ کرنی پڑی۔ یونٹ کے لوگوں کے لیے صرف دال، روٹی بنتی۔ کبھی کبھی چاول بن جاتے اور دال میں پانی ملا ملا کر ہم اسے پورا کرتے۔‘

Image caption ایسی فلموں کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے کم سے کم ہم ان سے وابستہ تو ہو سکتے ہیں: کرن جوہر

لیکن اب بڑے پروڈکشن ہاؤسز اور سٹوڈیو کے میدان میں آنے سے فلمساز آزادی سے فلم بنا سکتے ہیں تاہم فلموں کے ناقد ارب بنرجی کا کہنا ہے کہ یہ کہنا مکمل طور پر ٹھیک نہیں ماحول بالکل مثبت ہے۔

ان کے مطابق ’بڑے پروڈکشن ہاؤس اور سٹوڈیو بھی تو آخر پیسہ کمانا چاہتے ہیں۔ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ جو پیسہ وہ لگائیں وہ واپس آئے۔ اس وجہ سے وہ جن فلمسازوں کی فلم میں پیسہ لگاتے ہیں ان سے اپنے طرح کا سنیما بنوانا چاہتے ہیں جیسے کرن جوہر یا یش راج کے پروڈکشن ہاؤس سے جو فلمیں نکلیں گی ان میں ان کے مخصوص سنیما کی چھاپ ہوتی ہے۔‘

لیکن عرفان خان جیسے اداکار خوش ہیں۔ وہ کرن جوہر جیسے بڑے نام کی اپنی فلم ’لنچ باکس‘ سے وابستگی کو اچھا اشارہ سمجھتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سے فلمسازی کا دور بدلے گا اور کمرشل فلموں کے ساتھ ساتھ دیگر فلموں کے لیے بھی اچھا ماحول بنے گا۔

یہی نہیں بلکہ منوج واجپئی جیسے اداکار بھی مانتے ہیں کہ 90 کی دہائی اور اس دہائی کے آغاز میں جو دور تھا اس سے کہیں بہتر موجودہ دور ہے کہ جب چھوٹی فلموں کی بھی نئی مارکیٹ قائم ہو رہی ہے۔

اسی بارے میں