آئس لینڈ میں ہر دسواں شخص مصنف ہے

Image caption ملک میں ہر دسواں شخص مصنف ہے

یورپی ملک آئس لینڈ میں کتابیں بہت تیزی سے لکھی اور شائع کی جا رہی ہیں۔

تین لاکھ کی آبادی والے اس ملک میں فی شخص کتاب لکھنے اور کتاب چھاپنے کی شرح دنیا کے کسی بھی خطے سے زیادہ ہے۔

آئس لینڈ کے دارالحکومت ريكيافيك میں شاید ہی کوئی شخص ہو جو صاحب کتاب نہ ہو۔

وہاں ایک محاورہ عام ہے ’ہرشخص کتاب پیدا کرتا ہے‘ اور یقیناً ہر ’شخص کے پیٹ میں ایک کتاب ہے۔‘

ملک میں ہر دسواں شخص مصنف ہے۔

کیا اس سے آپس میں مقابلہ نہیں ہو جاتا؟

نوجوان ناول نگار کرسٹین اریکسک دوتیر کہتی ہیں’ہاں، خاص طور پر میں اپنی ماں اور ساتھی کے ساتھ رہ رہی ہوں جو کہ خود مستقل لکھاری ہیں۔ لیکن ہم سب ایک ہی سال سب کتابیں شائع نہیں کرتے بلکہ ایک سال چھوڑ کر کتاب چھاپتے ہیں اس لیے ہمارے درمیان زیادہ مقابلہ نہیں ہوتا۔‘

ماگنس دوتیر آئس لینڈ کے نئے آدبی سینٹر کی سربراہ ہیں۔ یہ سینٹر ادب و تراجم کے لیے سرکار کی طرف سے مدد فراہم کرتا ہے۔

وہ ملک کے لکھاریوں کے موضوعات اور صنف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ’وہ ہر چیز لکھتے ہیں جیسا کہ جدید داستان، شاعری، بچوں کی کتابیں، ادبی اور جنسی افسانے لیکن سب سے زیادہ تیزی جرائم کے موضاعات پر لکھنے میں آئی ہے۔‘

جرائم کے موضوعات پر لکھے گئے ناولوں کی فروخت دوسری کتابوں سے دوگنی ہے۔

کتابیں لکھنے کا رواج کیوں ہے؟

آئس لینڈ کی کالے لاوا والی زمین، بڑے بڑے والکینو اور پریوں کے کہانیوں والے دریا بھی اسے کہانیاں لکھنے کے لیے موزوں خطہ بناتی ہے۔

ایک اور ناول نگارسلوی بیورن سیگیوردسن کہتے ہیں اس کا زیادہ تر تعلق ماضی سے بھی ہے۔’ہم کہانیاں بتانے والی قوم ہیں۔ جب اندھیرا ہوتا اور سخت سردی ہوتی تو ہمارے پاس کرنے کےلیے کچھ نہیں ہوتا تھا۔ شاعری اور قرونِ وسطیٰ کے دستانوں کی بدولت ہمارے پاس ہمیشہ کہانیوں کی بہتات رہی ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ’ڈنمارک سے سنہ1944 میں آزادی حاصل کرنے کے بعد ادب نے ہمارے قومی شناخت کی تعریف کرنے میں مدد دی۔‘

آئس لینڈ کے ادب کے لیے نوبیل انعام یافتہ ہالدور لاکسنس کی کتابیں ملک بھر میں پیٹرول پمپوں اور ساحتی مراکز میں فروخت ہوتی ہیں۔

اسی بارے میں