دبنگ جیسی فلموں میں منی ہی جچتی ہے غزل نہیں: انوپ جلوٹا

انوپ جلوٹا
Image caption انوپ جلوٹا کا کہنا ہے کہ آج کل فلموں میں غزلوں کا کوئی مقام نہیں ہے

بھجن گائیکی اور غزل میں نام کمانے والے بھارتی گلوکار انوپ جلوٹا کا کہنا ہے کہ ’دبنگ جیسی فلموں میں منی ہی جچتی ہے غزل نہیں۔‘

انوپ جلوٹا کہتے ہیں کہ جب آج کل دبنگ جیسی فلمیں بن رہی ہیں تو ان میں منی بدنام ہوئی جیسے گانے ہی فٹ بیٹھتے ہیں، غزلیں نہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’غزل تو تاج میں لگا ہیرا ہے جس کی جگہ سر پر ہے پیروں میں نہیں۔‘

بی بی سی ہندی سے خصوصی گفتگو میں انوپ جلوٹا نے کہا کہ وہ آٹھ سال سے گا رہے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اس سے بہتر کوئی اور شعبہ نہیں ہے۔‘

جلوٹا کہتے ہیں کہ ’لوگ محبت بھی کرتے ہیں، بہت عزت بھی کرتے ہیں۔ کئی لوگ بھجن سن کر پاؤں بھی چھوتے ہیں، بھجن گانے، نغمے کے پیسے بھی دیتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس سے بہتر کوئی دوسرا شعبہ نہیں ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اگر بھجن کو کلاسیکی انداز میں گایا جائے تو بے حد احترام حاصل کیا جا سکتا ہے۔

انوپ جلوٹا کے مطابق جب فلم ’میرے حضور‘ بنی تو اس میں ساری غزلیں تھیں۔ ’میرے محبوب‘ اور ’پاکیزہ‘ میں غزلیں تھیں۔ فلم کے حساب سے ہی موسیقی تھی لیکن اب فلم بنتی ہے ’دبنگ‘ تو اس میں ’منی‘ چاہیے۔

انوپ جلوٹا کا کہنا تھا کہ اگر ’من تڑپت ہری درشن کو آج‘ یا ’اللہ تیرو نام‘ جیسے گانے دبنگ میں استعمال کیے جائیں تو ذرا سوچیے اس کا کیا حشر ہوگا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ہیرے کا اپنا ایک مقام ہوتا ہے۔ ہیرے کو تاج میں یا انگوٹی میں لگانے کے بجائے پیروں میں رکھ دیں گے تو اس کا مزا نہیں آئے گا۔

’آج کل فلموں میں غزلوں کا کوئی مقام نہیں ہے۔ لیکن کوئی بات نہیں، غزل اپنے آپ میں مضبوط ہے۔ غزلوں کے پروگرام ہوتے ہیں۔ ہم لوگ ساری دنیا میں غزلوں کی پرفارمنس دیتے ہیں۔‘

انوپ کا کہنا تھا کہ انہوں جن فنکاروں کو سن سن کر گائیکی سیکھی ان میں بیگم اختر، مہدی حسن، غلام علی، جگجیت سنگھ، پنڈت جسراج، بھيم سین جوشی، ہری پرساد چوراسیا، پنڈت روی شنکر اور شیو کمار شرما جی کے نام شامل ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کے باقاعدہ استاد ان کے والد صاحب ہیں۔

اسی بارے میں