’میں نے اسرائیل کے لیے جاسوسی کی‘

Image caption یہ میں نے اپنے ملک کے لیے کیا اور مجھے اس پر فخر ہے۔ ارنن ملشن

’پریٹی وومن‘ اور ’فائٹ کلب‘ جیسی مشہور فلموں کے پیشکار اور ہالی وڈ کے معروف پروڈیوسر ارنن ملشن نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ماضی میں اسرائیل کے لیے جاسوسی کی ہے۔

ملشن، جن کی جائے پیدائش موجودہ اسرائیل میں واقع ہے، نے اسرائیلی تفتیشی پروگرام اودا کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ انہیں شمعون پیریز نے بھرتی کیا تھا جس کے بعد انہوں نے اسرائیل کے لیے درجنوں ”خفیہ اپریشن” کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ میں نے اپنے ملک کے لیے کیا اور مجھے اس پر فخر ہے۔‘

68 سالہ ملشن نے کہا کہ انہیں اسرائیل کے ’بیورو اف سائنٹفک ریلیشنز‘ میں بھرتی کیا گیا تھا۔ یہ ایک خفیہ تنظیم تھی جس کی سنگ بنیاد 1960 میں شمعون پیریز نے رکھی تھی۔اس ادارے کا مقصد قومی جوہری پروگرام میں مدد فراہم کرنا تھا۔

اُس زمانے میں کھاد بنانے والی ایک کمپنی کے مالک تھے۔ ان کا دعوی ہے کہ انہوں نے اسرائیل کے خفیہ جوہری پروگرام کے لیے سائنسی اور تکنیکی شعبوں میں بیورو کی مدد کی۔

پروگرام اودا کے مطابق ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ملشن 17 ملکوں میں 30 کمپنوں میں اسرائیل کے لیے ملوث تھے اور نیو ریجنسی نامی فلم کمپنی کے سربراہ بن جانے کے بعد بھی ان کی خفیہ سرگرمیاں جاری رہیں۔

انجلینا جولی اور بریڈ پٹ کی مشہور فلم ’مسٹر اینڈ مسز سمتھ‘ اور ’ایل اے کونفیڈنشل‘ ملشن کی ہی بنائی ہوئی جاسوس فلمیں ہیں۔

سوموار کو ہونے والے اس انٹرویو میں ملشن نے کہا کہ کئی ایوارڈز جیتنے والے ہدایتکار سڈنی پولاک نے حساس نوعیت کے فوجی آلات کی خفیہ خرید میں ان کی مدد کی۔ سڈنی پولاک کا 2008 میں انتقال ہو گیا تھا۔

ملشن نے اودا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ان کے اسرائیل کے لیے کام کرنے کی افواہیں کئی سال سے ہالی وڈ کی فلم انڈسٹری میں گونج رہیں تھیں اور وہ ان کا جوب دینا چاہتے تھے۔

’ہالی وڈ میں لوگ نظریاتی طور پر اسلحے کے سوداگروں کے ساتھ کام کرنا پسند نہیں کرتے۔ اسی لیے مجھے کہانیوں کے بارے کرنے کے بجائے پہلے یہ سمجھانا پڑتا ہے کہ میں بندوقیں نہیں بیچتا۔‘

اسی بارے میں