سلمان خان پر پھر سے مقدمہ چلے گا

سلمان خان
Image caption سلمان خان کو بالی ووڈ کا ’بیڈ بوائے‘ بھی کہا جاتا ہے

ممبئی کی ایک عدالت نے 2002 کے دس سال پرانے’ہٹ اینڈ رن‘ معاملے کی نئے سرے سے سماعت کا حکم دیا ہے جس میں بالی ووڈ سٹار سلمان خان مبینہ طور پر ملوث ہیں۔

اس معاملے میں سلمان خان کے خلاف کم سنگین دفاع کے تحت پہلے ہی مقدمہ چلایا جا رہا تھا۔

سلمان خان اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ 2002 میں کار چلاتے وقت ان کی کار کی زد میں آ کر فٹ پاتھ پر سونے والا ایک شخص ہلاک ہوگیا تھا۔

بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ جمعرات کو جاری ہونے والے اس حکم میں سیشن کورٹ کے جج ڈی ڈبلیو دیش پانڈے نے کہا کہ دوبارہ سماعت کے دوران تمام گواہوں کی شہادتیں دوبارہ سنی جائیں گی اور اس مقدمے کو فاسٹ ٹریک کیا جائے گا۔

جج نے استغاثہ سے کہا ہے کہ 23 دسمبر کو گواہوں کی فہرست دوبارہ جمع کرائی جائےاور اسی دن نئی سماعت کی تاریخ طے کی جائے گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ 28 ستمبر 2002 میں سلمان خان کی ٹیوٹا لینڈ کروزر باندرہ میں ایک فٹ پاتھ پر سونے والے لوگوں پر چڑھ گئی تھی جس سے ایک 38 سالہ شخص نور اللہ خان ہلاک ہو گئے تھے جبکہ دیگر تین افراد شدید زخمی ہو گئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت سلمان خان گاڑی چلا رہے تھے۔

عدالت نے اس معاملے میں قتلِ غیر ارادی کا مقدمہ چلانے کا حکم دیا تھا جس کے تحت جرم ثابت ہونے پر انہیں دس سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

اس سال فروی میں عدالت نے کہا کہ سلمان کے خلاف قتلِ غیر ارادی کی دفعات کے تحت مقدمہ چلایا جائے۔

اس سے قبل شہر جودھپور کی ایک مقامی عدالت نے اداکار سلمان خان، سیف علی خان، سونالی بیندرے اور تبو کو غیر قانونی شکار کے 14 برس پرانے ایک معاملے میں فروری کو عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

واضح رہے کہ ریاست کی پولیس نے ان کے خلاف 1998 میں مبینہ طور پر دو کالے ہرن مارنے کے سلسلے میں چار مقدمات درج کیے تھے۔ کالا ہرن اس علاقے میں نایاب ہے اور اس کے شکار پر پابندی ہے۔

اُس وقت سلمان خان اپنی فلم ’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ کی شوٹنگ کے سلسلے میں جودھپور میں تھے۔

اسی بارے میں