’پولیس کی قیادت کیسے اپنے جوانوں کو قربان کرتی ہے‘

جب ایک امریکی صحافی کراچی سے اغوا ہو جاتا ہے اور اس کے اغواکار اس کو 25 دسمبر یعنی کِرسمس کے دن ہلاک کرنے کی دھمکی دیتے ہیں تو حکومت اور ایجنسیاں پریشان ہو کر اُس پولیس افسر کے پاس مدد کے لیے آنے پر مجبور ہو جاتی ہیں جو کہ شاید واحد تفتیش کار ہے جو اس کیس میں کوئی پیش رفت کر سکے۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ پولیس اہل کار جیل میں بند ہے۔

یہ کہانی ہے عمر شاہد حامد کے سنسنی خیز ناول ’دا پرزنر‘ یعنی ’قیدی‘ کی جسے حال ہی میں پین مکمِلن پبلشرز نے شائع کیا ہے۔

جیل میں بند یہ پولیس اہل کار انسپکٹر اکبر خان ہے۔ کراچی کا معروف و بدنام پولیس افسر جس سے نہ صرف جرائم پیشہ افراد بلکہ اس کے اپنے کئی سینئیر افسر بھی خوف زدہ ہیں، اور اکبر خان سے بات کرنے کے لیے تفتیشی ٹیم کو اُس کے پرانے دوست اور ساتھی پولیس افسر کونٹسٹنٹائن ڈا سوزا سے رجوع کرنا پڑتا ہے جو اب جیل میں تعینات ہے۔

ان دونوں پولیس والوں کی دوستی کی کہانی ہے اور پاکستان کے ان تمام پولیس والوں کی کہانی بھی ہے جن کو ان کے ذمہ دار افسران اور سرکار نے جرائم پیشہ لوگوں اور دہشت گردوں کے سامنے تنہا چھوڑ دیا ہے۔

مغوی امریکی صحافی کو بازیاب کرنے کے دوڑ کی کہانی جیسے جیسے آگے بڑھتی ہے تو یہ کراچی کے قانون نافذ کرنے والوں کی کہانی بن جاتی ہے جن کو ان کے اپنے افسران قربانی کا بکرا بنا دیتے ہیں۔ کہانی میں دکھایا گیا ہے کہ پولیس کی قیادت نے کیسے سیاسی مصلحتوں کو ترجیح دے کر اپنے ہی جوانوں کو قربان کیا ہے۔

پاکستان کے آج کل کے حالات میں جب پولیس والے آئے روز ہی کسی نہ کسی دہشت گرد حملے میں مارے جا رہے ہیں، قیادت اور بہادری کے سوالات پر غور کرنے کی انتہائی ضرورت ہے۔ اور اس کتاب کی کہانی ان مسائل کے کئی پہلو اُجاگر کرتی ہے۔

یہ ایک سنسنی خیز کہانی ہے جو تیزی سے آگے بڑھتی چلی جاتی ہے۔ اس کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ اس کے مرکزی کردار اور ’ہیرو‘ پی ایس پی افسران نہیں (وہ لوگ جو سول سروس کے ذریعے پولیس میں آتے ہیں) بلکہ ’رینکر‘ (ڈائریکٹ بھرتی والے) ہیں، کیونکہ عموماً عوام میں یہ ہی تاثر پایا جاتا ہے کہ پی ایس پی والے ہی ’اچھے‘ ہوتے ہیں۔ اچھا بُرا کون ہے، غلط صحیح کیا ہے، یہ سوالات بھی کہانی کے ذریعے سامنے آتے ہیں۔ اکبر خان کو کراچی پولیس کا بہترین اور سب سے دلیر افسر بتایا جاتا ہے لیکن ساتھ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ وہ خود فحر سے بتاتا ہے کہ اس نے کتنے خطرناک مجرموں کو ہلاک کیا ہے، کیونکہ بقول اس کے یہ لوگ عدالتوں سے بری ہو جاتے ہیں۔

مصنف عمر شاہد حامد خود کراچی پولیس کے ایک تجربہ کار افسر ہیں جن کے دفتر پر کئی سال پہلے بم حملہ بھی ہوا تھا۔ وہ کراچی کے خطرات اور تشدد سے اچھی طرح واقف ہیں۔ 1997 میں ان کے والد شاہد حامد کو اس وقت اسی شہر میں ہلاک کیا گیا تھا جب وہ کے ای ایس سی (کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن) کے سربراہ کے طور پر تعینات تھے۔

اس کہانی میں بارہ مسالے موجود ہیں: ایکشن، محبت، تشدد اور سنسنی۔ اس کے دونوں ہیرو (کونسٹنٹائن اور اکبر) کے علاوہ اور بھی کئی دلچسپ کردار سامنے آتے ہیں جن میں فوج کے خفیہ اداروں کے افسران، مہاجر اور سندھی سیاستدان اور کوٹھے والیاں شامل ہیں۔

یہ کراچی کی کہانی بھی ہے اور ہر بڑے شہر کی کہانی بھی۔ کراچی پولیس کی کہانی بھی اور بدی اور جرم کے خلاف بہادری سے لڑنے والے ہر پولیس والے کی بھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’دا پرزنر‘

عمر شاہد حامد

پین مکمِلن پبلشرز

قیمت 775 روپے