’فلموں کے ذریعہ سماج تبدیلی کی امید بیکار ہے‘

Image caption نصیرالدین شاہ نے فرحان اختر کی فلم بھاگ ملکھا بھاگ کی سخت تنقید کی

بالی وڈ کے سینیئر اداکار نصیر الدین شاہ نے کہا ہے کہ فلموں کے ذریعہ سماج میں کسی تبدیلی کی امید کرنا بیکار ہے۔

ممبئی میں اپنی آنے والی فلم ’ڈیڑھ عشقیہ‘ کی تشہیری مہم کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’ ہم فلم سٹار کے ہیئر سٹائل کے علاوہ کچھ نہیں بدل سکتے۔ وہ تو ہم لوگ اتنی محنت سے فلمیں بناتے ہیں اس لیے اپنی اہمیت کچھ زیادہ ہی سمجھنے لگتے ہیں۔ لیکن ایسا کچھ ہے نہیں۔‘

پروموشن کے وقت بھی اداکار نصیر الدین شاہ کا وہی روپ دیکھنے کو ملا، جس کے لیے وہ جانے جاتے ہیں۔ یعنی اظہار خیال میں وہ ذرا بھی نہیں ہچکچاتے۔

راکیش اوم پرکاش مہرا کی ہدایت میں بننے والی فلم ’بھاگ ملکھا بھاگ‘ باکس آفس پر کامیاب رہی اور فلم میں فرحان اختر کی اداکاری کی کافی تعریف ہوئی تھی۔

لیکن نصیر الدین شاہ کی کسوٹی پر فلم اور فرحان اختر، دونوں ہی کھرے نہیں اترے اور انہوں نے دل کھول کر اس پر تنقید کی۔

جب ان سے کسی نے پوچھ لیا کہ حالیہ ریلیز ہونے والی کوئی ایسی فلم جو انہیں پسند نہ آئی ہو تو نصیر الدین شاہ نے سوال ختم ہوتے ہی بولنا شروع کر دیا: ’بھاگ ملکھا بھاگ انتہائی ڈرامائی اور بناوٹی قسم کی فلم تھی۔ فرحان نے اس کے لیے سخت محنت کی لیکن جسم بنا لینا اور بال بڑھا لینا ہی تو کافی نہیں ہوتا۔ تھوڑی اداکاری بھی کر لیتے تو اچھا ہوتا۔‘

نصیر الدین شاہ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ملکھا سنگھ کی زندگی پر بنی اس فلم میں فرحان اختر ملکھا سنگھ جیسے لگ ہی نہیں رہے تھے۔

انہوں نے کہا: ’ملکھا جی تو فلم کی چمک دمک اور فرحان اختر کو دیکھ کر خوش ہو گئے کہ ارے بھیا یہ میں ہی تو ہوں۔ کیا ان کے پاس اپنی پرانی تصاویر نہیں تھی۔ نہ جانے فرحان کس زاویے سے انہیں اپنے جیسے لگے۔‘

انہوں نے بغیر توقف کے مزید کہا: ’فرحان ، راکی جیسے لگ رہے تھے۔ ملکھا سنگھ جیسے بالکل نہیں۔ فلم تکنیکی طور پر عمدہ بنی تھی لیکن اس سے آگے کچھ نہیں۔‘

نصیر الدین شاہ کی فلم ’ڈیڑھ عشقیہ‘ 10 جنوری کو ریلیز ہو رہی ہے۔ فلم میں مادھوری دکشت، ہما قریشی اور ارشد وارثی بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں