کون بنے گا کروڑ پتی کا ماسٹر مائنڈ

Image caption سدھارتھ بسو نے ٹی پر معلومات عامہ کے پروگرام پیش کر کے اپنی منفرد شناخت بنائی

بھارتی ٹیلی ویژن دوردرشن پر ’كوئز ٹائم‘ اور بی بی سی ورلڈ پر ’یونیورسٹی چیلنج‘ جیسے كوئز پروگراموں کے میزبان یا کوئزماسٹر سدھارتھ باسو سوال جواب والی زندگی سے دور نیا تجربہ کرنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے اپنے سوال جواب والے کریئر کی شروعات کیسے کی اور کون بنے گا کروڑ پتی (کے بی سی) جیسے معروف شو کو شروع کرتے وقت خود کوئز ماسٹر کیوں نہیں بنے، یہ ایک دلچسپ داستان ہے۔

کے بی سی سنہ 2000 میں شروع ہونے والا ایسا پروگرام ہے جس نے ان کے مطابق پروڈکشن ہاؤس کے علاوہ سینکڑوں ناظرین کی زندگی بدل دی۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کے بی سی کی میزبانی نہ کرنے کے فیصلے پر کہا: ’میں نے بہت سے كوئز شوز کیے لیکن سب انگریزی میں تھے۔ ہندی میں میرا ہاتھ تنگ ہے، اور لوگوں سے جڑنے کے لیے اس شو کا ہندی میں ہونا ضروری تھا۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’امت جی (امیتابھ بچن) کو اس وقت تک کسی نے ٹی وی پر نہیں دیکھا تھا، یہ ہمارے لیے بہت بڑا فیكٹر بنا۔ میں ان کا شکرگزار ہوں اور اسے اپنی خوش قسمتی سمجھتا ہوں کہ وہ اس شو کے لیے راضی ہوگ‏ئے۔

Image caption امیتابھ بچن سے کے بی سی کے شو کی مقبولیت میں اضافہ ہوا اور اس میں لوگوں کی زندگی کی کہانیاں شامل کی گئيں

’ان کی جگہ شاہ رخ خان کا انتخاب کیا جو انتہائی حاضر جواب ہیں۔ ویسے بھی میں آئینے میں خود کو دیکھنا پسند نہیں کرتا بلکہ دوسروں کو ہدایت دینا اور ان کے ساتھ کام کرنا اچھا لگتا ہے۔

’میرے لیے سب سے زیادہ دلچسپ تجربہ وہ تھا جب سنہ 2000 میں كے بي سي شروع ہوا تھا، ہم رات کو سڑک پر نکلتے تھے، سناٹا رہتا تھا، سڑکیں سنسان ہو جاتی تھیں، ریستورانوں کا بزنس کم ہو جاتا تھا، فلموں کے نائٹ شو میں لوگ کم جاتے تھے۔

’بس نو بجتے ہی کئی گھروں سے كے بي سي کے سگنیچر ٹیون کی آواز سنائی دیتی۔ وہ تجربہ اور احساس کچھ اور ہی تھا۔‘

اس میں شامل ہونے والے حریفوں کی زندگی کا پہلو اس میں شامل کرنے کے بارے میں انھوں نے کہا: ’دراصل یہ ایک ایسا شو تھا جو زندگی کو تبدیل کر سکتا تھا اور اسی لیے بھارت میں اتنا مقبول ہوا۔

’کے بی سی کی اس کامیابی پر ہی وکاس سوروپ نے اپنی کتاب لکھی تھی جس پر فلم ’سلم ڈاگ ملینیئر‘ بنی اور پھر ایک کچی بستی میں رہنے والے شخص کی زندگی بدلنے کا خیال اور اس کے امیر بننے کا امکان مزید دلچسپ لگنے لگا۔

Image caption سلمان خان نے بھی ’دس کا دم‘ جیسا معلومات عامہ کا پروگرام کیا

’دنیا بھر میں اس احساس کو کسی نہ کسی طور استعمال کیا گیا لیکن ہم نےایسا سب سے زیادہ کیا۔ لوگوں کی کہانیوں کی شمولیت سے یہ شو سامعین کے مزید قریب آ گیا۔‘

کیا ’کے بی سی،‘ ’دس کا دم‘ اور’سچ کا سامنا‘ جیسے شوز نے كوئز کے معیار کو کم کر دیا؟ اس سوال کے جواب میں انھوں نے کہا: ’تمام طرح کے شوز دیکھنے والے لوگ ہیں۔ میں جیسے كوئز کرواتا تھا، خواہ وہ كوئز ٹائم ہو یا یونیورسٹی چیلنج، اسے دیکھنے والے کچھ لوگ ہیں، لیکن كے بي سي کو دیکھنے والے کروڑوں ہیں۔

’اس طرح کے کوئز شو کروانے میں کوئی پیسہ لگانا چاہے توایسے پروگرام ضرور بنائے جائیں گے لیکن اس میں پیسہ نہیں ہے، یعنی اس سے کوئی منافع حاصل نہیں ہوگا، صرف ایک اچھی اور مثبت سوچ کو فروغ ملے گا۔‘

مسٹر باسو کے خیال میں ان کی ہندی اچھی نہیں ہے لیکن فلم ’مدراس کیفے‘ اور ’بامبے ویلویٹ‘ کے ڈائریکٹر ایسا نہیں سوچتے۔ 58 سال کی عمر میں انھوں نے بڑے پردے کا رخ کس طرح کیا؟

’مدراس کیفے کے لیے شوجيت طویل عرصے سے کام کر رہے تھے۔ انھیں ایک ایسے شخص کی تلاش تھی جو قریب میری عمر کا نظر آتا ہو اور بال اڑ گئے ہوں۔ ویسے وہ میرے دوست بھی ہیں۔

Image caption سدھارتھ بسو نے حالیہ دنوں کئی فلموں میں اداکاری بھی کی ہے

’شاید انھیں یہ بھی لگتا تھا کہ میں جس انداز سے کوئز میں سوال پوچھتا تھا، وہ رعب یا انداز اس کردار کے لیے صحیح تھا۔ وہ ایک نیا چہرہ چاہتے تھے اور مکالمے میں ہندی بھی کم تھی۔

’تو بس وہ فلم کرلی۔ اور اس کی ڈبنگ ختم ہی کی تھی کہ انوراگ کشیپ کا فون آیا کہ میں ان کی اگلی فلم میں ہوں اور آ کر سکرپٹ دیکھوں اور سنوں۔

’بامبے ویلویٹ‘ میں میرا رول بہت چھوٹا ہے، ایک وکیل کا، لیکن اس فلم کا کینوس بہت بڑا ہے، پیریڈ فلم ہے اور 11 گانوں کے ساتھ یہ ایک ميوزیکل بھی ہے۔‘

انھوں نے ڈرامے میں کام کیا، کوئز ماسٹر بنے، فلم ساز اور ہدایت کار بنے اور اب اداکار ان کا اگلا پڑاؤ کیا ہوگا؟ اس سلسلے میں انھوں نے کہا: ’میں سوالیہ نشان سے آگے بڑھنا چاہتا ہوں۔ ایک زندگی جس میں سوالات کے لیے کوئی جگہ نہ ہو۔

’وہ کیا ہوگا یہ میں نہیں جانتا لیکن میں اس تجربے کی مہم جوئی کے لیے تیار ہوں۔‘

اسی بارے میں