اسلام آباد میں ’زخمی‘ فن پاروں کی نمائش

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ایسے دلکش فن پاروں کے ساتھ یہ ظلم کون کر سکتا ہے؟ اسلام آباد کی گیلری سکس میں بدھ سے شروع ہونے والی نمائش دیکھ کر سب سے پہلا خیال یہی آتا ہے۔

اس نمائش میں مصوری کے اعلیٰ نمونوں کے ساتھ ساتھ ان سے روا رکھے جانے والے سلوک کے نشان بھی وہاں موجود تھے۔

بھارت کے شہر احمد آباد میں گذشتہ برس اگست میں 11 پاکستانی فنکاروں کی پینٹنگز کی نمائش پر پاکستان مخالف تنظیم بجرنگ دل کے کارکنوں نے حملہ کر کے توڑ پھوڑ کی تھی اور وہ نمائش پاکستان مخالف جذبات کی نظر ہوگئی تھی۔

47 فن پاروں میں سے 14 کو حملہ آوروں نے نقصان پہنچایا، تین تصاویر غائب ہوگئیں اور باقی 30 محفوظ رہیں۔ یہ 30 بھی محض اس لیے بچ گئیں کہ وہ سٹور میں تھیں اور اپنی باری پر آویزاں کی جانی تھیں۔

اب ان بچے کھچے اور ’زخمی‘ فن پاروں کی نمائش وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کی جا رہی ہے۔

اسلام آباد میں گیلری سکس کے کیوریٹر اور مصور ارجمند فیصل بھی یہ فن پارے لے کر ممبئی گئے تھے۔

Image caption ’فن کو نہ سمجھنے والوں نے محض ہنگامہ کرنے کے لیے یہ سب کچھ کیا‘

اس سوال پر کہ کیا وہ اس حملے کی توقع کر رہے تھے، ان کا جواب تھا کہ ایسا کچھ نہیں تھا: ’انھوں نے خود مدعو کیا تھا اور ہم خوشی سے گئے تھے۔ لیکن ان دنوں میں اجمل قصاب کو پھانسی اور لائن آف کنٹرول پر جھڑپوں کی وجہ سے کافی بات ہو رہی تھی۔‘

ان کے مطابق ممبئی میں نمائش کے دوران ایک شخص نے اس وجہ سے خاموش احتجاج بھی کیا تھا۔ وہ پلے کارڈ لیے کھڑے رہے۔ لیکن اس سے زیادہ کوئی خطرہ محسوس نہیں کیا جا رہا تھا۔

متاثر ہونے والے فنکاروں میں ہاجرہ منصور بھی شامل تھیں۔ انھوں نے یہ فن لکھنو سے سیکھا تھا۔ وہ چاہتی تھیں کہ ان کے استاد اور احباب ان کی مہارت دیکھ سکیں۔ اپنی پینٹنگ کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ فن کو نہ سمجھنے والوں نے محض ہنگامہ کرنے کے لیے یہ سب کچھ کیا:

’اتنی محبت اور محنت سے بنی تصویر تھی۔ اب اس کی قیمت تو کچھ نہیں رہی محض ایک یادگار کی حیثیت رہ گئی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’فن کی اہمیت سمجھنے والے ممالک میں اگر دہشت گرد کسی پینٹنگ کے سامنے آجاتا ہے تو مخالف بندوق نیچے کر دیتے ہیں کہ کہیں تصویر کو نقصان نہ پہنچے۔‘

تاہم ہاجرہ پرعزم ہیں کہ آئندہ بھی اپنا فن بھیجیں گی۔

اس ہنگامہ آرائی کے دوران جو تین فن پارے لاپتہ ہوئے ان میں سے ایک منصور راہی کا تھا۔ اس نقصان سے بھی وہ فائدہ کی بات نکال لائے: ’جب تک کوئی بری بات سامنے نہیں آتی تو چیلینج سمجھ نہیں آتا ہے۔ سمجھ پاتے ہیں کہ دشمن کہاں نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔‘

نمائش میں رکھے گئے فن پارے ثقافت، سماجی رویوں، جمالیات اور لینڈ سکیپ جیسی اصناف پر مشتمل ہیں اور اس نمائش کا مقصد احتجاج نہیں بلکہ ان مصوروں کے صبر کا اظہار ہے کیونکہ آج کل کے دور میں انتہا پسند کہیں بھی، کسی بھی وقت اور کسی بھی بات پر سامنے آ سکتا ہے۔

اسی بارے میں