کہانی ریڈ کلف کی ریڈ لائن کی

Image caption ایک منظر میں لیڈی ماؤنٹ بیٹن اور جواہر لعل نہرو کے درمیان عشق کی عکاسی کی گئی ہے

سنہ 1947 میں لندن سے ہندوستان آنے والا ایک شخص برِصغیر کے نقشے پر ایک لکیر کھینچتا ہے اور پانچ ہفتوں ہی میں صدیوں سے جڑے ہندوستان کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتا ہے۔ لکیر کی ایک سمت سے دوسری سمت آنے والے افراد میں سے لاکھوں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور کروڑوں بے گھر اور زخمی ہوتے ہیں۔

لندن کے ہیپسٹڈ تھیئٹر میں دکھائے جانے والے ڈرامے ’ڈرائنگ دی لائن‘ کی کہانی لکیر کھینچنے والے اس شخص کے گرد گھومتی ہے۔

تاریخ میں باؤنڈری کمیشن کے چیئرمین کی حیثیت سے جانے جانے والے اس شخص کا نام سیرل ریڈ کلف تھا اور برِصغیر کی تقسیم جیسے مشکل کام کی ذمہ داری اس شخص کو ہی سونپی گئی تھی۔

’ڈرائنگ دی لائن‘ میں برِصغیر کی تقسیم کے انتشار، افراتفری اور برطانوی سامراج کے برِصغیر سے ہاتھ صاف کرنے کی جلدی ریڈ کلف کی نظر سے دکھائی گئی ہے۔

Image caption جواہر لعل نہرو، لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور ان کی اہلیہ

ڈرامے کے پہلے سین میں ہی برطانوی وزیرِ اعظم کلیمنٹ اٹلے اور انڈیا کے امور پر وزیرِ خارجہ لارڈ پیتھک لارنس ایک سیدھے سادھے لندن کے جج سیرل ریڈ کلف کو اپنے کمرے میں بلا کر ایک بڑے عام سے انداز میں انھیں ایک نہایت مشکل کام سونپتے ہیں۔

یہاں ڈرامے کے مصنف ہورڈ بینٹن نے بڑی سادگی سے اس تاریخی حقیقت کی عکاسی کی ہے کہ کس طرح برطانوی حکومت نے برِصغیر کو تقسیم کرنے کا فیصلہ کتنی عجلت میں کیا تھا اور جس شخص کو یہ کام سونپا گیا تھا اس نے نہ تو کبھی انڈیا دیکھا تھا اور نہ ہی وہ اس کے متعلق کچھ جانتا تھا۔ ڈائیلاگ کچھ اس طرح شروع ہوتے ہیں۔

اٹلے: کیا تم جانتے ہو؟

ریڈ کلف: کیا؟

اٹلے: انڈیا۔

ریڈکلف: نہیں پرائم منسٹر۔

اٹلے: کبھی نہیں گئے؟

ریڈ کلف: نہیں۔

Image caption ریڈ کلف کی لکیر جس سے پاکستان اور بھارت کی سرحدیں بنیں

اٹلے: زبردست۔

پیتھک: ہم چاہتے ہیں کہ آپ ایک لکیر کھینچیں۔

اور لکیر کھینچنے کے کام کے لیے ریڈکلف کے پاس صرف پانچ ہفتے تھے۔

’ڈرائنگ دی لائن‘ میں دکھایا گیا ہے کہ اگرچہ ریڈ کلف ایک ایماندار اور محنتی شخص تھے لیکن اس کام کے لیے وہ نہایت نامناسب تھے۔ نہ ان کے پاس انڈیا کے جغرافیے کے متعلق کوئی علم تھا اور نہ ہی وہ یہاں رہنے والی قومیتوں کو جانتے تھے۔ اور سب سے بڑھ کر ان پر ہر طرف سے دباؤ تھا:

برطانوی حکومت کی طرف سے کام وقت پر کرنے کا دباؤ، ہندوؤں کی طرف سے ہندوستان کے وسیع علاقے ہندوؤں کو دینے کا دباؤ اور مسلمانوں کی طرف سے مسلمان اکثریت کے علاقے ان کے حوالے کرنے کا دباؤ اور آخر میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی طرف سے لائنوں میں تبدیلی کا دباؤ جو وہ بھی اپنی بیوی لیڈی ایڈوینا کے دباؤ میں آ کر کر رہے تھے جو کہ انڈیا کے مستقبل کے وزیرِ اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کے عشق میں بری طرح مبتلا تھیں۔

ڈرامے میں ان مختلف قوتوں کے درمیان کشمکش کو بڑی سادگی اور نفاست سے اجاگر کیا گیا ہے۔ ہمیں یہاں پاکستان کے بانی محمد علی جناح کی پریشانی اور مخمصہ بھی نظر آتا ہے کہ وہ مسلمانوں کے لیے علیحدہ ملک بھی چاہتے ہیں اور ساتھ ساتھ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ برِ صغیر کو تقسیم نہیں ہونا چاہیے۔

Image caption ڈارمے کے ایک منظر میں کرم چند گاندھی اور جواہر لعل نہرو

ریڈ کلف اگرچہ وہ کام تو کر دیتے ہیں جو انھیں سونپا گیا ہے لیکن اس کے لیے انہیں نقشے پر بار بار لکیریں کھینچنی اور مٹانی پڑتی ہیں۔ کبھی بنگال کی تقسیم غلط دکھائی دیتی ہے تو کبھی پنجاب کی، کبھی فیروز پور پاکستان میں آتا ہے تو کبھی انڈیا کا حصہ بنتا ہے۔ یہی دباؤ ریڈ کلف کے ذہن پر بھی ہے، اتنا کہ وہ اس کے دباؤ میں ٹوٹنے لگتے ہیں اور اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کرتے ہیں جو وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن قبول نہیں کرتے۔ اس وقت ریڈ کلف کو یقین آ جاتا ہے کہ برِ صغیر کے کروڑوں کی زندگیوں کا فیصلہ ان ہی کے ہاتھوں ہونا ہے۔

آخری سین میں ریڈ کلف کو برِصغیر کی تقسیم سے متعلق کاغذات کو جلاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ جب ان کی بیوی اینٹونیا ان سے پوچھتی ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ’سب جلا رہا ہوں، سب نقشے۔‘

انٹونیا کہتی ہیں کہ سیرل سب حل ہو گیا ہے، سب طے پا گیا ہے۔

ریڈ کلف کا جواب ہوتا ہے کہ ’کیا تمہیں لگتا ہے؟‘

اگرچہ اس ڈرامے میں برِصغیر کی تقسیم جیسے سنجیدہ موضوع کو ہلکے پھلکے انداز میں دکھایا گیا ہے جس سے شاید بہت سے تاریخ دان اتفاق نہ کریں، لیکن ساتھ ساتھ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مصنف نے تقسیم جیسے موضوع کو بھی برطانوی اور ایشیائی نژاد برطانوی شہریوں کے لیے زندہ رکھنے کی ایک کامیاب کوشش ضرور کی ہے۔

اس کے لیے مصنف کے ساتھ ساتھ ڈرامے کی ساری کاسٹ اور ڈائریکٹر داد کے مستحق ہیں جو کہ یقیناً اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈرامے کے آنے والے سارے شو ’سولڈ آؤٹ‘ یعنی ان کے ٹکٹ بک چکے ہیں اور ڈرامے کی اس قدر پذیرائی پر انتظامیہ نے آخری شو کی دنیا بھر میں لائیو سٹریمنگ کا اہتمام کیا ہے۔ یہ لنک ’ڈرائنگ دی لائن‘ کی ویب سائٹ سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔