مختاراں مائی پر نیو یارک میں اوپرا

تصویر کے کاپی رائٹ thumbprint

امریکہ کے شہر نیو یارک میں مختاراں مائی کے بارے میں ایک اوپرا کا انعقاد کیا گیا۔

سنہ 2002 میں مختاراں مائی کو پاکستان کے ایک گاؤں میں گینگ ریپ یا اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس اوپرا میں موسیقی اور گلوکاری کے ساتھ مختاراں مائی پر کی گئی زیادتی اور ان کی جدّوجہد کو دکھایا گیا ہے۔

مختاراں مائی کی زندگی پر مبنی ’تھمب پرنٹ‘ نامی ڈرامے کا پریمیئر مینہیٹن کے باروک پرفارمنگ آرٹس سینٹر میں منققد کیا گیا۔

تقریباً ایک درجن اداکاروں اور موسیقاروں کی مدد سے اس ڈرامے میں مختاراں مائی کے ساتھ قبائلی رسم و رواج کا حوالہ دے کر اجتماعی زیادتی سے جڑے ہوئے حالات کو خاصے منفرد انداز میں پیش کیا گیا۔

اس اوپرا میں مختاراں مائی کا مرکزی کردار بھارتی نژاد امریکی کملا سنکرم نے ادا کیا اور انہوں ہی نے اس اوپرا کو ترتیب بھی کیا۔

کملا نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ یہ ڈرامہ پاکستان میں مسلمانوں کے بارے میں نہیں بلکہ ایک خاتون کی کہانی ہے جن کو اپنی آواز اٹھانے کی طاقت ملی اور انہوں نے تعلیم اور خواتین کے حقوق کے سلسلے میں ایک مہم شروع کی۔

ایک شو کے بعد خود مختاراں مائی نے بھی اس اوپرا کے منتظمین اور ناظرین سے براہ راست انٹرنیٹ کے ذریعے خطاب کیا۔

انہونے خوشی کا اظہار کیا اور اپنے سکول اور دیگر کام کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ ان کو اب اپنے سکول کے لیے مزید مالی امداد کی ضرورت ہے۔

’سکول چلانے اور بچوں کا خیال رکھنے میں مجھے اب بھی مالی مدد چاہیے۔ میں تو یہ کام کرکے خوش ہوں اور اب میں جینا چاہتی ہوں۔ لیکن میرا کام پیسے کی کمی کی وجہ سے رک رہا ہے۔ میں تو کہیں بھی جا سکتی ہوں لیکن میری بارہ سالوں کی محنت ادھوری رہ جائے گی۔‘

مختار مائی نے کہا کہ انہوں نے جو سکول شروع کیے تھے ان میں سے کچھ سکول فنڈز کی کمی کے سبب بند ہو گئے ہیں۔

اوپیرا کی ڈائریکٹر ریچل ڈکسٹین نے بتایا کی مختار مائی کے بارے میں تو شاید بہت سے لوگ میڈیا میں خبروں سے جانتے تھے لیکن ان کی شخصیت کے بارے میں کم ہی لوگ جانتے تھے۔

’اس اوپرا کے ذریعے ہم نےمختاراں مائی کی شخصیت اور ان کی جدّوجہد کے ذریعے دوسروں کی مدد کرنے کے جذبے کو بھی اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔‘

اس اوپرا کے لیے خاص کر جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے اداکاروں کو ہی شامل کیا گیا تھا جس سے لوگوں کو کہانی کو بہتر طریقے سے سمجھایا جا سکے۔

تھمب پرنٹ کا شو دیکھنے کے بعد ایک پاکستانی نژاد خاتون نے کہا ’مجھے تو بہت اچھا لگا۔ عام طور پر یہاں امریکی لوگوں کو ان سب واقعات کے بارے میں پتا تو ہوتا ہے لیکن تفصیل نہیں معلوم ہوتی ۔ تو ایسے ڈراموں سے وہ ساری تصویر صاف ہو جاتی ہے۔ اور کئی لوگوں کی آنکھوں میں آنسو آئے ہوئے تھے۔‘

اسی بارے میں