کشمیر کا روایتی فن ’بھانڈ پاتھیر‘ دہلی میں

تصویر کے کاپی رائٹ NSD
Image caption بھانڈ گیری بھارتی ڈرامے کا جزو لاینفک رہا ہے

42 سالہ بشیر احمد بھگت جب تیسری کلاس میں تھے تب سے اپنے باپ دادا کی طرح کشمیری فوک ڈرامے میں بھانڈ کا کردار ادا کرتے آئے ہیں۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے اننت ناگ ضلعے کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہنے والے بشیر بچپن میں درگاہوں یا شادی بیاہ کے موقعے سے اپنا جوہر دکھاتے تھے لیکن اب وہ بھارت کے بڑے تھیٹر میلوں میں شرکت کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’ہمارا فن بہت اچھا ہے۔ شدت پسندی کی وجہ سے سب پس پشت چلے گئے تھے، اب موقع بھی مل رہا ہے اور تربیت بھی، تو ہم اس معیار کا کام کر رہے ہیں جو دنیا کو دکھانے کے قابل ہے۔ ہم کسی بھی سطح پر اچھا مقابلہ فراہم کر سکتے ہیں۔‘

بشیر احمد انڈیا ڈرامہ فیسٹیول میں مشہور اداکار اور ڈائریکٹر ایم کے رینا کے ڈرامے ’گوسائیں پاتھیر‘ میں اداکاری کر رہے ہیں۔ یہ ڈرامہ کشمیر کے مختلف مذاہب اور روایات پر مبنی ہے۔

تاہم بشیر کا سفر بہت دشوار رہا ہے۔ 1990 کی دہائی میں ’بھانڈ پاتھیر‘ کرنے والے ان کے کئی ساتھیوں کو کہا گیا کہ ان کا کام مذہب کے منافی ہے۔

بشیر بتاتے ہیں: ’ہمیں جان سے مارنے کی دھمکی دی جاتی تھی، تو کسی نے مزدوری کی، لکڑی کا کام سیکھا، سفیدی کی، چٹائی بنائی، لیکن ہمارا دل بھانڈ پاتھیر میں ہی تھا، اور ہم وہ کر نہیں سکتے تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ NSD
Image caption کشمیر میں بھانڈ پاتھیر کے کرنے والے مخصوص برادری سے تعلق رکھتے تھے

ایم کے رینا بتاتے ہیں کہ ’بھانڈ پاتھیر تھیئیٹر آرٹ کی انتہائی طنزیہ صنف ہے، جس میں کہانی کہتے ہوئے طنز و مزاح کے استعمال سے سماج، سیاست وغیرہ کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔‘

’بھانڈ پاتھیر‘ کے معدوم ہوتے ہوئے فن کو ایک نئی سمت دینے کے لیے رینا نے ’کشمیر بھگت‘ نام کے تھیئیٹر گروپ کو از سر نو زندہ کیا ہے اور بھگت برادری کے بھانڈ فنکاروں کو تربیت دی ہے۔

رینا کہتے ہیں: ’ان کا معاشرہ شہری نوجوانوں کے معاشرے سے بالکل مختلف ہیں۔ اس لیے ان کے ساتھ بھانڈ پاتھیر کی کہانیوں پر ہی کام کرنا شروع کیا اورپھر کنگ ليئر جیسے مغربی ڈرامے کو اس اسلوب میں ڈھال کر پیش کیا۔‘

اب یہ گروپ اپنے ڈرامے دہلی، پونے سمیت کئی بڑے شہروں میں لے جا رہا ہے۔

گذشتہ ہفتے ہونے والے انڈیا ڈرامہ فیسٹیول میں ’گوسائيں پاتھیر‘ کے علاوہ بھانڈ پاتھیر فن پر مبنی دو ديگر ڈرامے پیش کیے گئے۔

Image caption بشیر احمد کا ڈرامہ گوسائیں پاتھیر انڈیا ڈرامہ فیسٹیول میں کشمیر سے شامل کئی ڈراموں میں سے ایک تھا

کشمیر یونیورسٹی میں پروفیسر ڈاکٹر عزیز ہجنی بتاتے ہیں کہ تقریباً 30 سال پہلے تک بھانڈ فنکار پیشہ ورانہ طور پر کام کرتے تھے اور اسی پر ان کا گزر بسر تھا۔

انھوں نے بتایا کہ گاؤں میں بھانڈ اپنے فن کا مظاہرہ کرتے تو لوگ بدلے میں انھیں شالیں، کمبل، اناج یا کھانے کے دوسرے سامان دیتے تھے۔ اب دور بدل گیا ہے۔

ڈاکٹر عزیز کے مطابق: ’وقت کے ساتھ ان فنکاروں کو یہ محسوس ہونے لگا کہ گاؤں گاؤں جا کر ایسی نقالی کرنا حقیر کام ہے۔ ساتھ ہی وادی میں شدت پسندی کا ایسا ماحول بنا کہ کھلے عام ڈرامے کر پانا ممکن ہی نہیں رہا۔‘

ڈاکٹر عزیز بتاتے ہیں کہ مقامی سرکاری ادارے ’اکیڈمی فار آرٹ کلچر اینڈ اسکالر شپ‘ کے کام کے علاوہ بھانڈ فنکاروں کو حکومت نے کچھ سكالرشپ ضرور دی ہیں لیکن یہ سب ناكافي ہیں۔ شہروں میں بھی تھیئیٹر کے سامنے ابھی بہت سے چیلنج ہیں۔

Image caption دا کنٹری وتھاؤٹ اے پوسٹ آفس کا ایک منظر

قومی تھیئیٹر سکول سے تربیت یافتہ مزمل حیات بھواني نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے سیاسی اور سماجی بحران پر ’دا کنٹری وداؤٹ اے پوسٹ آفس‘ نامی ڈرامے کی ہدایات دی ہیں۔

مزمل سرینگر میں ’ایکتا اسکول آف ڈرامہ‘ کے ساتھ کام کر رہے ہیں جہاں ڈرامے کے فن کی تربیت بھی دی جاتی ہے اور ڈرامے میں نقالی کرنے کے لیے ڈرامہ گروپ بھی ہے۔

مزمل کہتے ہیں:’ کشمیر میں نوجوانوں کو پتہ ہی نہیں ہے کہ تھیئیٹر کے ذریعہ کیا کہا جا سکتا ہے، کس طرح اپنی بات سامنے رکھی جا سکتی ہے۔ نہ ہی یہاں تربیت کے وسائل دستیاب ہیں۔‘

بہر حال اب یہی لوگ اپنی بات سامنے رکھ رہے ہیں۔

اسی بارے میں