نہ قطرینہ ، نہ دپیکا: پرینکا سب سے آگے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پرینکا چوپڑہ مدھر بھنڈارکر کے ساتھ فلم ’فیشن‘ کر چکی ہیں

اگر چہ قطرینہ کیف کو بالی وڈ کی خوبصورت ترین ادکاراؤں میں شمار کیاجاتا ہے اور دیپکا پاڈوکون کی یکے بعد دیگرے ساری فلمیں کامیاب ہو رہیں ہیں تاہم پرینکا چوپڑہ نے انھیں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق معروف فلم ساز مدھور بھنڈارکر کی مجوزہ فلم ’میڈم جی‘ کے لیے موزوں ترین اداکارہ کے ایک سروے میں پرینکا چوپڑہ نے بالی وڈ کی تمام سرکردہ ادکاراؤں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے جن میں قطرینہ کیف اور ودیا بالن جیسی اداکارہ بھی شامل ہیں۔

Image caption قطرینہ سروے میں دوسرے نمبر پر رہیں

مدھور بھنڈارکر حقیقی زندگی سے قریب تر فلمیں بنانے کے لیے جانے جاتے ہیں اور انھوں نے اس ضمن میں ’فیشن‘، ’چاندنی بار‘، ’پیج تھری‘، ’ٹریفک سگنل‘ جیسی فلمیں دی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ’چاندنی بار‘ کے ڈائرکٹر کی فلم ’میڈم جی‘ کا سکرپٹ تیار ہے اور اس کردار کے لیے موزوں ترین اداکارہ کے لیے ایک ویب سائٹ نے ایک سروے کرایا ہے جس میں 53 فی صد ووٹ کے ساتھ پرینکا چوپڑہ سب سے آگے رہیں۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال اچانک پرینکا چوپڑہ کی مقبولیت میں کمی کے اشارے ملنے لگے تھے اور ان کے پاس کسی بڑے بینر کی فلمیں نظر نہیں آتیں۔

اطلاعات کے مطابق مدھر بھنڈارکر اپنی فلم کے لیے تین ناموں پر غور کررہے ہیں جن میں ودیا بالن، دیپیکا پاڈوکون اور پرینکا چوپڑہ کا نام ہے۔

ویب سائٹ بالی وڈ لائف ڈاٹ کام کے دعوے کے مطابق ’کل 9575 میں سے 5108 ووٹ پرینکا چوپڑہ کو ملے جبکہ قطرینہ کیف 2228 ووٹ کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہیں اور دیپکا پاڈوکون 1357 ووٹ کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہیں۔‘

انھیں بالترتیب 53، 24 اور 14 فی صد ووٹ ملے، کاجول تین فیصد کے ساتھ چوتھے جبکہ ودیابالن کو صرف 315 ووٹ ملے اور وہ پانچویں نمبر پر رہیں۔ مادھوری دیکشت دو فیصد ووٹ کے ساتھ آخری پسند ثابت ہوئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنہ دو ہزار تیرہ میں دپیکا کی کئی فلمیں بہت مقبول ہوئیں اور انھیں ایوارڈ بھی ملا

یاد رہے کہ اس سے قبل پرینکا چوپڑہ مدھر بھنڈارکر کے ساتھ فلم ’فیشن‘ کر چکی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ’میڈم جی‘ ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے جو فلموں میں تھوڑے وقت کے لیے ہوتی ہے اور پھر وہ سیاست میں آتی ہے۔

پرینکا چوپڑہ نے حال میں ایک عالمی اخبار سے انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ انھیں امریکہ میں نسل پرستی کا نشانہ بنایا گیا تھا اور انھیں ’عرب دہشت گرد‘ تک کہا گیاتھا۔

گذشتہ ہفتے وہ لندن میں اپنے پہلے سنگل ’آئی کانٹ میک یو لو می‘ کے لانچ کے موقعے سے موجود تھیں۔

سنہ 2000 کی ملکۂ عالم نے دو سال قبل موسیقی کی دنیا میں قدم رکھا ہے اور اب تک تین البم ریلیز کر چکی ہیں۔

وہ اپنی آنے والی فلم میں اولمپک باکسر کا کردار ادا کر رہی ہیں۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کردار کو ادا کرنا ’ایک بڑا چیلنج ہے بطور خاص منھ پر گھونسے کھانا۔‘

اسی بارے میں