کیمپ کا چیمپ: فلم ہی نہیں حقیقت بھی

Image caption دبئی میں ہر سال بالی وڈ گیتوں اور نغموں پر مبنی اتراکشری یعنی بیت بازی ہوتی ہے

جگمگاتی روشنی، اونچی عمارتیں، چکاچوند سے پر دبئي۔۔۔ خلیجی ممالک اس طرح کی شان و شوکت اور پرشکوہ زندگی کے لیے جانے جاتے ہیں۔

لیکن اس کے پس پشت ایک دوسری حقیقت بھی ہے۔ اور یہ ہیں وہ مزدور جو بھارت اور پاکستان جیسے ممالک سے یہاں آتے ہیں اور مشکل حالات میں کام کرتے ہیں۔ انہی مزدوروں کی زندگی پر بنی ہے دستاویزی فلم ہے ’کیمپ کا چیمپ‘

دبئی میں ہونے والے ایک بیت بازی مقابلے میں ہر سال یہ مزدور حصہ لیتے ہیں۔ یوں تو ان کے کیمپوں میں جا کر شوٹنگ کرنا کرنا مشکل کام ہے تاہم اس دستاویزی فلم میں بالی وڈ کے گیتوں اور نغموں پر مبنی بیت بازی کے مقابلے کے بہانے مزدوروں کے ذہن و دل میں جھانکنے کی کوشش کی گئی ہے۔

دنیا کی سب سے اونچی عمارت برج خلیفہ بننے کے دوران پاکستان سے آنے والے عدنان نےبہت کام کیا۔ وہ بتاتے ہیں: ’جب برج بن رہا تھا تو میں وہاں سٹیل سے منسلک کام کرتا تھا۔ سخت محنت کرنی پڑتی تھی۔ ورنہ میری طرح کے لوگوں کو ان عالیشان عمارتوں میں جانے کا موقع کب ملتا ہے۔‘

بھارت سے بھی بڑی تعداد میں لوگ خلیج کے ممالک میں محنت مزدوری کرنے آتے ہیں۔ بھارت سے آنے والے ایک مزدور نے کہا:’ کبھی کبھی لگتا ہے کہ ہماری کوئي زندگی ہی نہیں ہے۔ دن رات بس پسینہ بہاتے رہتے ہیں۔‘

Image caption عدنان کے مطابق انھوں نے برج خلیفہ کی تعمیر میں کام کیا ہے اور ان کی زندگی بدلی ہے

فلم کی ہدایت کاری لبنانی نژاد ڈائریکٹر محمود قبور نے کی ہے۔ محمود کو جب پتہ چلا کہ یہ مزدور ہر سال بیت بازی کے ایک مقابلے میں حصہ لیتے ہیں تو انھیں ان لوگوں کی کہانی اسی كمپٹیشن اور بالی وڈ کے نغموں اور گیتوں کے ذریعے دنیا کے سامنے لانے کا خیال آيا۔

یہ مزدور دل کھول کر مقابلے میں گیت گاتے ہیں۔۔۔ ایسے نغمے جو ان کے درد و غم ، گلے شکوے، تنہائی، دوری تمام چیزوں کی غمازی کرتے ہیں۔

امیتابھ بچن کی فلم ’ڈان‘ سے لے کر پنکج ادھاس کی غزل ’چٹھی آئی ہے۔۔۔‘ اور راحت فتح علی خان کے نغمے ان مزدوروں کی زبان پر رہتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے شاہ رخ خان، سلمان خان، عامر خان جیسے بالی وڈ کے معروف ستاروں کے فین ہیں۔ بیت بازی میں گایا جانے والا ہر گیت کسی نہ کسی کاریگر کی کہانی بتاتا ہے۔

محمود کو امید ہے کہ اس دستاویزی فلم کے بہانے مزدوروں کی حالت زار کی جانب لوگوں کی توجہ مبذول ہوگی اور حالات کچھ بہتر ہوں گے۔

Image caption دستاویزی فلم بنانے والے محمود کا کہنا ہے کہ بھارت پاکستان سے آنے والوں کا سب سے بڑا درد اہل خانہ سے دوری ہے

وہ کہتے ہیں: ’ایک ہی کمرے میں کئی مزودر ایک ساتھ رہتے ہیں۔ دن رات کام کرتے ہیں، لیکن میرے خیال میں ان کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے اپنے گھر اور رشتہ داروں سے دور رہنا۔ کئی کئي سال یہ لوگ اپنے اہل خانہ سے نہیں مل پاتے ہیں۔ بھارت سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جو بیٹیوں کی شادی کے لیے پیسے کما رہے ہیں تاکہ جہیز تیار کیا جا سکے۔لیکن جب وہ پیسہ کماکر بیٹیوں کی شادی کر دیں گے تو وہ بیٹیاں ہی گھر پر نہیں ہوں گی۔‘

محمود اس سے قبل ’بینگ اسامہ‘ نامی دستاویزی فلم بنا چکے ہیں جو چھ ایسے لوگوں کی کہانی ہے جن کا نام اسامہ ہے۔ اس کے بعد بنائی گئي دستاویزی فلم ’گرینڈما، اے تھاؤزینڈ ٹائمز‘ کو ممبئی کے بین الاقوامی فلم فیسٹیول کے علاوہ کئی تقریبات میں ایوارڈ مل چکے ہیں۔

واضح رہے کہ اس کا ایک پہلو اور بھی ہے۔ خلیج میں کام کرنے والے مزدوروں کو جہاں مشکلات کا سامنا رہتا ہے وہیں یہ ان کے لیے زندگی کو بہتر بنانے کا ایک نادر موقع بھی ہے فراہم کرتا ہے۔ برج خلیفہ کی تعمیر کے کام میں شامل عدنان اب وطن واپس لوٹ چکے ہیں اور یہاں کی جانے والی کمائی سے خوش ہیں۔

Image caption اس دستاویزی فلم میں بالی وڈ کے گیتوں اور نغموں پر مبنی بیت بازی کے مقابلے کے بہانے مزدوروں کے ذہن و دل میں جھانکنے کی کوشش کی گئی ہے

وہ کہتے ہیں: ’جب میں دبئی آیا تھا تو کچھ بھی نہیں تھا لیکن اب میں نے اپنے لیے ایک جگہ بنا لی ہے۔ ہر چند کہ عدنان نے برج خلیفہ کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا ہے لیکن وہ بذات خود کبھی اس عالیشان عمارت میں نہیں جا پائے۔‘

اس دستاویزی فلم کے بہانے ہی سہی، عدنان کو برج خلیفہ کے اندر لے جایا گیا۔۔ وہی عمارت جسے بنانے میں انھوں نے بھی پسینہ بہایا تھا۔

ایسا بھی نہیں ہے کہ ان کیمپوں میں صرف غم کا ماحول رہتا ہے۔ بیت بازی کے بہانے بننے والی اس فلم میں ان مزدوروں کی جدوجہد ہی نہیں بلکہ ان کی زندہ دلی بھی نظر آتی ہے جو مثالی ہے۔

اور اگر بات کریں اس بیت بازی کے فاتح کی تو اس میں بھارت کے ایک شخص کو جیت حاصل ہوئي اور انھیں انعام میں نقد کے ساتھ ساتھ بھارت واپس جانے کا ٹکٹ اور تھری ڈی ٹی وی دیا گیا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس کے گاؤں میں پابندی کے ساتھ بجلی نہیں آتی ہے۔

اسی بارے میں