شادی کی پیشکش کیسے کرتے ہیں؟

Image caption ’شادی کی پیشکش کی منصوبہ بندی کا کاروبار میرے اور ہانگ کانگ دونوں کے لیے ہی ذرا نیا ہے۔‘

28 سالہ این فان ہانگ کانگ میں بطور ’پروپوزل پلینر‘ کام کرتی ہیں، یعنی محبت کرنے والوں کو ایک دوسرے کو بہترین انداز میں شادی کی پیشکش کرنے میں مدد کرتی ہیں۔

بی بی سی کے سلسلے ’مائی ڈے‘ میں انھوں نے نامہ نگار سمانتھی ڈسیاناکے کو اپنی روزمرہ زندگی اور کام کے بارے میں بتایا۔

میرے شب و روز کی کہانی

شادی کی پیشکش کی منصوبہ بندی کا کاروبار میرے اور ہانگ کانگ دونوں کے لیے ہی ذرا نیا ہے۔ ہمارے ملک میں شادی کی منصوبہ بندی کرنے والے تو بہت سارے ہیں مگر ہانگ کانگ کے مرد مصروف اور عورتیں بہت زیادہ رومانوی خیالات رکھتی ہیں، اسی لیے اب بہت سے لوگ شادی کی پیشکش کے لیے پیشہ ورانہ مدد حاصل کر رہے ہیں۔

میرے دن بہت لمبے ہوتے ہیں۔ ان کا آغاز صبح دس بجے ہوتا ہے۔ میں ایک تشہیری کمپنی کے لیے بھی کام کرتی ہوں جو ساتھ میں میرا یہ کاروبار بھی چلانے کی اجازت دیتے ہیں۔

لوگ عموماً شادی کی پیشکش کے وقت ایک ہی انداز اپناتے ہیں: کسی ریسٹورنٹ میں کھانے کے وقت سوال کر لیا، پھول اور انگوٹھی دے دی۔ کچھ لوگوں کے لیے شاید یہ کافی نہ ہو۔ میرے زیادہ تر گاہک چین یا ہانگ کانگ سے ہی ہیں۔

یہ صبح نو سے شام پانچ بجے تک والی عام طرز کی نوکری نہیں ہے۔ اس میں سب سے زیادہ اہم یہ ہے کہ کب آپ کو خیال آ جائے کہ کسی کے لیے ان کا یہ موقع کس طرح منفرد بنایا جائے۔ کبھی تو مجھے کھڑکی سے باہر دیکھتے دیکھتے ہی خیال آ جاتا ہے۔

میں مہینے میں صرف دو یا تین منصوبوں پر کام کرتی ہوں۔ ان کا خیال مجھے سارا وقت رہتا ہے۔

یہ سب شروع یو ٹیوب کی ایک ویڈیو سے ہوا جہاں موسیقی کے ایک بینڈ نے ایک شخص کو شادی کی پیشکش کرنے میں مدد کی۔ یہ ویڈیو انتہائی مقبول ہوئی تھی۔ مجھے وہیں سے اس کاروبار کا خیال آیا۔ جب میں نے یہ کام شروع کیا تو پہلی بار کسی کے رابطہ کرنے میں ایک مہینے سے زیادہ کا وقت لگ گیا تھا۔

Image caption ’اس سب کو کامیاب کرنے کے لیے بہت تفصیلی پلاننگ کرنی پڑتی ہے‘

میں نے جب پہلی بار کسی کے لیے شادی کی پیشکش کی تیاری کی تو اس میں بہت کچھ سیکھا۔ اس کہانی میں خاتون ایک ایئر ہوسٹس تھیں جو فرینکفرٹ جانے والی تھیں۔ ان کے ساتھی نے مجھے کہا کہ وہیں پر سب انتظام کیا جائے۔ میں نے ان کی آمد پر ایک لیموزین کا انتظام کیا جو انہیں ایک ایسے ریسٹورنٹ میں لے جانے والی تھی جہاں ان دونوں کی تصاویر دیواروں پر لگی ہوں گی۔ لیکن وہ لڑکی آئی ہی نہیں۔ بعد میں مجھے پتا چلا کہ جوڑے میں پہلے ہی لڑائی ہو گئی تھی۔

میں نے اس کام سے بہت سیکھا کہ اس سب کو کامیاب کرنے کے لیے بہت تفصیلی پلاننگ کرنی پڑتی ہے۔

ہماری خدمات کی قیمت تقریباً 6000 ہانگ کانگ ڈالروں سے ہوتی ہے مگر عموماً لوگ تقریباً 8000 خرچ کرتے ہیں۔ میرا بہت وقت خیالات اور منصوبہ بندی میں گزرتا ہے۔ ہمیں فوٹوگرافروں، ویڈیو گرافروں اور مختلف قسم کے لوگوں کی مدد لینا پڑتی ہے۔

میں اپنے گاہکوں سے زیادہ دوپہر یا شام کے وقت ملتی ہوں تاکہ ان کے ساتھیوں کو شک نہ ہو اور وہ باآسانی ملاقات کر سکیں۔

میں اپنے گاہکوں کے ساتھ مختلف مقامات کا جائزہ لیتی ہوں، وہاں کا ماحول دیکھتی ہوں اور پھر ہم مختلف خیالات پر غور کرتے ہیں۔

کبھی تو انہیں بالکل صحیح پتا ہوتا ہے کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ مجھے ایک گاہک نے کہا تھا کہ سمندر کے کنارے ریت پر آگ سے لکھیں: ’کیا آپ مجھ سے شادی کریں گی؟‘

ایک دفعہ ہم نے ساحل پر برفباری کا منظر تیار کیا تھا۔ ہم نے برف پھینکنے والی ایک مشین کرائے پر لی، رومانوی ماحول بنانے کے لیے چھوٹی چھوٹی لائٹیں لگائیں اور پھر ان کا ایک دوست کسی بہانے سے لڑکی کو لے کر وہاں آ گیا۔ جب وہ ساحل پر پہنچیں تو ہم نے برف باری کرنے والی مشین چلا دی۔ وہ انتہائی حیران تھیں۔ پھر ہم نے پھولوں سے بنا ایک گنبد ان پر ڈال دیا جہاں ان کے ساتھی شادی کی پیشکش کرنے کے لیے تیار کھڑے تھے۔ انہوں نے ہاں کر دی تھی۔

ایک دفعہ ہم نے ایک ایسی لڑکی کے لیے پروپول تیار کیا جو کسی ریسٹورنٹ میں کام کرتی تھیں۔ ہم نے ان کے ساتھ کام کرنے والوں کی مدد حاصل کی۔ ان کے ساتھیوں نے انہیں بتایا کہ کسی کمپنی کی کوئی خصوصی تقریب ہونی ہے اس لیے ان کا ریسٹونٹ آج مکمل طور پر باہر کے گاہکوں کے لیے بند ہوگا۔ پھر ہم نے اندر پارٹی کی تیاری کروائی۔ پھر لڑکی کے باس انہیں ریسٹورنٹ میں لے گئے جہاں ان کے تمام کام کرنے والے ساتھیوں یعنی 40 افراد نے ان کے پسندیدہ گانے میں سے کچھ حصہ گایا اور سب سے اہم موقع پر ان کے منگیتر سامنے گانا گاتے ہوئے آئے۔

ہانگ کانگ کے لوگوں کو رومانس کرنا نہیں آتا۔ وہ پراپرٹی، پیسوں اور سکیورٹی کے بارے میں سوچتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ’اس منصوبہ بندی میں ہر چیز کا تفصیلی جائزہ لینا اہم ہوتا ہے۔‘

میں نے جو سب سے مہنگا پروپوزل تیار کیا ہے اس میں ہم نے ایک گھر کو غباروں اور پھولوں سے بھر دیا تھا اور اس پر 30 ہزار ہانگ کانگ ڈالر لاگت آئی تھی۔

میرا نہیں خیال کہ ہانگ کانگ میں اتنے پروپوزل پلاننگ کے گاہک ہیں کہ اسے ایک مخصوص پیشہ بنایا جا سکے۔ زیادہ تر لوگ اس کی حمایت نہیں کرتے۔ ان کا خیال ہے کہ پیسے ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے، انہیں بچا کر شادی پر لگایا جانا چاہیے۔

ایک دو دفعہ تو خواتین نے بھی میری خدمات حاصل کرنے کی کوشش کی مگر آخر میں وہ شرما گئیں۔

میرے شوہر نے مجھے شادی کے لیے گاڑی میں کہا تھا۔ انہوں نے اپنے فون پر تھوڑا میوزک چلایا اور مجھے کچھ تصویریں دیں۔ میں سمجھی تھی کہ یہ کرسمس کا تحفہ ہمیشہ کی طرح تاخیر سے دے رہے ہیں۔

مجھے جب کسی کے لیے تیاری نہیں بھی کرنی ہوتی تب بھی میں اس کے بارے میں سوچتی رہتی ہوں اور تفصیلات بہت اہم ہوتی ہیں، ان کا باریک بینی سے جائزہ لینا چاہیے۔ ان کا اثر زندگی بھر رہتا ہے۔

اسی بارے میں