ہالی وڈ کی ’ڈارلنگ‘ شرلی ٹیمپل انتقال کر گئیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption شرلی ٹیمپل نے تین سال کی عمر میں اداکاری شروع کی

ہالی وڈ کی مشہور چائلڈ سٹار شرلی ٹیمپل 85 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔

شرلی ٹیمپل کو 1930 میں فلموں برائٹ آئز، سٹینڈ اپ، چیئر، کرلی ٹیمپل سے ایک کم سن اداکارہ کی حیثیت سے شہرت ملی تھی۔

1950 میں 21 سال کی عمر میں انہوں نے اداکاری سے کنارہ کشی کر لی تھی اور اس کے بعد وہ رپبلکن جماعت کی سیاست دان اور سفارت کار کی حیثیت سے منظرِ عام پر آئیں۔

ان کی وفات کیلیفورنیا کے علاقے وڈ سائیڈ میں ان کے گھر پر ہوئی اور ان کی وفات پر جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا کہ ’وفات کے وقت وہ اپنے خاندان اور دیکھ بھال کرنے والے کے ساتھ تھیں۔‘

1928 میں پیدا ہونے والی ایک معصوم پیارے چہرے کی مالک شرلی ٹیمل کے بال گھنگریالے تھے اور وہ ہالی وڈ کی تاریخ کی مشہور ترین چائلڈ سٹار تھیں جنھیں ان کا پہلا کردار تین برس کی عمر میں ملا۔

ان کی اداکاری، گلوکاری اور رقص کی صلاحیتوں کی وجہ سے ان کے دنیا بھر میں مداح ہیں اور انھیں بچوں کے لیے ایک خصوصی آسکر ایوارڈ 1935 میں دیا گیا تھا جب ان کی عمر صرف چھ برس تھی۔

وہ آسکر ایوارڈ حاصل کرنے والی کم عمر ترین اداکارہ ہیں۔

انھیں پیار سے ’امریکہ کی ننھی ڈارلنگ‘ کے نام سے پکارا جاتا تھا اور امریکہ کے سینما گھروں کے مالکان کے سالانہ جائزے کے مطابق وہ 1935 سے 1938 کے دوران چار سال تک سینما گھروں میں لوگوں کو لانے کا سبب بننے والے نمایاں ناموں میں سے ایک تھیں۔

فلم ’برائٹ آئز‘ کے گانے ’آن دی گُڈ شپ لولی پاپ‘ پر ان کی مشہور پرفارمنس میں انھیں تادیر یاد رکھا جائے گا۔

ان کی دوسری مشہور فلموں میں دی لٹل ریبل، بیبی ٹیک اے باؤ اور لٹل مس مارکر شامل ہیں۔

امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ نے انھیں 1930 کے عظیم مالیاتی بحران کے دوران امریکی عوام کا مورال بلند رکھنے پر ’لٹل مس مِریکل‘ کے خطاب سے نوازا تھا۔

شرلی ٹیمپل کو فلم سٹوڈیو ’ٹوئنٹی سنچری فاکس‘ کو دیوالیہ پن سے بچانے میں مدد دینے کا کریڈٹ بھی دیا جاتا ہے۔

شرلی ٹیمل نے کل 43 فیچر فلموں میں کام کیا مگر انھیں جوان ہونے کے بعد اداکاری میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے انھوں نے 1950 میں فلموں سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔

Image caption اداکاری کے بعد انہوں نے اقوام متحدہ میں سفارت کار جبکہ گھانا اور چیکوسلواکیہ میں امریکی سفیر کے طور پر ذمے داریاں سراانجام دیں

اس کے بعد وہ ٹی وی پر نظر آتی رہیں مگر آہستہ آہستہ کام کم ہوتا گیا اور بالآخر انھوں نے عوامی زندگی سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔

1967 میں وہ پبلک کے سامنے دوبارہ آئیں تو اپنے نئے شادی شدہ نام کے ساتھ تھیں جو شرلی ٹیمپل بلیک تھا۔ انھوں نے کانگریس کے لیے انتخاب میں حصہ لیا مگر اس میں انھیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

اس کے بعد صدر رچرڈ نکسن نے انھیں اقوامِ متحدہ میں امریکی وفد کے رکن کے طور پر تعینات کیا جس کے بعد 1974 میں انھیں صدر جیرالڈ فورڈ نے گھانا میں امریکی سفیر کے طور پر تعینات کیا۔

1989 میں انھیں چیکو سلواکیا میں امریکی سفیر کے طور پر تعینات کیا گیا جس کے کچھ عرصے بعد اس ملک کی کمیونسٹ حکومت کا خاتمہ ہوا۔

شرلی اپنے اداکاری کے ماضی کو سیاسی کریئر کے لیے فائدہ مند سمجھتی تھیں اور انھوں نے ایک بار کہا تھا کہ ’سیاستدان بھی تو اداکار ہوتے ہیں۔‘

شرلی ٹیمپل نے چارلس آلڈن بلیک سے شادی کی تھی۔

اداکارہ ووپی گولڈ نے انہیں خراجِ تحسین ادا کرتے ہوئے ٹویٹ کی کہ ’دی گُڈ شپ لولی پاپ آج عازم سفر ہوا شرلی ٹیمپل کے ساتھ۔‘

ممتاز فلمی ناقد لیونارڈ مالٹن نے لکھا کہ ’دنیا کے باصلاحیت ترین فلمی ستاروں میں سے ایک آج آسمان پر چلا گیا۔‘