مقامی فنکار کا احتجاج، چینی فن پارہ چکنا چور

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption كیمی نیرو نے مقامی فنکاروں کی پینٹنگز کو جگہ نہ دیے جانے پر احتجاجاً گلدان توڑ ڈالا

امریکہ کی ریاست فلوریڈا کے ایک فنکار کے خلاف ایک چینی فنکار آئی وئے وئے کے بنائے ہوئے گلدان کو جان بوجھ کر توڑنے کے الزام میں مجرمانہ کارروائی کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

توڑے جانے والے گلدان کی قیمت دس لاکھ ڈالر تھی۔

اٹلی میں فن پارے احتجاجاً نذرِ آتش

51 سالہ میكسمو كیمی نیرو پر اتوار کو میامی میں یہ گلدان کو توڑنے کے لیے مجرمانہ نقصان کا مقدمہ چلے گا۔

كیمی نیرو نے پولیس کو بتایا کہ انہوں نے اس گلدان کو احتجاجاً توڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پیریز آرٹ میوزیم میں مقامی فنکاروں کی پینٹنگز کو جگہ نہ دیے جانے پر احتجاج کر رہے تھے۔

سال 2011 میں چین میں ہونے والے ایک مظاہرے کو روکنے کے لیے کی گئی کارروائی کے دوران آئی وئے وئے کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔

میامی کے عجائب گھر میں وئے وئے کے فن پاروں کی نمائش مارچ کے وسط تک جاری رہے گی۔

پولیس کو دیے گئے حلف نامے میں میوزیم کے ایک سیکورٹی گارڈ نے بتایا کہ كیمی نیرو نے زمین پر سجائے گئے ایک رنگین پھولدان کو اٹھا لیا اور جب انہیں اسے واپس رکھنے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے اسے زمین پر پٹخ دیا۔

كیمی نیرو نے کہا ہے کہ وہ منگل کو ایک پریس کانفرنس کریں گے۔ انہوں نے ’میامی نیو ٹائمز‘ اخبار کو بتایا کہا کہ انہوں نے پھولدان احتجاجاً توڑا ہے۔

انہوں نے اخبار سے کہا: ’میں نے یہ کام میامی کے تمام مقامی فنکاروں کے لیے کیا، جن کی پینٹنگز کو اس میوزیم میں کبھی نہیں دکھایا گیا۔ یہ لوگ بین الاقوامی فنکاروں پر لاکھوں خرچ کر چکے ہیں۔‘

توڑا گیا گلدان رنگوں سے سجے درجنوں گلدانوں میں سے ایک تھا۔ آئی وئے وئے کے مطابق ایسے گلدان چین کے ہان بادشاہی کے وقت میں بنائے جاتے تھے۔

نمائش میں ان گلدانوں کو جس جگہ فرش پر سجایا گیا ہے اس کے عین عقب میں خود وئے وئے کی تین تصاویر ہیں جن میں وہ ان گلدانوں کو تھامے کھڑے ہیں اور دوسری میں اسے فرش پر گرا کر توڑتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔

كیمی نیرو کا کہنا تھا کہ ’انہی تصاویر نے مجھے اکسایا کہ میں اپنے احتجاج میں ویسا ہی کروں۔‘

اسی بارے میں