بچوں سے پہلے اساتذہ کا میلہ

Image caption اساتذہ کے اس ادبی میلے کا بنیادی مقصد اساتذہ میں مطالعے کی عادت کو فروغ دینا تھا

کراچی آرٹس کونسل میں جمعرات کو اساتذہ کا ایک روزہ ادبی میلہ منعقد ہوا جس میں نجی اور سرکاری شعبے کے دو ہزار کے قریب اساتذہ نے شرکت کی۔

اپنی نوعیت کے اس پہلے اساتذہ ادبی میلے یا ٹی ایل ایف کا اہتمام آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی ،ادارہ تعلیم و آگاہی،شریک بانی امینہ سید آکسفرڈ یونیورسٹی پریس اور اوپن سو سائٹی فاؤنڈیشنز نے مل کر کیا تھا۔

بچوں کے گیارھویں ادبی میلے کے حصے کے طور شروع ہونے والے اساتذہ کے اس ادبی میلے کا بنیادی مقصد اساتذہ میں مطالعے کی عادت کو فروغ دینا تھا، ان کے ساتھ مل کر تدریس کے مسائل کی نشاندھی کرنا اور ان کے حل کے بارے میں سوچنا تھا۔

صبح سے شام تک جاری رہنے والے اس میلے میں اساتذہ کی تعلیم و تربیت اور تفریح کے حوالے سے بھی متعدد پروگراموں اور اجلاسوں میں کلاسیکی اور مقبول ادب اور تدریس کے مسائل اور طریقوں پر غور کیا گیا۔

اس موقع پر آرٹس کونسل کراچی کے مختلف حصوں کو داستان سرائے، شاہ عبداللطیف بھِٹائی، کتاب گھر، طلسمِ ہوش رُبا، ٹوٹ بٹوٹ، اوطاق، توتا کہانی، شاہی گزر گاہ اور سی ایل ایف ڈھابا جیسے ناموں سے مختلف حصوں میں بانٹا گیا تھا۔

ممتاز آرٹسٹ خدا بخش ابڑو نے اس موقعے پر تعلیم اور تدریس سے متعلق حضوصی پوسٹروں کی نمائش کا بھی اہتمام کیا۔

اس موقع پر سیکریٹری آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہا کہ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے ادب اور ادیبوں کو بھولتے جا رہے ہیں اور خوش قسمتی یہ ہے کہ ہمارا ادب اور ہمارے ادیب اب دنیا بھر میں توجہ حاصل کر رہے ہیں اور پڑھے اور سمجھے جا تے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش یہی ہے کہ اس المیے اور خوش قسمتی میں حا ئل فاصلوں کو ختم کر کے اپنے نو جوانوں میں ادب کو فروغ دیں اور اس سلسلے میں اساتذہ اہم کردار ادا کر سکتے ہیں یہ میلہ اسی سلسلے کی ایک کو شش ہے۔

میلے میں اساتذہ کی تدریسی صلاحیتوں کے معیار کو بہتر بنانے اور ان کو درپیش مشکلات سے نمٹنے کے جدید طریقوں پر جو پروگرام ہوئے اُن میں عمرانہ مقصود،سیمی زیدی نے مطالعے کے فن پر بات کی گئی۔

ادب کو ڈرامائی انداز میں پڑھ کر سنانے والے گروپ ’زنبیل‘ نے ریڈنگ کی۔

سید نصرت علی،فرحین زہرہ اور عدنان جعفر اور فواد خان،آصف فرخی ،شاہا جمشید،مونا قیصر اور شاہینہ علوی نے کری ایٹو رائیٹنگ یا تخلیقی تحریر پر ورکشاپ کرایا۔

اسما سکندر،عذرا نسیم،سبین محمود،ٹوفی ٹی وی اور ٹینٹیٹو کلکٹیو نے کلاس رومز میں نئے میڈیا کے استعمال پر گفتگو کی۔

شاہد صدیقی نے ٹیچرز ایجوکیشن اور لٹریچر پر بات کی۔ نیپال سے شریک ہونے والی شانتا ڈکشٹ نے شرکا کو ڈرامائی آرٹ سمجھنے کے بارے میں بتایا۔

ٹیچرز وائسز کے عنوان سے سیشن میں، ٹیچرز نے، اُن عوامل پر روشنی ڈالی جن سے کلاس رومز میں مطالعے اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔ اس سیشن کو امینہ سّید، مشرف زیدی، عزیز کابانی، فریدہ زبیری اور صادقہ صلاح الدین نے کنڈکٹ کیا۔

ایک اجلاس میں آکسفرڈ یونیورسٹی پریس کی جانب سے اساتذہ کو کاپی رائٹس اور ڈیجیٹل مصنوعات کے بارے میں بتایا۔

’زندہ ادبی ورثے کو فعال بنانا‘ کے عنوان سے ہونے والے اجلاس میں زبیدہ جلال ،عطیہ داؤد اورایوب بلوچ نے بات کی ۔

اس کے علاوہ میلے کے دوران بچوں کے لیے لکھی جانے والی کئی کتابوں کی رونمائی بھی کی گئی۔

میلے میں کئی اشاعتی اداروں اور کتب فروشوں نے اسٹال بھی لگائے تھے جن میں اساتذہ کی تربیت کے بارے میں کوئی کتاب نہیں تھی لیکن زیادہ تر کتابیں بچوں کی دلچسپی کی تھیں۔ بچوں کا ادبی میلہ جمعہ اور سنیچر دو دن جاری رہے گا۔

اساتذہ کے اس میلے میں بھی سب سے زیادہ پروگرام انگریزی زبان ہی میں ہوئے، جس سے اس بات کا عندیہ ملتا ہے کہ میلہ اساتذہ کی اکثریت کی توجہ نہیں حاصل کر سکا ۔

اسی بارے میں