’بچوں کا ادبی میلہ اب ہر جگہ ہونا چاہیے‘

Image caption لیاری، کورنگی اور ابراہیم حیدری جیسے علاقوں کے بچے بھی میلے میں شریک ہوئے

کراچی آرٹس کونسل میں تین دن سے جاری بچوں کا ادبی اس اعلان پر ختم ہوا کہ اس میلے کو اب ہر جگہ ہونا چاہیے۔

بچوں کے گیارھویں ادبی میلے کی ابتدا جمعرات کو اساتذہ کے پہلے ادبی میلے سے ہوئی جس میں دو ہزار اساتذہ نے شرکت کی۔

جمعہ کو بچوں کے ادبی میلے سی ایل ایف کا پہلا دن تھا اور سنیچر کو آخری۔

آخری دن اس اعتبار سے قدرے مختلف تھا کہ نجی کے علاوہ سرکاری اور اردو میڈیم سکولوں کے بچوں کی بھی خاصی تعداد میلے میں شرکت کے لیے آئی۔

منتظمین کے مطابق گیارھویں میلے میں شرکا کی تعداد 25 سے 30 ہزار کے درمیان تھی۔ اگرچہ میلے کے میڈیا سینٹر سے جاری ہونے والے پریس ریلیز میں شرکا کی تعداد 20 ہزار بتائی گئی ہے۔

پریس ریلیز کے مطابق میلے میں لیاری، کورنگی اور ابراہیم حیدری جیسے علاقوں کے بچے بھی شرکت کے لیے آئے گو کے ان علاقوں میں امن و امان کی صورتِ حال تسلی بخش نہیں رہتی۔

آخری روز داستان سرائے کے نام سے بنائے گئے پویلین میں بچوں کوانگریزی اور اردو کے علاوہ سندھی، بلوچی، پشتو اور گجراتی میں بھی کہانیاں سنائی گئیں۔

اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آکسفرڈ یونیورسٹی پریس کی منیجنگ ڈائریکٹر اور شریک بانی امینہ سیّد نے کہا کہ یہ میلہ اگرچہ اس سے پہلے پنجاب، خیبر پختوں خوا اور بلوچستان کے مختلف شہروں اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی ہو چکا ہے لیکن اب اسے کسی ایک شہر یا مقام تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ اس میلے کا بنیادی مقصد بچوں میں کتابوں سے دلچسپی کو فروغ دینا ہے۔ اس موقع پر انھوں ممتاز شاعر فیض احمد فیض کا حوالہ دیا جن کی زندگی کے بارے میں بچوں کے لیے ایک کتاب شائع کی گئی ہے جو بتاتی ہے کہ فیض لائبریری سے کتابیں لے کر پڑھا کرتے تھے اور اسی سے پھر اُن میں لکھنے کا شوق پیدا ہوا۔

امینہ سید نے لائبریریوں کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہویے کہا کہ پہلے محلوں میں لائبریریاں ہوتی تھیں جہاں سے لوگ کرائے پر کتابیں لے کر پڑھا کرتے تھے اس روایت کو پھر سے زندہ کیا جانا چاہیے۔

Image caption اختتامی تقریب میں شیما کرمانی کی دو شاگردوں رقص پیش کیا جسے بہت سراہا گیا

جمعہ کو آرٹس کونسل کے سیکریٹری احمد شاہ نے بی بی سی گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وہ کوشش کر رہے ہیں کہ بچوں کا یہ میلہ سال میں صرف ایک بار کسی مخصوص دن کو نہ ہو بلکہ سارا سال جاری رہے نہ صرف کراچی کے مختلف حصوں میں ہو بلکہ سندھ کے دوسرے شہروں میں بھی۔

ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ اپنے وسائل اور حالات کی وجہ سے اپنے بچوں کو ایسے میلوں میں نہیں لا سکتے ہم اس میلے کو ان تک لے جائیں اور اس میلے کو ان کا میلہ بنا دیں گے۔

سی ایل ایف کی بانی اور ادارہ تعلیم و آگہی کی پروگرام ڈائریکٹر بیلہ رضا جمیل نے کہا کہ بچوں اور والدین میں کتابیں پڑھنے کی عادت پھر سے اسی صورت زندہ کیا جا سکتا ہے کہ ہم اس میلے میں شریک لوگوں کی اس خواہش کو عملی شکل دیں کہ ایسے میلے ہوتے رہنے چاہیں۔

کہانیوں کے پویلین کے علاوہ بچوں کے ڈراموں ، پوسٹر سازی یہاں تک کہ حبیب بینک کے پویلین میں بچوں نے دیوار گیر سکرین پر بینکاری سے متعلق کہانیوں پر مبنی ویڈیو دیکھنے میں زبردست دلچسپی لی۔

بی بی سی نے میلے میں شرکت کے لیے آنے والی جن بچیوں سے بات کی ان کا کہنا تھا کہ کتابیں اچھی لگی ہیں لیکن مہنگی بہت ہیں۔

ایک اور بچی کا کہنا تھا ’اور کچھ نہیں تو کتابیں تو ملنی چاہیں مفت۔ ہر ایک کو نہ دیں سکولوں کو دیں ہم وہاں سے لے کر پڑھ لیں گے۔‘

اختتامی تقریب میں اچھی کتابیں لکھنے والی تین مصنف خواتین کو انیتا غلام علی ایوارڈ دیے گئے اور شیما کرمانی کی دو شاگردوں نے رقص پیش کیا جسے بہت سراہا گیا۔

اس تین روزہ میلے کا اہتمام ادارہ تعلیم و آگاہی کی بیلا رضا جمیل، شریک بانی آکسفرڈ یونیورسٹی پریس، او یو پی کی مینجنگ ڈائریکٹرامینہ سید، اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشنز، او ایس ایف، آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی،کراچی یوتھ انیشیٹو، کے وائی آئی اور حبیب بینک لیمیٹڈ اور ایچ بی ایل کے باہمی اشتراک کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں