وِگ کے ڈیزائن نقل کرنے پر 30 لاکھ ڈالر کا ہرجانہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption میناج کے نمائندوں نے ابھی تک ٹیرینس کی طرف سے قانونی چارہ جوئی پر کوئی تبصرہ نہیں کیا

امریکی گلوکارہ نِکی میناج پر ان کے ایک سابق ہیئر سٹائلسٹ یا بال سنوارنے والے نے وگ کے ڈیزائن نقل کرنے کے الزام میں 30 لاکھ امریکی ڈالر ہرجانے کا دعویٰ کیا ہے۔

ہیئر سٹائلسٹ ٹیرینس ڈیوڈسن نے نِکی پر ان سے اجازت لیے بغیر ان کے ڈیزائن کے طرز پر تیار کی گئی وگیں فروخت کرنے کا الزام لگایا ہے۔

انھوں نے ریپ موسیقی کی گلوکارہ اونیکا تانیہ میراج، جس کا سٹیج نام نِکی میناج ہے، کے ساتھ سنہ 2010 میں کام شروع کیا اور ان کے بڑے کنسرٹس اور گانوں کی ویڈیو کے لیے مختلف قسم کی وگیں تیار کیں۔

ٹیرینس نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ماضی میں نِکی کے ساتھ مشترکہ طور پر وگ بنانے اور فروخت کرنے کا کاروبار شروع کرنے کے سلسلے میں بات کی تھی۔ان کا کہنا ہے کہ گلوکارہ اب ان وگوں کے ڈیزائن کی نقل بنا کر آن لائن فروخت کر رہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’گلوکارہ نے ان کی مرضی کے بغیر ان کے مشہور وگ ڈیزائن لے کر اپنی وگوں کی لائن شروع کر دی جس کی وجہ سے انھیں 30 لاکھ ڈالر کا نقصان ہوا۔‘

میناج کے نمائندوں نے ابھی تک ٹیرینس کی طرف سے قانونی چارہ جوئی پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

اٹلانٹا میں دائر کیے گئے قانونی کاغذات کے مطابق ہیئر سٹائلسٹ کا کہنا ہے کہ انھوں نے نکی کے نمائندوں کے مشورے پر ایک ٹی وی کے ساتھ ریئلٹی شو کرنے کے لیے معاہدے سے بھی انکار کیا تھا، کیونکہ نِکی کے نمائندوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ان کا نِکی کے ساتھ ایک نیا ریئلٹی شو شروع کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سنہ 2012 میں کئی مہینے گزرنے کے بعد نِکی کی ٹیم نے ان کو ایک طرف کر دیا اور ان کے وگوں کے ڈیزائنوں سے ہونے والی شہرت سے انھیں سے محروم کر دیا۔

ٹیرینس کے گاہکوں میں پیٹی لابیلی اور جینیفر ہڈسن جیسی مشہور گلوکارائیں شامل ہیں۔ انھوں نے سنہ 2013 کے اوائل میں نِکی میناج کے ساتھ اختلافات کی وجہ سے ان کے لیے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔

ہیئر سٹائلسٹ کے ایک وکیل کرسٹوفر چسٹ نٹ نے کہا کہ ان کے موکل کی وگوں کی وجہ سے نِکی میناج کی شہرت میں بے انتہا اضافہ ہوا۔

اسی بارے میں