زبان سے مصوری کرنے والا بھارتی فنکار

Image caption انل اپنی زبان سے رنگ بناتے ہیں اور پھر زبان سے ہی کینوس پر پینٹنگ کرتے ہیں

بھارتی فن کار انل ورنم ایک اداکار ہیں لیکن ان کے پاس ایک منفرد فن بھی ہے، وہ اپنی زبان کو پینٹ برش کی طرح استعمال کرکے مصوری کرتے ہیں۔

انل اب تک ہزاروں پینٹنگ بنا چکے ہیں لیکن وہ ایسا کرتے کیسے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں وہ کہتے ہیں،’یہ سب خدا کے ہاتھ میں ہے، میں نے پینٹنگ شروع بھی انہی کے نام سے کی ہے۔‘

انہوں نے کہا، ’میں نے مصوری کی تعلیم حاصل کی اور مجھے خود سے بہت امیدیں تھی۔ اسی دوران میں نے اخبارات میں ان فنکاروں کے بارے میں پڑھا جو جسم کے مختلف حصوں سے مصوری کرتے ہیں۔‘

انل کا کہنا ہے کہ ’میں اپنے فن میں سب سے الگ ہونا چاہتا تھا اس لیے میں نے اپنی زبان سے مصوری کرنے کا فیصلہ کیا۔‘

انل اپنی زبان سے رنگ بناتے ہیں اور پھر زبان سے ہی کینوس پر پینٹنگ کرتے ہیں۔

انل کی اب تک کی سب سے بڑی پینٹنگ ’دی لاسٹ سپر‘ آٹھ فٹ کی ہے۔ اس میں حضرت عیسی کی تصویر بنائی گئی ہے۔

پینٹ برش کے ذریعے بھی اتنی مختلف اور رنگوں سے بھری تصویر بنانا مشکل کام ہے لیکن انل ورنم نے اس کام کو اپنی زبان سے انجام دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption رنگوں کے کیمیکل سے ان کی صحت کو خطرہ لاحق ہے۔ ان کا جگر متاثر ہوا جس کی وجہ سے انہیں یرقان بھی ہو گیا اور انہیں کمر میں درد کی بھی شکایت ہے

انل بتاتے ہیں کہ زبان سے پینٹنگ کرنے کے قابل بننے کے لیے انہوں نے بہت ریاضت کی ہے۔ چھ سال تک کوشش کے بعد وہ زبان سے تصاویر بنانے کے قابل ہوئے ہیں۔

’دی لاسٹ سپر‘ پینٹنگ بنانے میں انل کو ایک ہفتے سے زیادہ کا وقت لگا لیکن ایک ریکارڈ کے لیے پانچ فٹ لمبی پینٹنگ انہوں نے دو گھنٹوں میں ہی بنا دی۔

لیکن زبان سے پینٹنگ کرنا آسان نہیں ہے۔ انل بتاتے ہیں کہ یوں تو وہ اپنے گھر میں ہی مصوری کرتے ہیں لیکن یہ بہت مشکل کام ہوتا ہے۔

رنگوں کے کیمیکل سے ان کی صحت کو خطرہ لاحق ہے۔ ان کا جگر متاثر ہوا اور انہیں یرقان بھی ہو گیا۔ انہیں کمر میں درد کی بھی شکایت ہے لیکن وہ یہ خطرے اٹھانا چاہتے ہیں۔

انل کہتے ہیں، ’میں کچھ مختلف کرنا چاہتا ہوں اس لیے ایسا کر رہا ہوں۔ ایسا آرٹسٹ بننا چاہتا ہوں جس کا فن منفرد ہو۔‘

زبان سے تصاویر بنانے میں آنے والی مشکلات کے بارے میں انل کہتے ہیں، ’زبان ایک حساس حصہ ہے اس لیے اسے برش کی طرح استعمال کرنا زیادہ مشکل کام نہیں ہیں۔‘

انہوں نے کہا، ’ اصل مشکل آنکھوں کے لیے ہے جو کینوس سے صرف دو انچ کے فاصلے پر ہی رہتی ہیں۔ میری آنکھوں میں درد ہو جاتا ہے۔ درد سے بچنے کے لیے میں ایک آنکھ بند کر رکھتا ہوں تاکہ زیادہ زور نہ پڑے۔‘

رنگوں کی خوشبو اور ذائقہ بھی ایک مسئلہ ہے۔ انل کئی بار اپنی ناک بند کر کے رکھتے ہیں۔ مصوری کے بعد انہیں کھانے کا ذائقہ بھی محسوس نہیں ہوتا۔ لیکن اس سب کے باوجود وہ یہ کام جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’یاد رکھیں میں ایسا کام کر رہا ہوں جو کوئی اور نہیں کر سکتا۔‘

عالمی ریکارڈ بنانے کی تیاری

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption انل ان دنوں اپنے جسم کے دیگر حصوں کے استعمال کرتے ہوئے چار تصاویر ایک ساتھ بنانے کا ریکارڈ بنانا چاہتے ہیں۔

انل ان دنوں ایک عالمی ریکارڈ بنانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ وہ اپنے جسم کے دیگر حصوں کے استعمال کرتے ہوئے چار تصاویر ایک ساتھ بنانے کا ریکارڈ بنانا چاہتے ہیں۔

انل بتاتے ہیں کہ وہ دو تصویریں تو ایک ساتھ بنا سکتے ہیں لیکن چار تصاویر بنانا ایک مشکل کام ہے جس کے لیے وہ خود کو تیار کر رہے ہیں۔ انل کو بھروسہ ہے کہ وہ اس کارنامے کو بھی انجام دے دیں گے۔ وہ اپنی ناک اور کہنی سے بھی تصاویر بنا سکتے ہیں۔ انل چلتی ہوئی موٹر سائیکل پر تصاویر بنانے کا کارنامہ بھی انجام دے چکے ہیں۔

لیکن چلتی موٹر سائیکل پر تصاویر بنانا آسان کام نہیں ہیں۔ انل نے چالیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار پر چلتی ہوئی موٹر سائیکل پر بیٹھ کر چار سے پانچ تصاویر بنائی ہیں۔

لیکن یہ خطرناک کام ہے۔ وہ ایسا کرتے ہوئے حادثے کا شکار ہو گئے اور ان کے ہاتھ پاؤں ٹوٹ گئےلیکن اس سے بھی ان کی حوصلہ شکنی نہیں ہوئی۔

اسی بارے میں