’میں وزیر بننے کے لیے سیاست میں نہیں آیا‘

Image caption پٹنہ صاحب میرا پہلا انتخاب ہے اور پٹنہ صاحب سیٹ میرا آخری آپشن ہے: شترو گن سنھا

بھارت کی فلمی دنیا سے آنے والے بہاری بابو یعنی شتروگھن سنہا کو اس بار پٹنہ صاحب سیٹ سے ٹکٹ حاصل کرنے میں کافی محنت کرنی پڑی تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس میں دیر اس لیے ہو رہی تھی کیونکہ پارٹی انھیں کہیں اور سے لڑانے کی سوچ رہی تھی۔

بی بی سی ہندی کے ساتھ بات چیت میں شتروگھن سنہا نے سیاست، مخالفین سے ذاتی تعلقات، پارٹی میں کردار اور بیٹی سوناكشي کے بارے میں بات کی۔

آپ کی پٹنہ میں کیسی تیاری ہے؟

بہت لوگوں کا پیار اور حمایت مل رہی ہے۔ پچھلی بار سے بھی زیادہ حمایت ہے۔ عوام کو اس بات کی خوشی ہے کہ میں یہاں سے انتخاب لڑ رہا ہوں۔ ’میں اور کہیں سے بھی الیکشن لڑ سکتا تھا۔ دہلی سے بھی بات چل رہی تھی لیکن میں نے کہا تھا کہ پٹنہ صاحب میرا پہلا انتخاب ہے اور پٹنہ صاحب سیٹ میرا آخری آپشن ہے، مجھے خوشی ہے کہ پارٹی نے میری خواہش کا احترام کیا۔‘

ایک رکنِ پارلیمان کے لیے اپنے علاقے کے عوام کی امیدوں پر پورا اترنا کتنا مشکل ہوتا ہے؟

میرا اپنا خیال ہے کہ مشکل تو ہوتی ہے، خطرہ بھی رہتا ہے، لیکن ان کے لیے نہیں، جو کام کرتے ہیں اور کام کر رہے ہوں۔

’پٹنہ صاحب علاقہ ہے، جہاں کام بھی ہوا ہے اور نام بھی ہوا ہے۔ میں پٹنہ میں پیدا ہوا، یہاں سے تعلیم حاصل کی، یہاں ہی سےفلموں اور سیاست میں آ گیا۔

آپ کے ٹکٹ کو لے کر پارٹی شک میں کیوں تھی؟

مجھے لگتا ہے کہ میرے نام کے اعلان میں اس لیے تاخیر ہوئی ہوگی کیونکہ پچھلی بار بھی پارٹی نے مجھ سے کہا تھا کہ آپ بھارت میں کہیں سے بھی انتخاب لڑنا چاہیں، یہ آپ کا پہلا حق ہوگا۔ کچھ لوگوں کی خواہش تھی کہ میں دہلی سے انتخاب لڑوں تاکہ دہلی کی باقی نشستوں پر بھی اس کا اثر پڑے۔

لیکن آپ تیار نہیں تھے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انتخابی مہم میں میری بیوی بھی میرے ساتھ ہیں اور اگر سوناكشي آنا چاہیں تو میں انھیں خوش آمدید کہوں گا: شترو گن سنھا

میں تیار اس لیے نہیں تھا کیونکہ پٹنہ میں اتنا اچھا ماحول ہے۔ ایک طرف جہاں میرے دل میں درد ہوگا تو پٹنہ کے لوگوں کے دل میں بھی درد ہوگا۔ لوگوں کو یہ محسوس ہوتا کہ میں ان کو چھوڑ کر چلا گیا، خاص کر ایسے وقت میں جب پورا ملک متحد ہو کر بھارت میں شاندار، قابل اور مستحکم حکومت دینا چاہ رہا ہے۔ اس وقت میرا بہار میں ہونا، اس کے لوگوں کے درمیان رہنا، خاص کر پٹنہ میں ہونا اس لیے اس موقع پر یہ ٹھیک نہیں ہوتا کہ میں کہیں اور سے انتخات لڑتا۔

نتیش کمار بی جے پی کو لے کر کافی سخت ہیں کیا کہیں گے آپ دوستی یا سیاسی دشمنی؟

میرا کوئی بھی مخالف میرا دشمن نہیں ہے۔ اب نتیش کمار ہوں، لالو یادو ہوں، سیتا رام یچوری ہوں یا اور بھی ہو جن سے ہماری ذاتی دوستی ہے میں ان کا احترام کرتا ہوں اور وہ مجھے پیار کرتے ہیں۔

جب آپ نے نتیش کمار کی تعریف کی تو پارٹی کو یہ بات ناگوار گزری تھی

میں نے بعد میں وضاحت کی کہ آپ ذاتی تعلقات کو سیاست کی ترازو پر نہ تولیں۔ میری ماتاجي کا انتقال ہوا تو سب سے پہلے لالو جی آئے اور گھنٹوں بیٹھے رہے۔ اگلے دن بھی آئے اور میرا بہت حوصلہ بھی بڑھایا۔ اسی طرح جب ان کی بیٹی کی شادی ہوئی تو میں وہاں اور کیوں نہ جاتا۔ یہی یہ تو ہماری ثقافت اور روایت ہے۔

میں نے جو کیا، وہ کسی سیاست کی کسوٹی پر کھرا اترنے کے لیے نہیں کیا، میں نے دوستی کی کسوٹی پر کھرا اترنے کے لیے یہ سب کام کیا۔

اگر حکومت بنتی ہے تو کیا اس بار بہاری بابو کو وزیر عہدے اور وہ بھی کابینہ وزیر کا ملے گا؟

یہ تو ان کا استحقاق ہے لیکن اگر ملے گا تو کابینہ وزیر کا عہدہ ہی ملے گا۔ بہار، جھارکھنڈ سے تفریح دنیا کا میں پہلا سٹار ہوں، نام نہاد سٹار۔ وہ میں ہوں اور شاید آخری بھی، جو اس حد تک سٹار بنا ہے، وہ شاید میں ہوں۔

جب میں بی جے پی میں آیا تھا تو اس وقت پارٹی دو سیٹوں کی پارٹی تھی اس وقت دور دور تک کسی نے سوچا نہیں تھا کہ پارٹی کبھی اقتدار میں آئے گی۔ میں وزیر بننے کے لیے سیاست میں نہیں آیا۔ جس طرح لتا منگیشکر کی آواز کی ان کی پہچان ہے شتروگھن سنہا کی شخصیت ہی ان کی پہچان ہے اس لیے میری اس طرح کی خواہش نہیں ہے۔ پارٹی کا حکم میرے لیے آرڈیننس ہوگا۔

کیا سوناكشي انتخابی مہم کے لیے آئیں گی؟

سوناکشی میری بیٹی اور بھارت کی بڑی سٹار ہیں۔ خدا کے فضل سے بہت کم وقت میں وہ اس مقام پر پہنچی ہیں۔ اگر سوناكشي انتخابی مہم میں آ جائیں گی تو ان کی سکیورٹی کا انتظام کرنا پڑے گی۔ اب ایسا نہ ہو کہ کوئی مسئلہ ہو جائے، کوئی ہلچل ہو جائے، کہیں لینے کے دینے نہ پڑ جائیں۔

میں نے پہلے بھی کہا ہے میں خود ہی ایک سٹار ہوں اور میرے سے بڑا سٹار بلکہ سپر سٹار ایک ہی ہے وہ ہے پٹنہ کی عوام۔ انتخابی مہم میں میری بیوی بھی میرے ساتھ ہیں اور اگر سوناكشي آنا چاہیں تو میں انھیں خوش آمدید کہوں گا۔

اسی بارے میں