سیکیولر امیدواروں کے لیے بالی ووڈ کی اپیل

Image caption اپیل پر دستخط کرنےوالوں میں ہدایت کار امتیاز علی، گووند نہلانی، زویا اختر، وشال بھاردواج، آنند پٹوردھن، مہیش بھٹ وغیرہ شامل ہیں

بھارت کی فلم انڈسٹری کے کئی سرکردہ فلم سازوں اورادیبوں نے ملک کے رائے دہندگان سے اپیل کی ہے کہ وہ سیکیولرزم کے تحفظ کے لیے سیکیولر جماعتوں اور امیدواروں کو ووٹ دیں۔

غالبا اپنی نوعیت کی اس پہلی اپیل میں کہا گیا ہے کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ بدعنوانی اور بد انتظامی بہت اہم مسئلے ہیں اور ان پر پوری توجہ دی جانی چاہیے، لیکن آج بھارت کی ملی جلی ثقافت کا تصور ہی خطرے میں ہے۔ ایک بات واضح ہونی چاہیے اور وہ یہ کہ بھارت کے سیکیولر نظام سے نہ آج کوئی سمجھوتہ ہو سکتا ہے اور نہ کل۔‘

اس اپیل میں کہا گیا ہے کہ ’بھارت کی سب سے بڑی خوبی اس کی ملی جلی ثقافت اور ہر مذہب کا ایک ساتھ ہونا ہے۔ اور یہ صرف اس لیے ممکن ہے کیونکہ بھارتی معاشرہ بنیادی طور پر سیکیولر معاشرہ ہے اور وہ مذہبی منافرت میں نہیں بلکہ رواداری میں یقین رکھتا ہے۔‘

رائے دہندگان سے اس اپیل میں کسی جماعت یا امیدوار کا نام لیے بغیر کہا گیا ہے کہ ’اپنی مادرِ وطن سے محبت کرنے والے شہری کی حیثیت سے ہم آپ سے اپیل کرتے ہیں کہ آپ اپنے حلقے میں ایسی سیکیولر جماعت کے امیدواروں کو ووٹ دیں جن کے جیتنے کے زیادہ امکان ہوں۔‘

Image caption زویا اختر بھی اپیل کرنے والوں میں شامل ہیں

اس اپیل پر دستخط کرنےوالوں میں ہدایت کار امتیاز علی، گووند نہلانی، زویا اختر، وشال بھاردواج، آنند پٹوردھن، مہیش بھٹ، گلوکارہ شبھا مدگل، ادیب انجم رجب علی، نغمہ نگار سمیر انجان، فلمساز انوشا خان اور کوثر منیر شامل ہیں۔

عموما انتخابات میں بالی ووڈ غیر جانب دار ہی رہا ہے لیکن چند برسوں سے جنوبی ہندوستان کے فلم اداکاروں کی طرح ہندی فلموں کے اداکار بھی سیاست سے وابستہ ہونے لگے ہیں۔

امیتابھ بچن، راجیش کھنہ، سنیل دت، ہمیا مالنی، وجینیتی مالا، دھرمیندر، ونود کھنہ، راج ببر، جیہ پردا، گووندا اور جیہ بھادری تو پارلیمنٹ کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ اس بار بھی بالی ووڈ کے کئی نئے اور پرانے اداکار اداکار انتخابی میدان ہیں۔

اسی بارے میں