گیبریئل گارسیا مارکیز کو عالمی خراج عقیدت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کولمبیا کے ساتھ ساتھ میکسیکو میں بھی ان کی کمی محسوس کی جائے گی

دنیا بھر کے رہنماؤں اور ساتھی مصنفین نے مشہور ناول نگار اور نوبل انعام یافتہ مصنف گیبريل گارسیا ماركیز کی وفات پر تعزیتی پیغامات میں انھیں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

کولمبیا سے تعلق رکھنے والے مارکیز جمعرات کو 87 برس کی عمر میں میکسیکو میں انتقال کرگئے تھے۔

کولمبیا کے صدر جوآن مینل سینٹوس اور امریکی صدر براک اوباما نے اپنے پیغامات میں مارکیز کو دنیا کا عظیم منصف قرار دیا۔

براک اوباما نے کہا کہ ’دنیا نے ایک عظیم مصنف کو کھو دیا۔‘ کولمبین صدر نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’کولمبیا کے اس بےبدل مصنف کی موت ہزاروں سال کی تنہائی اور اداسی دے گئی ہے۔ ایسے عظیم لوگ کبھی نہیں مرتے۔‘

گیبریئل مارکیز ہسپانوی زبان کے بہترین مصنفوں میں سے ایک تھے اور ان کا ناول ’ون ہنڈرڈ یئرز آف سولیچیوڈ‘ (تنہائی کے سو سال) دنیا بھر میں بہت معروف ہے۔

1967 میں شائع ہونے والے اس ناول کی تین کروڑ جلدیں فروخت ہو چکی ہیں۔ مارکیز کو 1982 میں ادب کا نوبیل انعام دیا گیا۔

مارکیز کچھ عرصے سے بیمار تھے اور انھوں نے حال میں اپنی عوامی مصروفیات بہت کم کر دی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گیبریئل مارکیز ہسپانوی زبان کے بہترین مصنفوں میں سے ایک مانے جاتے ہیں

امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن نے کہا، ’میں ہمیشہ ان کے پاس موجود تخیل کی حیرت انگیز نعمت، خیالات کی وضاحت اور جذباتی ایمانداری سے حیران ہوتا تھا۔‘

2010 میں ادب کا نوبل انعام جیتنے والے مصنف کلک کریں ماریو ورگاس لوسا نے پیرو میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، ’ان کی تحریروں نے ادب کو زیادہ لوگوں تک پہنچایا ہے اور اسے شہرت دی ہے۔ ان کے ناول نئے قارئین تک پہنچتے رہیں گے۔‘

چلی کے مصنف ایزابیل الیندے نے مارکیز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا، ’میں نے ان کی کتابوں میں اپنے خاندان، ملک اور ان لوگوں کو پایا ہے جنھیں میں نے پوری زندگی قریب سے جانا ہے۔‘

میكسیكو میں موجود بی بی سی کے نمائندے ول گرانٹ نے کہا کہ کولمبیا کے ساتھ ساتھ میکسیکو میں بھی ان کی کمی محسوس کی جائے گی، جو تقریباً 30 سال تک ان کے گھر جیسا رہا۔

میکسیکو کے صدر انریق پینا نے ٹویٹ کی کہ ’میں میکسیکو کی طرف سے ہمارے وقت کے عظیم ترین مصنفین میں ایک کی موت پر دکھ کا اظہار کرتا ہوں۔‘

پاپ گلوکارہ شکیرا نے بھی مارکیز کے بارے میں پیغام دیا اور کہا کہ انھیں پیار سے ’گابو‘ کہا جاتا تھا، میرے دل میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔‘

انہوں نے کہا، ’پیارے گابو! تمہاری زندگی ہمیں ملے مخصوص اور اکلوتے تحفے کے طور پر ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔‘

ان کے خاندان کی ترجمان فرنانڈا فاملیار نے ٹوئٹر پر اعلان کیا کہ گیبریئل گارسیا مارکیز انتقال کر گئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مارکیز کی اہلیہ اور بیٹوں نے مجھے یہ اطلاع دینے کی اجازت دی ہے۔

کولمبیا کے صدر نے بھی ٹوئٹر کے ذریعے انھیں خراجِ تحسین پیش کیا۔ صدر یوہان مینیوئل سانتوس نے انھیں تاریخ کا بہترین کولمبیائی شہری قرار دیا۔

ان کی وفات کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی تاہم وہ میکسیکو سٹی کے ایک ہسپتال میں پھیپھڑیوں کے انفیکشن کی وجہ سے داخل تھے۔

انھیں گذشتہ ہفتے ہسپتال سے گھر بھیج دیا گیا تھا تاہم ان کی عمر کی وجہ سے ان کی صحت کو نازک قرار دیا گیا تھا۔

میکسیکو سٹی سے بی بی سی کے نامہ نگار وِل گرانٹ کا کہنا ہے کہ ان کے انتقال کا ماتم ان کے آبائی ملک کولمبیا میں تو کیا جائے گا تاہم میکسیکو کے عوام بھی غم زدہ ہوں گے کیونکہ گذشتہ 30 سال سے وہ وہیں مقیم تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ سال مارکیز کے بھائی نے اعتراف کیا تھا کہ گیبریئل اپنی قوتِ حافظہ کھو رہے ہیں

ان کے دیگر ناولوں میں ’لوّ اِن دی ٹائم آف کولرا‘ (وبا کے دنوں میں محبت) اور ’کرونیکل آف اے ڈیتھ فور ٹولڈ‘ شامل ہیں۔

گذشتہ سال گیبریئل گارسیا مارکیز کے بھائی نے کہا تھا کہ ان کے بھائی اپنی یاداشت کھو رہے ہیں۔ جیمی گارسیا نے کارٹیجینا میں طلبہ کو ایک لیکچر کے دوران بتایا کہ ان کے بھائی اکثر فون کر کے ان سے انتہائی بنیادی سوالات پوچھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میرے بھائی کی قوتِ حافظہ میں خلل پیدا ہوگیا ہے۔ کبھی کبھی میں رو پڑتا ہوں کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ میں اپنے بھائی کو کھو رہا ہوں۔‘

جیمی گارسیا کے مطابق ان کے بھائی نے لکھنا چھوڑ دیا تھا۔

اس وقت کولمبیا سے بی بی سی کے نامہ نگار ارتورو والس کا کہنا تھا کہ گیبریئل گارسیا کی قوتِ حافظہ میں خلل کی افواہیں پہلے بھی سامنے آئی تھیں تاہم ان کے چھوٹے بھائی جیمی گارسیا ان کے خاندان کے پہلے شخص ہیں جس نے کھلے عام اس کا اعتراف کیا۔

اسی بارے میں