شپ آف تھیسیئس کو بہترین فلم کا ایوارڈ

تصویر کے کاپی رائٹ ship of thseus
Image caption گذشتہ بدھ کو فلم شپ آف تھیسیئس کے لیے بہترین فلم کے قومی فلم ایوارڈ کا اعلان کیا گیا

’شپ آف تھیسیئس‘ کو بھارت کے 16 قومی فلم ایوارڈز میں بہترین فلم قرار دیا گیا ہے۔

یہ فلم صدیوں پرانی اس رومن کہانی پر مبنی ہے جس میں ایتھنز کی عظیم سلطنت کا بانی تھیسیئس ایتھنز کے بعض نوجوانوں کے ساتھ جس بحری جہاز پر لوٹے تھے اسے بہت دنوں تک یاد گار کے طور پر محفوظ کیا جاتا ہے۔

اس کہانی کے ذریعے پہلی صدی کے ‏عظیم یونانی فلسفی پلوٹارک نے ’فلسفۂ تضاد‘ پر بحث کی ہے جسے شپ آف پیراڈوکس کے نام سے جانا جاتا ہے۔

اسی فلسفہ پر بنائی جانے والی فلم ’شپ آف تھیسیئس‘ کے ہدایت کار آنند گاندھی کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس فلم کو اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر لکھا اور یہ کہ یہ ان کی پہلی فیچر فلم بھی ہے۔

فلم کے مصنف اور ہدایت کار آنند گاندھی ایک ایسے شخص ہیں جنھوں نے ’کہانی گھر گھر کی‘ اور ’کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی‘ جیسے ڈراموں کے مکالمے لکھے تھے اور اس بار وہ اس قدر سنجیدہ اور فلسفیانہ فلم لے کر آئے اور کامیاب ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ pr
Image caption عامر خان کی اہلیہ کرن راؤ نے اس کی تقسیم کے ساتھ اس کی حوصلہ افزائی کی

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے اس فلم کے بارے میں کہا ’اپنی نانی کے علاج کے لیے میں ہسپتال میں تھا۔ وہ کافی تکلیف میں تھیں اور ڈاکٹر جواب دے چکے تھے۔ میری حالت ڈوبتي کشتی پر سوار اس سادھو کی طرح تھی جس نے وید پڑھ رکھی تھی لیکن تیرنا نہیں سیکھا تھا۔ ساری دنیا کی دوائیں انھیں ٹھیک نہیں کر سکتی تھی اور پھر زندگی اور موت کے اس کھیل کو میں نے سمجھنے کی کوشش شروع کی۔‘

زندگی کی پہیلی کو سمجھنے کے بارے میں آنند کہتے ہیں ’شپ آف تھیسیئس میری کوششوں کی ایک چھوٹی سی کڑی ہے جس کے آگے ابھی بہت سفر باقی ہے۔ لیکن یہ سفر آسان نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’قومی ایوارڈ تو مل گیا لیکن اس سے زيادہ ضروری ہے فلم بنانا اور آج بھی ہمارے یہاں فلم میکرز کو اتنے وسائل دستیاب نہیں کہ وہ اپنی پسند کے اعتبار سے فلمیں بنا یا اسے تقسیم کر سکیں۔‘

آنند کہتے ہیں’بھارت میں فلم ریلیز کرنے کے لیے ہم تقسیم کار ڈھونڈ رہے تھے اور فلم سے کوئی بڑا نام منسلک نہیں تھا اس لیے یہ مسئلہ درپیش تھا۔‘

انھوں نے فلم انڈسٹری کے بارے میں کہا ’آج بھی انڈسٹری چند لوگوں کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اپنی فلم بنا کر فوری طور پر ریلیز کر لیتے ہیں۔‘

آنند نے مزید کہا ’ایسے میں کرن ( کرن راؤ، عامر خان کی اہلیہ ) نے ہماری فلم کو بھارت میں پیش کیا۔ وہ ہمارا چہرہ تھیں جن کے بغیر اتنے بڑے پیمانے پر ریلیز مشکل تھی۔‘

اسی بارے میں