وویک اوبرائے اپنے پرانے کام کی جانب

Image caption وویک اوبرائے اپنے زمانے کے معروف اداکار سریش اوبرائے کے بیٹے ہیں

گذشتہ سال چار فلموں میں نظر آنے والے وویک اوبرائے نے ایک بار پھر سے وہ کام کیا جو وہ کالج کے زمانے میں کیا کرتے تھے، یعنی ڈبنگ آرٹسٹ کا کام۔

اس بار فرق صرف اتنا ہے کہ انھیں جمی فاکس جیسے مشہور ہالی وڈ اداکار کی آواز کو ہندی میں ڈب کرنے کا موقع ملا۔

’امیزنگ سپائڈر مین 2‘ فلم میں فاکس ولن کا کردار ادا کر رہے ہیں جس کا نام الیکٹرو ہے۔ وویک نے اسی منفی کردار الیکٹرو کے ڈائیلاگ ہندی میں ڈب کیے۔

گذشتہ دنوں ریلیز ہونے والی فلم ’ریو 2‘ میں عمران خان اور سوناکشی سنہا کی آوازیں سنائی دی تھیں اور اب وویک اوبرائے کی آواز ’امیزنگ سپائڈر مین 2‘ کے لیے لی جا رہی ہے۔

ڈبنگ کی دنیا میں اپنے تجربے کو بیان کرتے ہوئے وویک نے کہا: ’کریئر کی شروعات میں میں نے ڈبنگ کی ہے۔ میں نے کئی ٹی وی سیریلوں کے لیے آواز دی لیکن یہ بہت بڑا چیلنج تھا۔ جمی فاکس جیسے اداکار کے بولنے کے انداز سے ہم آہنگی پیدا کرنا بہت مشکل تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption وویک نے فلم ’امیزنگ سپائڈر مین 2‘ میں الیکٹرو کے کردار کو ہندی میں اپنی آواز دی ہے

وویک کہتے ہیں کہ ’زبان و بیان کی سطح پر ہم بعض اوقات مشکل میں گھر جاتے تھے۔ بعض انگریزی ڈائیلاگ کو ہندی میں ادا کرنے میں دقت ہوتی تھی کہ آخر انھیں ہندی میں کس طرح کہیں۔ لیکن مزا بہت آیا۔‘

انھوں نے مزید بتایا: ’شروع شروع میں ایک دو گھنٹے کے بعد میں بہت پریشان ہو کر سوچنے لگ جاتا تھا کہ آخر میں یہ کر ہی کیوں رہا ہوں لیکن پھر رفتہ رفتہ سب ہوتا چلا گیا۔‘

وویک کا کہنا ہے کہ ’اس کام میں سب سے زیادہ توجہ اس بات پر رکھنی ہوتی ہے کہ انگریزی میں کہی گئی بات سے ملتا جلتا ہندی جملہ رکھا جائے تاکہ وہ کردار کے ہونٹوں کے حرکات سے مختلف نہ نظر آئے۔‘

گذشتہ سال وویک کی چار فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں ’گرینڈ مستی‘ نے باکس آفس پر اچھی کمائی کی، لیکن وویک کہتے ہیں کہ وہ کسی بھی زبان میں فلم کرنے کو تیار ہیں بس وہ دلچسپ ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Maruti Films
Image caption وویک کی تازہ فلم ’گرینڈ مستی‘ نے اچھی کمائی کی تھی

وویک کا کہنا ہے کہ ’فلم بالی وڈ کی ہو، ہالی وڈ یا ٹالی وڈ کی، رول اگر اچھا ہے تو میں کرنے کے لیے تیار ہوں۔ کچھ مختلف بھی ہو، کچھ چیلنجنگ بھی ہو، جیسے یہ فلم تھی۔ یہ کام مختلف تھا تو میں نے سوچا کہ چلو کرتے ہیں اس میں مزا آئے گا۔‘

’امیزنگ سپائڈرمین 2‘ کا ذکر کرتے ہوئے وویک نے اس کا مقابلہ منموہن دیسائی کی فلموں سے کیا۔ انھوں نے کہا: ’سپر ہیرو فلموں میں سب کچھ ہوتا ہے۔ ان میں ایکشن ہے، سپیشل ایفیكٹس ہیں، محبت کی کہانی ہے، مزاح ہے۔ اس میں ہر قسم کا مسالا ہے۔‘

اسی بارے میں