ادبی میلہ، تازہ ہوا کا جھونکا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شمالی علاقہ جات کے ادیب۔ دائیں سے بائیں: اسلم ساحر (بلتی)، نذیر بلبل (واخی) اور جمشید دکھی (شینا)۔

اسلام آباد میں دوسرا ادبی میلہ اپنے اختتام کو پہنچا، جس میں لوگوں کی بڑی تعداد میں شرکت سے ایک بات واضح ہو گئی کہ آج کے دور میں بھی ادب لوگوں کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔

ویسے تو یہ میلہ بنیادی طور پر انگریزی زبان کے لیے مخصوص تھا، اور انگریزی لکھنے والے اور پڑھنے والے ہی چھائے رہے، لیکن اس میں حصہ بقدرِ جثہ کے مصداق اردو اور علاقائی زبانوں کو بھی جگہ دی گئی۔ سب سے دلچسپ نشست شمالی زبانوں کی شاعروں کے ساتھ تھی، جس میں شینا کے شاعر جمشید دکھی، واخی کے شاعر نذیر بلبل اور بلتی کے شاعر اسلم ساحر نے اپنے کلام اور گفتگو سے حاضرین کو محظوظ کیا۔

جمشید دکھی کی شاعری کو مزاحمتی ادب کے زمرے میں رکھا جا سکتا ہے، جس میں شمالی علاقہ جات کے مسائل اور اربابِ اختیار کی بےحسی کو موضوع بنایا گیا ہے۔ دکھی اردو میں بھی شاعری کرتے ہیں، جس کا ایک نمونہ اس شعر کی شکل میں حاضر ہے، جس سے ان کی افتادِ طبع کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے:

نہ بجلی دے سکے آدھی صدی میں وہ حاکم کس طرح آئین دیں گے

واخی کے شاعر نذیر بلبل زیادہ تر واخی ہی میں شاعری کرتے ہیں۔ انھوں نے یہ افسوس ناک خبر دی کہ یونیسکو کے تخمینے کے مطابق واخی اور اس جیسی ہزاروں زبانیں اس صدی کے اختتام تک ختم ہو جائیں گی، لیکن انھوں نے کہا کہ جب تک ہم واخی بولنے والے اپنی زبان بولتے رہیں گے، اس وقت تک واخی ختم نہیں ہو سکتی۔

نذیر بلبل نے ہنزہ میں ایک سکول قائم کر رکھا ہے جس میں بچوں کو تین برس تک واخی پڑھائی جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مستنصر حسین تارڑ بیشتر وقت اپنے مداحوں میں گھرے رہے

اس ادبی میلے کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ اس میں بصری فنون کو بھی نمایاں جگہ دی گئی تھی، اور یہاں کتابوں کے علاوہ پینٹنگز، مجسموں اور پرانے اشتہاروں کی نمائش بھی پیش کی گئی تھی۔

اسی سلسلے میں فوزیہ من اللہ کے کارٹون بھی دکھائے گئے جن کے بارے میں کہا گیا کہ وہ پاکستان کی پہلی اور واحد خاتون سیاسی کارٹون نگار ہیں۔ ان کے بارے میں منعقد کیے گئے اجلاس میں انھوں نے گذشتہ کئی عشروں پر محیط کارٹونوں کے نمونے پیش کیے جنھیں حاضرین نے بےحد سراہا۔

جو شخصیت اس میلے میں سب سے زیادہ توجہ کا مرکز بنی رہی وہ تھے انتظار حسین، جنھوں نے قریب قریب ہر اجلاس میں شرکت کی۔ افسانے کے بارے میں منعقد ہونے والی ایک نشست میں ان سے سوال کیا گیا کہ اس مسئلے کا کیا حل کیا جائے کہ نقاد ادیبوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ انتظار حسین نے اپنی مخصوص سبک بیانی سے کام لیتے ہوئے کہا کہ میرا تو یہ حال ہے کہ میں نقادوں کو اپنی تحریروں کی مدد سے گمراہ کرتا ہوں۔

ایک اجلاس میں جدید اردو افسانے کے اہم نام اکٹھے تھے، محمد حمید شاہد، نیلم احمد بشیر، عاصم بٹ، نیلوفر اقبال اور عرفان احمد عرفی۔ عرفی نے اپنا افسانہ ’پاؤں‘ سنایا جو مختصر ہونے کے باوجود اپنے اچھوتے موضوع اور تخلیقی اندازِ بیان کے باعث گہرا تاثر چھوڑ گیا۔

جگنو محسن ویسے تو صحافی کے طور پر زیادہ معروف ہیں، لیکن اس ادبی میلے میں ان کا ایک ہنر سامنے آیا، کہ وہ بہت اچھی مزاحیہ فنکارہ بھی ہیں۔

انھوں نے ایک اجلاس میں انگریزی، پنجابی، اردو اور عربی زبانوں میں مختلف لوگوں کی اس قدر عمدہ نقالی کی کہ ہال بار بار قہقہوں سے گونج اٹھتا تھا۔ خاص طور پر انھوں نے بےنظیر بھٹو کے بارے میں ایک واقعہ بےنظیر کے مخصوص لب و لہجے کے ساتھ یوں سنایا کہ سبھی جگنو کی صلاحیت کے معترف ہو گئے، اور ایک صاحب نے انھیں مشورہ بھی دے ڈالا کہ وہ بطور سٹینڈ اپ کامیڈین کام شروع کر دیں تو خاصی کامیاب ٹھہریں گی۔

میلے کے اختتام پر سب سے مطمئن شخصیت اوکسفرڈ پاکستان کی مینیجنگ ڈائریکٹر اور اس میلے کی روح و رواں امینہ سید تھیں۔ ہم نے ان سے پوچھا کہ یہ میلہ پہلے ادبی میلے سے کس طرح مختلف تھا، تو انھوں نے جواب دیا کہ اگرچہ بنیادی ڈھانچہ پہلے کی طرح رہا، لیکن اس سال یہ میلہ زیادہ بڑے پیمانے پر منعقد کیا گیا، مصنف زیادہ تھے اور سیشن بھی زیادہ تھے، اور مختلف شعبوں کو جگہ دی۔

انھوں نے یقین دہانی کروائی کہ اسلام آباد میں اگلے سال پھر یہ میلہ سجے گا: ’میں یہ چاہتی ہوں کہ یہ ایک ماڈل بن جائے، ہمیں پشاور، ملتان اور گلگت وغیرہ سے بھی فرمائشیں آ رہی ہیں کہ وہاں بھی یہ میلے منعقد کیے جائیں۔‘

انھوں نے کہا: ’میں یہ چاہتی ہوں کہ پورے پاکستان میں یہ تحریک کی طرح چل پڑے اور ہر شہر اور ہر صوبے میں اس قسم کے فیسٹیول ہوتے رہیں۔‘

ہماری بھی یہی خواہش ہے کہ اس قسم کی ادبی، فنی اور علمی سرگرمیاں بار بار ہونی چاہییں، تاکہ دورِ حاضر کے گھٹے ہوئے ماحول میں لوگوں کو کہیں کسی طرف سے ہوا کا کوئی تازہ جھونکا مل سکے۔ اسی بات کو کشور ناہید نے بڑی عمدگی سے ایک شعر کی صورت میں بیان کیا:

مےخانہ سلامت ہے تو ہم سرخیِ مے سے تزئینِ در و بامِ حرم کرتے رہیں گے

اسی بارے میں