وہ آخری خط اور دادا صاحب کی موت

تصویر کے کاپی رائٹ chandrashekhar
Image caption دادا صاحب پھالکے 30 اپریل 1870 میں پیدا ہوئے تھے

ہندوستانی سنیما کے بانی کہلائے جانے والے دھنڈی راج گووند پھالکے یعنی دادا صاحب پھالکے نے سنہ 1944 میں آخری بار فلم بنانے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ انھیں فلم بنانے کی اجازت نہیں ملی اور انکار کے اس ایک خط کے بعد دادا صاحب پھالکے بھی نہیں رہے۔

دادا صاحب پھالکے کی سالگرہ کے موقعے پر بی بی سی کے لیے مدھو پال نے پھالکے کے نواسے چندر شیکھر پسالكر سے بات چیت کی۔

آج یعنی 30 اپریل کو دادا صاحب پھالکے کی 144 ویں سالگرہ ہے۔

پسالكر کہتے ہیں: ’اپنے آخری برسوں میں دادا صاحب ایلزہائمر کے مرض میں مبتلا تھے لیکن ان کے بیٹے پربھاکر نے ان سے کہا کہ چلیے نئی ٹیکنالوجی سے کوئی نئی فلم بناتے ہیں۔ اس وقت برطانوی راج تھا اور فلم سازی کے لیے لائسنس لینا پڑتا تھا۔ جنوری 1944 میں دادا صاحب نے لائسنس کے لیے خط لکھا۔ 14 فروری 1946 کو جواب آیا کہ فلم بنانے کی اجازت نہیں مل سکتی۔ اس دن انھیں ایسا صدمہ لگا کہ دو دن کے بعد ہی وہ چل بسے۔‘

چندر شیکھر کہتے ہیں کہ ’آج جس فلم انڈسٹری کی اتنی ساکھ ہے اس کے بانی کی جب موت ہوئی تو ان کے آخری سفر میں شامل ہونے کے لیے بھی چند لوگ ہی تھے اور اخبارات میں بھی ان کی موت کی خبر چند سطروں پر مبنی تھی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ chandrashekhar
Image caption دادا صاحب کی فلم راجہ ہریش چندر 1913 میں آئی تھی یہ بھارت کی پہلی مکمل فلم مانی جاتی ہے

بات چیت کے دوران چندر شیکھر نے بتایا کہ ان کے اہل خانہ نے بہت کوشش کی کہ دادا صاحب کو بھارت رتن سے نوازا جائے لیکن کچھ نہ ہو سکا۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’سنہ 2000 اور 2001 کے دوران ہم نے کئی فلم تنظیموں کے ساتھ مل کر حکومت کے سامنے یہ مطالبہ رکھا تھا کہ دادا صاحب کو بھارت رتن دیا جائے۔ اس تجویز کی کاپی آج بھی میرے پاس ہے لیکن اس کا کچھ نہیں ہوا۔‘

ان کا خیال ہے کہ ’اب بھی دیر نہیں ہوئی ہے۔ اگر حکومت چاہے تو انھیں یہ اعزاز دیا جا سکتا ہے۔‘

بھارت رتن ہندوستان کا سب بڑا شہری اعزاز ہے، اور یہ ستیہ جیت رے، لتا منگیشکر، استاد بسم اللہ اور روی شنکر جیسے کئی فنکاروں کو مل چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ chandrashekhar
Image caption اپنے زمانے کے معروف اداکار سنیل دت دادا صاحب کے اہل خانہ کے ساتھ

چندر شیکھر نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا: ’بھارت رتن تو اسی کے لیے ہے جس نے بھارت کے لیے کچھ کیا ہو تو پھر انھیں کیوں نہیں ملا؟ مزید کیا ثبوت چاہیے جس کی بنیاد پر انھیں یہ اعزاز دیا جائے گا؟ ہم پیسے نہیں مانگ رہے ہیں بس ان کے لیے اعزاز ہی تو چاہتے ہیں۔‘

پسالكر اس بات سے بھی افسردہ ہیں کہ پھالکے کے نام پر ایوارڈ دیا جاتا ہے لیکن ان کے خاندان والوں کو کبھی بلایا نہیں جاتا۔

واضح رہے کہ بھارت میں سینیما کا سب سے باوقار اعزاز دادا صاحب پھالکے کے نام پر ہی دیا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ chandrashekhar
Image caption صاحب پھالکے نے سنہ 1944 میں آخری بار فلم بنانے کی خواہش ظاہر کی تھی

پھالکے خاندان کے مطابق فلمی صنعت کے رویے کی بات چھڑنے پر چندر شیکھر نے کہا: ’میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ فلم انڈسٹری لاپروا رہی ہے۔ سنیل دت صاحب نے ہماری کافی مدد کی۔ میری ماں جب ایلزہائمر اور کینسر سے لڑ رہی تھیں تو وہ گھر آئے تھے۔ اقتصادی مدد کی۔ ان کی وجہ سے ماں کو تین سال تک پنشن بھی ملی۔ ایسا کون کرتا ہے۔ یش چوپڑا صاحب نے مجھے اپنے دفتر بلا کر چیک دیا تھا اور کہا کہ کسی سے نہ کہنا۔‘

بھارت میں پہلی مکمل فلم ’راجہ ہریش چندر‘ دادا صاحب پھالکے نے سنہ 1913 میں پیش کی تھی۔ اس موقعے پر گذشتہ سال انڈین سینیما کا صد سالہ جشن پورے سال جاری رہا تھا۔

اسی بارے میں