’اب کے فنکار بھی پہلے جیسے نہیں رہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Madhav Agasti
Image caption مادھو اگستھي کے تمام فلمی گاہکوں سے اچھے تعلقات تھے، بطور خاص وہ امريش پوری کے بہت قریب تھے

بالی وڈ کے معروف ولن موگیمبو، لائن، ڈاکٹر ڈینگ، شاكال جیسے بعض کرداروں نے سینیما بینوں میں اپنی مخصوص پہچان بنائی ہے۔

ان کے لباس نے بھی انھیں منفرد رنگ و آہنگ دیا۔ بطور خاص 70 اور 80 کی دہائی میں ان ولنز کی پوشاکوں پر خاص توجہ دی جاتی تھی تاکہ وہ فلم میں دوسرے کرداروں سے بالکل مختلف نظر آئیں اور انھیں ’لارجر دین لائف‘ کردار کے طور پر پیش کیا جا سکے۔

بی بی سی کے لیے ممبئی میں مدھوپال نے ایک ایسے درزی سے ملاقات کی جنھوں نے گذشتہ 40 سالوں میں بالی وڈ کے کئی معروف ولنز کے کپڑے سیے ہیں۔

64 سالہ مادھو اگستھي نے ولنز امجد خان، امريش پوری، پریم چوپڑا اور گلشن گروور جیسے اداکاروں کے علاوہ دلیپ کمار، راجندر کمار، سنیل دت، امیتابھ بچن اور موجودہ دور میں عامر خان، سلمان خان جیسے ہیروز تک کے کپڑے سیے۔

انھوں نے سنہ 1975 میں ممبئی کے علاقے دادر کے شیواجی پارک میں اپنی دکان شروع کی تھی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مادھو نے کہا: ’ویسے تو میں نے بہت سے ٹاپ ہیروز کے کپڑے بھی سیے لیکن مجھے اپنے فن کو بہتر طریقے سے بہتر بنانے کا موقع اس وقت ملا جب میں نے ولنز کے لباس پر کام کرنا شروع کیا۔

Image caption مادھو نے امريش پوری کے موگیمبو کے کردار کے لیے کپڑے ڈیزائن کیے

’میں نے نہ صرف ان کے لیے کپڑے سیے بلکہ اپنے ذوق کے مطابق کپڑے ڈیزائن بھی کیے۔ ہمیں ہدایت کار بتاتے تھے کہ ولن کا کاسٹیوم ایسا ہونا چاہیے جسے دیکھ کر خوف پیدا ہو۔‘

مادھو بتاتے ہیں کہ پران، امريش پوری اور گلشن گروور تین ایسے اداکار تھے جنھوں نے اپنے حلیے میں بہت تبدیلیاں کیں۔

وہ کہتے ہیں: ’پران اور امريش پوری اکثر مجھ سے کہتے تھے کہ ہر وقت ناظرین کو کچھ نیا دیتے رہنا چاہیے تاکہ وہ بور نہ ہوں، اس لیے ہمارا لباس ایسا تیار کرو کہ لوگ یاد رکھیں۔‘

مادھو نے امريش پوری کے موگیمبو کے کردار کے لیے کپڑے ڈیزائن کیے۔ اس لباس کے لیے سامان لندن سے منگوایا گیا تھا۔ وہ کہتے ہیں: ’میں نے ان کے کاسٹیوم کو بھارتی اور ویسٹرن کا مرکب بنا دیا۔‘

مادھو اگستھي کے تمام فلمی گاہکوں سے اچھے تعلقات تھے، لیکن وہ بطور خاص وہ امريش پوری کے بہت قریب تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Madhav Agasti
Image caption سنیل دت نے ان کی دوسری دکان کا افتتاح کیا تھا

مادھو بتاتے ہیں: ’امريش جی مجھ سے تقریباً روز ملتے تھے۔ گھنٹوں باتیں کرتے تھے۔ آخری دنوں میں ان کی طبیعت بے حد خراب تھی، پھر بھی میرے بیٹے کی شادی میں آئے۔‘

مادھو نے یہ بھی بتایا کہ امجد خان سے بھی ان کا بے حد قریبی رشتہ رہا۔

دادر کے علاوہ مادھو کی ایک دکان ممبئی کے باندرہ علاقے میں بھی ہے جس کا افتتاح سنیل دت نے کیا تھا۔

انھوں نے بتایا: ’اس دکان پر دلیپ کمار، سنیل دت اور پران گھنٹوں چائے کی چسكياں لیتے تھے اور فلم، سیاست اور دوسرے مسائلوں پر بحث کیا کرتے۔ ان فنکاروں کو دیکھنے کے لیے باہر لوگوں کا مجمع لگ جاتا تھا اور ان کے محافظ بھیڑ کو ہٹایا کرتے تھے۔‘

مادھو نے اب فلموں کے لیے کام تقریباً بند کر دیا ہے۔ انھوں نے آخری بار 2007 میں آنے والی فلم ’ویلکم‘ میں فیروز خان، انیل کپور اور نانا پاٹیکر کے لیے کپڑے سیے تھے۔

Image caption مادھو اپنے تیار کردہ لباس کے بارے میں بتاتے ہوئے

مادھو کے مطابق: ’اب ولن خطرناک نہیں ہوتے، اب تو ہیرو ہی ولن بننے لگے ہیں۔ اب وہ ’لارجر دین لائف‘ والا زمانہ گیا۔ اب کے فنکار بھی پہلے جیسے نہیں رہے۔‘

مادھو صرف بالی وڈ تک ہی محدود نہیں رہے۔ انھوں نے کئی سیاستدانوں کے لیے بھی کپڑے سیے اور اس کا کریڈٹ وہ سنیل دت کو دیتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’سنیل دت کی وجہ سے میری سیاست دانوں سے پہچان ہوئی۔ انھیں میرا کام پسند آیا۔ میں نے لال کرشن اڈوانی، بال ٹھاکرے، فاروق عبداللہ وغیرہ کے لیے کپڑے ڈیزائن کیے۔‘

فٹ پاتھ سے اپنے ٹیلرنگ کریئر کی ابتدا کرنے والے مادھو اگستھي کو اس بات پر فخر ہے کہ انھیں بھارت کے صدر پرنب مکھرجی تک کے کپڑے سینے کا موقع مل چکا ہے۔

اسی بارے میں