رجنی کانت ٹوئٹر پر، چھ گھنٹے میں ایک لاکھ فالوورز

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رجنی کانت کے ٹوئٹر پر آتے ہی کچھ منٹوں میں ہی 144 پرستار ان سے منسلک ہو چکے تھے اور جب تک ان کا پہلا ٹویٹ آتا تب تک شائقین کی تعداد 17 ہزار تک پہنچ چکی تھی

بھارت اور بطورِ خاص جنوبی بھارت کے میگا سٹار رجنی کانت نے سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر اپنا اکاؤنٹ کھول لیا ہے اور ابتدائی چند گھنٹوں میں ہی ان کے مداحوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی۔

ان کی بے پناہ مقبولیت کے بڑے سٹارز بھی معترف ہیں اور یہ عین ممکن ہے کہ جب تک آپ اس خبر کو پڑھ رہے ہیں ان فالوز کی تعداد دوگنی، تین گنی ہو چکی ہو۔

رجنی کانت کا ٹوئٹر ہینڈل superstarrajini@ ہے۔

سوشل میڈیا کے ماہر ٹينو چیرین ابراہم نے بی بی سی کو بتایا: ’یہ غیر متوقع ہے۔ بھارت میں کسی کے بھی پانچ گھنٹوں میں ایک لاکھ فالوور نہیں بنے ہیں، لیکن ایک حیثیت سے یہ حیرت انگیز نہیں بھی ہے کیونکہ رجنی کانت بے حد مقبول ہیں۔‘

سیاسی تجزیہ نگار اور تمل سینیما کے مبصرین نياني شنكرن اسے حیران کن نہیں تسلیم کرتے: ’یہ کسی فلم کی ریلیز سے قبل فلمی ہستیوں کی عام چال ہوا کرتی ہے۔ اس سے پہلے وہ اپنی فلم کی ریلیز سے پہلے کسی سیاسی تبصرے کا سہارا لیتے تھے، اس بار انھوں نے میڈیا کے ایک دوسرے روپ سوشل میڈیا کا استعمال کیا ہے۔‘

رجنی کانت سوشل میڈیا پر اپنی بیٹی سوندريہ کی فلم ’كوچڑيان‘ کی ریلیز سے پہلے آئے ہیں۔ یہاں یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ اس فلم میں ’سٹائل گرو‘ رجنی کانت ہیرو ہیں۔

معروف شخصیات کا انتظام دیکھنے والی ایک کمپنی فلوينس جو کے بزنس ہیڈ آشیش جوشی نے کہا: ’وہ ریٹائر نہیں ہوئے ہیں۔ چونکہ یہ سوندريہ کی فلم تھی اس لیے ہم انھیں اپنے مداحوں کو اس میں شامل کرنے کا یہ طریقہ تیار کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ان کے آئی پی کو محفوظ رکھنا بھی اہم ہے۔‘

جوشی شنکرن سے اتفاق نہیں رکھتے۔ ان کا کہنا ہے ’یہ صرف ان کی شبیہ کو ابھارنے کے لیے تھا، سوندريہ کی فلم کی ریلیز کے ساتھ ان کے ٹوئٹر پر آنے کی تاریخ کا ملنا محض اتفاق ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Kochadaiyaan pr
Image caption رجنی کانت کی تازہ فلم کوچڑیان کو ان کی بیٹی سوندریہ نے ڈائرکٹ کی ہے

جبکہ ٹينو ابراہم کہتے ہیں: ’فلم کی تشہیر واضح طور پر اس کا مقصد ہے۔ لیکن انھوں نے جو تجربہ کیا ہے وہ ایک سال پرانا ہے۔‘

رجنی کانت کے ٹوئٹر پر آتے ہی کچھ منٹوں میں ہی 144 پرستار ان سے منسلک ہو چکے تھے اور جب تک ان کا پہلا ٹویٹ آتا تب تک شائقین کی تعداد 17،000 تک پہنچ چکی تھی۔

انھوں نے اپنے پہلے ٹویٹ میں کہا: ’خدا کو سلام۔ ونكّم انائواروكّم، آپ تمام مداحوں کا شکریہ۔ میں اس ڈیجیٹل سفر پر پرجوش ہوں۔‘

ان کے پہلے ٹویٹ پر ہزاروں کی تعداد میں ردعمل آئے۔ ان میں سے ایک سدھارتھ گڈیپتی کا ردعمل تھا: ’ٹوئٹر سرور کی صلاحیت کا امتحان۔‘

ایک دوسرا رد عمل نوین جوائے کا تھا: ’تھلاوا کے پرستار ان کے دوسرے ٹویٹ کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔‘

رجنی کانت کو ان کے مداح مختلف ناموں سے یاد کرتے ہیں جن میں تھلاوا اور سر زیادہ معروف ہیں۔

اسی بارے میں