پاکستان:دینہ کو گلزار کا انتظار

گلزار تصویر کے کاپی رائٹ Hoture Images
Image caption گلزار اب دنیا بھر میں ہندوستانی فلموں سے مقبول ہونے والی اپنی شاعری کے سبب جانے جاتے ہیں۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے لگ بھگ سو کلو میٹر کے فاصلے پر، جی ٹی روڈ کے کنارے ضلع جہلم کا تاریخی قصبہ دینہ ہے۔

وہی دینہ جس کے بارے میں گلزار نے لکھا:

ذکر جہلم کا ہو بات ہو دینے کی

چاند پُکھراج کا رات پشمینے کی

دینہ جنوبی ایشیا کے مشہور شاعر سمپورن سنگھ کالڑہ عرف گلزار کی جنم بھومی ہے۔ گلزار 18اگست 1938 کو دینہ شہر سے تقریباً تین کلومیٹر دوری پر واقع ایک گاؤں کُرلہ میں پیدا ہوئے۔ بعد میں ان کے والد مکھن سنگھ نے دینہ کے مرکزی بازار میں مکان لیا، دکان خریدی اور اپنے خاندان کے ساتھ یہاں منتقل ہو گئے۔

گلزار نے بچپن کا زیادہ وقت دینہ کے اسی گھر میں گزارا تھا۔ یہ گھر اور اس کے آس پاس کی دکانیں آج بھی موجود ہیں۔ جس جگہ یہ گھر ہے اسے پرانا ڈاک خانہ چوک کہا جاتا تھا لیکن اب اس کا نام پاکستانی چوک ہے۔

پچھلے سال جب گلزار تقسیم کے بعد پہلی بار یہاں آئے تو اپنے گھر کو دیکھ کر جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔

گلزار کا آبائی گھر اب ایک شیخ خاندان کے پاس ہے۔ اس خاندان کے لوگوں کا کہنا ہے کہ تقسیم سے پہلے وہ کالڑہ خاندان کے کرایہ دار تھے بعد میں یہ گھر انہیں الاٹ کر دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Shiraz Hassan
Image caption دینہ کی وہ گلی جس کا نام اب گلزار سٹریٹ رکھ دیا گیا ہے۔

شیخ خاندان کے ایک بزرگ شیخ عبدالقیوم ایڈووکیٹ گلزار کے ہم عمر ہیں۔ وہ گلزار کے پچپن کے ساتھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہمارے گھر ساتھ ساتھ تھے اور ہم دونوں ایک ہی سکول میں پڑھتے تھے۔

شیخ عبدالقیوم کا کہنا ہے کہ ’جب گلزار یہاں آئے تھے تو میں نے ان سے کہا تھا کہ کیا ہم اس گلی کا نام ’گلزار سٹریٹ‘ رکھ دیں تو گلزار کا کہنا تھا کہ یہ بہت خوشی کی بات ہوگی‘۔

شیخ عبدالقیوم کے مطابق یہ گلی پچھلے ستّر سال سے اسی حالت میں ہے جب کہ کالڑہ خاندان کے گھر کا ایک حصہ اب تک اپنی اصل حالت میں ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ یہیں پر گلزار کے والد مکھن سنگھ کی کپڑے کی دکان ہوا کرتی تھی۔

گلزار کا یہ گھر تقریباً چار فٹ چوڑی گلی میں واقع ہے اور گھر کا پرانا حصہ ٹوٹ پھوٹ رہا ہے۔ ان کے گھر کے دوسرے حصے میں نئی عمارت تعمیر کر دی گئی ہے۔

دینہ کے مقامی لوگوں نے بتایا کہ جب گلزار یہاں آئے تھے تو کچھ دوستوں نے یہ مشورہ دیا تھا کہ اس گھر کو خرید کر یہاں لائبریری بنا دی جائے لیکن بعد میں اس بارے میں کچھ نہ ہو سکا۔ لیکن گلزار کے دینہ آنے کے بعد اب اس گلی کو گلزار سٹریٹ کے نام سے ہی پکارا جاتا ہے۔

وہ سکول جہاں گلزار نے ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی، گورنمنٹ ہائی سکول، دینہ کے میاں محلے میں واقع ہے۔ سکول کا وہ حصہ جہاں گلزار کا کلاس روم تھا، اب موجود نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Shiraz Hassan
Image caption دینہ گورنمنٹ ہائی سکول جس کے ایک بلاک کا نام ’گلزار کالرہ بلاک‘ رکھ دیا گیا ہے۔ گلزار نے یہاں تعلیم حاصل کی۔

سکول کے ہیڈ ماسٹر جاوید احمد اس بارے میں بتاتے ہیں کہ ’سکول کا وہ حصہ اب ختم ہو چکا ہے لیکن سکول کے ایک نئے بلاک کو سکول انتظامیہ کی طرف سے ’گلزار کالڑہ بلاک‘ کا نام دیا گیا۔

جب گلزار یہاں پڑھتے تھے تب سکول کا یہ حصہ کھیل کا میدان تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری خواہش ہے کہ گلزار دوبارہ یہاں آئیں اور زیادہ وقت ہمارے ساتھ گزاریں‘۔

وہ کہتے ہیں کہ سکول کو فخر ہے کہ اس سکول کے ایک طالب علم نے پورے جنوبی ایشیا میں نام پیدا کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سکول کا تعلیمی ریکارڈ ہی اچھا نہیں ہے یہاں کے طالب علم ادبی سرگرمیوں اور کھیلوں میں بھی پورے ضلع میں اپنی پہچان رکھتے ہیں۔

گورنمنٹ ہائی سکول، دینہ 1921 میں پرائمری سکول کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا، 1941 میں اسے مڈل کا درجہ دیا گیا اور اسی دور میں گلزار نے یہاں تعلیم حاصل کی تھی۔1989 میں اسے ہائی سکول بنا دیا گیا۔

شیخ عبدالقیوم بتاتے ہیں جب گلزار کچھ دوستوں کے ساتھ سکول کی طرف جا رہے تھے تو ان میں بہت جوش دکھائی دے رہا تھا، وہ سب سے آگے آگے تھے۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے کوئی بچہ خوشی خوشی سکول جا رہا ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے گلزار سے کہا کہ آپ کوئی چیز ساتھ لانا بھول گئے ہیں۔ گلزار نے پوچھا ’وہ کیا؟‘۔۔۔ تو میں نے جواب دیا ’بستہ‘۔ جس پر وہ مسکرا دیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Shiraz Hassan
Image caption دینہ پاکستان کی دارالحکومت اسلام آباد سے لگ بھگ سو کلو میٹر کے فاصلے پر، جی ٹی روڈ کے کنارے ضلع جہلم کا تاریخی قصبہ ہے۔

گلزار اور دینہ کے تعلق کے بارے میں اب بہت سے لوگ جانتے ہیں اور یہ بھی کہ دینہ اور ضلع جہلم کی ادبی روایات بہت قدیم ہیں۔

جہلم کی ادبی سرگرمیوں کے حوالے سے دینہ کے شاعر شہزاد قمر نے بتایا کہ اس خطے نے بہت سے باکمال لکھنے والے پیدا کیے ہیں۔ یہاں کے لکھنے والوں کی خاص بات، ان کی مزاحمتی سوچ ہے۔

انقلابی شاعر اور مزدور رہنما درشن سنگھ آوارہ سے لے کر موجودہ دور میں تنویرسپرا، اقبال کوثر اور دوسرے لکھنے والوں کا انداز مزاحمتی رہا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ ظلم کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ آج بھی دینہ کے بہت سے شاعروں اور ادیبوں کا انداز مزاحمتی پہچان رکھتا ہے۔

دینہ کے ایک اور بزرگ شاعر صدیق سورج سے جب پوچھا گیا کہ دینہ کے لوگ گلزار کو کتنا جانتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ گلزار کے بارے میں تو سبھی جانتے تھے لیکن گلزار اور دینہ کے تعلق کے بارے میں زیادہ لوگوں کو گلزار کے یہاں آنے کے بعد ہی علم ہوا۔

دینہ میں گلزار کے نام سے گلی اور سکول کے ایک بلاک کا نام گلزار پر رکھنا دینہ کے لوگوں کے دلوں میں گلزار کے لیے محبت کا اظہار ہے اور وہ کہتے ہیں کہ انھیں گلزار کے دوبارہ یہاں آنے کا انتظار ہے۔

اسی بارے میں