مرزا اطہر کا تیسرا ناول ’حسن کی صورت حال‘

Image caption حسن کی صورت حال مرزا اطہر بیگ کا تیسرا ناول ہے

مرزا اطہر بیگ گورنمنٹ کالج لاہور میں 32 برس تک فلسفہ پڑھانے کے بعد دو برس پہلے صدر شعبہ فلسفہ کی حثیت سے ریٹائر ہوئے۔

ان کا پہلا ناول غلام باغ جو سنہ 2006 میں شائع ہوا تھا، بالعموم اردو کا پہلا مابعدِ جدید ناول تصور کیا جاتا ہے۔ مرزا کا دوسرا ناول ’صفر سے ایک تک‘ بھی غیر روایتی انداز کی ایک ایسی تحریر تھی جو نو آبادیاتی دور کے بعد جنوبی ایشیا میں پیدا ہونے والی سماجی اور ثقافتی صورتِ حال کی غمازی کرتی تھی۔

اب اُن کا تیسرا ناول ’حسن کی صورت حال، خالی ۔۔۔ جگہیں ۔۔۔ پر کرو‘ منظر عام پر آیا ہے۔ اس موقعے پر بی بی سی نے اُن سے سوال کیا کہ اِس ناول میں انھوں نے سکرین پلے کی جو تکنیک استعمال کی ہے اس کا خیال انھیں کس طرح آیا۔

’میں نے پاکستان ٹیلی ویژن کے لیے 15 سیریل اور سو سے زیادہ ڈرامے تحریر کیے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس تحریری تجربے نے مجھے سکرین کے لیے لکھنے کا ڈھنگ سکھا دیا تھا۔ لیکن میرے موجودہ ناول میں ایک مکمل سکرین پلے کا در آنا محض اتفاق نہیں تھا اور نہ ہی یہ کسی چالو فیشن کا شاخسانہ تھا بلکہ یہ خارجی حقیقت کو دو سطحوں پر جانچنے پرکھنے کی ایک مشق تھی۔

’جو حقائق عام زندگی میں پیش آ رہے ہیں اُنھی کی ایک مُضحک صورت حال ہمیں فلمی سطح پر دکھائی دیتی ہے اور جو کچھ فلم میں ہو رہا ہے اس کا عکس اصل زندگی میں نظر آتا ہے ۔۔۔ گویا حقیقت کو کثیر سطحی انداز میں دیکھا اور پرکھا جاتا ہے۔‘

موجودہ ناول کی ایک خاص بات یہ ہے کہ انسانی کرداروں کے ساتھ ساتھ اس میں بے جان اشیا بھی کہانی کو آگے بڑھاتی ہیں۔ مثلاً میز، میگافون اور وائِن کی بوتل۔ مصنف کے نزدیک یہ اشیا بھی انسانی کرداروں کی طرح اہم ہیں کیونکہ ہماری روز مرّہ زندگی میں اشیا کو انسانوں سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ جب ہم اپنی توجہ اشیا کی تاریخ بیان کرنے پہ صرف کرتے ہیں تو انسانوں کی دنیا کچھ دیر کے لیے منجمد ہو جاتی ہے اور اشیا ہمارے بیانیے میں مرکزی حیثیت اختیار کر لیتی ہیں۔

اِس ’اشیا مرکز‘ صورتِ حال میں ہم انسانی کہانیوں کو ایک مختلف تناظر میں دیکھنے کے انوکھے تجربے سے دوچار ہوتے ہیں۔

مرزا اطہر بیگ کے چھ سو صفحات پر پھیلے ہوئے اِس ناول کے پس منظر میں اُن کا چار صفحات کا ایک مختصر افسانہ ہے۔ لیکن ناول محض ایک طویل بیانیے کا نام تو نہیں ہوتا ۔۔۔ تو آخر ایک چھوٹی سی کہانی کو پھیلا کر ناول میں تبدیل کیسے کر دیا گیا؟

مرزا صاحب کا کہنا ہے کہ ہر کہانی کو طوُل دے کر ناول میں بدل ڈالنا ممکن نہیں ہے۔ 2009 میں جب انھوں نے مختصر افسانہ ’اُچٹتے خوف کی داستان‘ لکھا تو محسوس کیا کہ اس کے کئی حصوں میں پھیلاؤ کی گنجائش موجود ہے ۔۔۔ اور جب اس پھیلاؤ کو سپردِ قلم کرنے کا عمل شروع ہوا تو پھر بات سے بات نکلتی چلی گئی اور بالآخر یہ پورا ناول تیار ہو گیا۔

مُصّنف نے جس بے باکی سے ہیئت اور ساخت کے تجربات کیے ہیں انھیں دیکھ کر اکثر لوگوں کے دِل میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ ہمت اور خود اعتمادی ناول نگار میں کس طرح پیدا ہوئی۔ کیا وہ ایک لمحے کے لیے بھی اس بات پہ فکر مند نہیں ہوئے کہ قاری اس ناول کے ادق مندرجات تک کیسے رسائی حاصل کرے گا؟

مرزا کا کہنا ہے کہ ہر لکھاری اپنے قارئین خود پیدا کرتا ہے۔

’۔۔۔ اور میں نے جو قارئین پیدا کیے ہیں مجھے اُن پر مکمل بھروسہ ہے۔ جب میں کوئی نادر خیال پیش کرتا ہوں یا کسی عام خیال کو ایک نادر انداز میں پیش کرتا ہوں تو میرے قارئین اس کو سراہتے ہیں۔ عالمی سطح پر جس طرح کا ادب تخلیق ہو رہا ہے اُس سے صرف لکھنے والے ہی آشنا نہیں بلکہ قارئین بھی جانتے ہیں کہ عالمی ادب کس طرف جا رہا ہے۔ چنانچہ میں اپنی تحریر میں کوئی انوکھا تجربہ بھی کرتا ہوں تو میرے قارئین ایک زیرِ لب مسکراہٹ کے ساتھ اسے قبول کر لیتے ہیں۔‘

پاکستان میں فِکشن کی موجودہ صورت حال کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟

مرزا صاحب کا جواب تھا: ’ابھی تک بیشتر لکھنے والے روایتی سانچوں ہی کو استعمال کر رہے ہیں۔ مجھے اُن پرانے سانچوں سے وحشت ہوتی ہے اور جب اُن سانچوں کو توڑتا ہوں تو اس شکست و ریخت کی سب سے زیادہ تکلیف میرے ہم عمر قارئین کو ہوتی ہے۔ نوجوان لوگ میری بُت شکنی پہ خاصے مسرور دکھائی دیتے ہیں اور میرے قارئین کی زیاہ تعداد نوجوانوں ہی پر مشتمل ہے۔‘

’حسن کی صورت حال‘ نامی اس ناول کے بعد مرزا اطہر بیگ اپنے چوتھے ناول پر کام کر رہے ہیں جو اس سال کے آخر تک منظرِ عام پر آ جائے گا۔

اسی بارے میں